کازا پر بڑی کمپنیوں کا مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر میوزک کی فائلیں شئیر کرنے پر کاپی رائٹس کے جھگڑے میں تازہ پیش رفت میں بہت سی میوزک ریکارڈنگ کمپنیاں سوفٹ وئیر ’کازا‘ بنانے والی کمپنی پر مقدمہ کررہی ہیں۔ کازا ایک ایسا مشہور زمانہ سوفٹ وئیر ہے جس کی مدد سے انٹرنیٹ پر میوزک کی فائلوں کا آسانی سے تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ کازا کی مالک کمپنی، شرمان نیٹ ورک کو، جو ویسے تو آسٹریلیا میں مقیم ہے لیکن بحرالکاہل کے ایک دور دراز کے جزیرے ونواتو میں رجسٹرڈ ہے، نو دیگر کمپنیوں کے ساتھ اس مقدمے کا سامنا ہے۔ مقدمہ کرنے والی ریکارڈنگ کمپنیوں نے کازا کو کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا ایک ’ایسا انجن قرار دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔‘ شرمان کا کہنا ہے کہ اس کے سوفٹ وئیر کازا کو لوگ جیسے استعمال کرتے ہیں اس پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ مقدمہ کرنے والی ریکارڈنگ کمپنیوں میں ای ایم آئی ، وارنر ، سبنی بی ایم جی ، اور یونیورسل شامل ہیں۔ کمپنیوں کے وکیل نے سڈنی میں ایک عدالت کو بتایا کہ کازا کا سوفٹ وئیر استعمال کرکے ہر ماہ دس کروڑ لوگ ایک ارب سے زیادہ فائلوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس سال فروری کے مہینے میں ریکارڈنگ کمپنیوں نے کازا کمپنی کے دفتر پر چھاپہ بھی ڈلوایا تھا تاکہ مقدمے کے لئے ثبوت مل سکیں۔ کازا اپنا دفاع منگل کے روز پیش کرے گا۔ پچھلے سال دسمبر میں کازا اسی طرح کا ایک مقدمہ ہالینڈ میں جیت گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||