دانت اگائے جا سکیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب نئے متبادل دانت نکل سکیں گے جس کے باعث مصنوعی دانتوں کا استعمال ختم ہو جائے گا۔ لندن کے کنگز کالج کو پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم دی گئی ہے تاکہ وہ سٹیم سیلز کی مدد سے منہ میں نئے دانت اگانے کی ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنا سکے۔ کنگز کالج لندن کی قائم کردہ کمپنی ’اوڈونٹِس‘ امید کر رہی ہے کہ وہ چوہوں پر اس تحقیق کے تجربات کے بعد آئندہ دو برس میں انسانوں پر آزمائشی تجربات کا آغاز کرے گی۔ سٹیم سیلز کو دانتوں میں نمو پذیر کئے جانے کے بعد انہیں مریض کے منہ میں لگایا جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس عمل کے بعد متبادل نئے دانت دو ماہ میں پوری طرح نکل آئیں گے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی اور سہولت کے عام لوگوں تک پہنچنے میں پانچ برس لگ سکتے ہیں۔ برطانوی لوگ پچاس سے زائد برس کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اوسطاً بارہ دانت کھو چکے ہوتے ہیں۔ لندن کنگز کالج کے ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ میں جاری اس تحقیق کے پیچھے پروفیسر پال شارپ کی کوششیں کارفرما ہیں جو اس نئی تکنیک کے جینیاتی پہلو پر تحقیق کر رہے ہیں۔ پروفیسر پال شارپ کے بقول اس ٹیکنالوجی کا اہم فائدہ یہ ہے کہ ایک جاندار دانت مصنوعی دانت کی نسبت اپنے آس پاس کے ٹِشوز کی زیادہ بہتر طریقے سے حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چبانے کے عمل کے دوران دانت حرکت بھی کرتے ہیں اور اسی باعث آس پاس کے مسوڑوں اور دانتوں کی صحت بحال رہتی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نصب کئے جانے والے جاندار دانتوں پر بھی اتنا ہی خرچہ آئے گا جتنا مصنوعی طریقے سے لگائے گئے دانتوں پر آتا ہے یعنی ڈیڑھ سے دو ہزار پاؤنڈ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||