ڈھاکہ کی منوشی فرار ہو گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں واقع چڑیا گھر سے ایک شیرنی فرار ہو کر شہر کی گلیوں میں گھومتی رہی لیکن کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ شیرنی کا نام منوشی ہے اور اس کی عمر نو برس ہے۔ وہ پیر کی صبح اپنے پنجرے سے نکل بھاگی لیکن چڑیا گھر کے محافظوں کو اس وقت علم ہوا جب وہ منوشی کو ناشتہ دینے کے لئے آئے۔ منوشی کے چڑیا گھر سے نکل بھاگنے کی خبر پر ڈھاکہ کے شہریوں میں سراسیمگی دوڑ گئی کیونکہ شہریوں کو چوکنا رہنے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ تاہم پولیس نے منوشی کو نیم بےہوش کر کے دوبارہ چڑیا گھر پہنچا دیا ہے۔ منوشی ڈھاکے کے نیشنل زُو میں پیدا ہوئی اور وہیں پروان چڑھی۔ یہ چڑیا گھر ڈھاکہ کے میرپور نامی علاقے کے قریب واقع ہے اور یہاں درجنوں شیروں کو رکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق منوشی اپنا زنگ آلود پنجرہ توڑ کے باہر نکلی اور چڑیا گھر کی دیوار میں موجود ایک شگاف سے شہر کی طرف چل پڑی۔ ایک مقامی دیہاتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے منوشی کے غرانے کی آواز سنی اور اپنے بچوں کو لے کر گھر کے کواڑ بند کر کے بیٹھ گئے کیونکہ وہ بہت خوفزدہ تھے۔ تاہم منوشی کو چند ہی گھنٹوں بعد دوبارہ پکڑ لیا گیا۔ پانچ رکنی پولیس ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شیرنی ایک جھاڑی میں دب کر بیٹھی تھی اورچڑیا گھر کا عملہ اسے پکڑنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے پولیس کو ہدایت کر رکھی تھی کہ اگر چڑیا گھر کا عملہ منوشی پر قابو پانے میں ناکام رہتا ہے تو فائر کھول دیا جائے۔ تاہم چڑیا گھر کے عملے نے دو ڈارٹوں (چھوٹے چھوٹے تیر) کی مدد سے منوشی کو نیم بے ہوش کر دیا اور اسے چڑیا گھر کے اسپتال پہنچا دیا گیا۔ چڑیا گھر کی اعلیٰ انتظامیہ نے اس معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے کہ منوشی فرار ہونے میں کامیاب کیسے ہوئی؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||