آپ تھکاوٹ محسوس کیوں کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہThinkstock
آج کے دور میں اکثر لوگ تھکے ہوئے، اداس اور مایوس نظر آتے ہیں۔
بہت سے لوگ روزمرہ کے کام کرنے میں ہی تھک جاتے ہیں، کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کرتا۔
چھوٹے موٹے کام بھی تھکا دینے والے اور بورنگ لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو ایک بوجھ محسوس ہوتا رہتا ہے۔
برطانیہ کی اینا كیتھرينا شوفنر کو ہی لیجیے وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتی تھیں یوں لگتا تھا کہ جیسے جسم میں طاقت ہی نہ ہو۔
اینا گھریلو کام میں ہی اتنا تھک جاتی تھیں کہ ان کے لیے دفتر کا کام نمٹانا بہت بھاری پڑتا تھا۔
مگر اینا کہتی ہیں کہ تھکاوٹ ختم کرنے کے لیے وہ جب بھی بیٹھتی تھیں تو اپنا فون چیک کرنا نہیں بھولتی تھیں۔
جیسا کہ ای میل پر ان کی تھکاوٹ مٹانے کا کوئی نسخہ آنے والا ہو۔ اینا کہتی ہیں کہ انہیں بیزاری محسوس ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
آج دنیا میں بےشمار لوگوں کی حالت اینا جیسی ہے ان میں سے کئی تو مشہور شخصتات ہیں۔ جیسا کہ گلوکارہ ماریا كیرے یا پھر پوپ بینڈکٹ سولہویں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان لوگوں کو بھی تھکاوٹ کی یہ بیماری ہوئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ بیماری اسی دور کی پیدائش ہے۔
کیا یہ واقعی سچ ہے؟ یا سستی کسی کو یہ دور عارضی ہے؟ یا پھر یہ انسان کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔
اینا شوفنر برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں میڈیکل کی مؤرخ ہیں اسی لیے انہوں نے خود ہی اس تھکاوٹ کی وجہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کا نتیجہ ایک کتاب کی شکل میں سامنے آیا.جس کا نام ہے(Exhaustion: A History). یہ کتاب انتہائی دلچسپ ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تھکاوٹ، جسم میں طاقت کی کمی اور دماغی تھکاوٹ کو ڈاکٹروں یا ماہرین نفسیات نے کس طرح سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں تھکاوٹ ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ تھکاوٹ آپکی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
جرمنی کے ڈاکٹروں کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 50 فیصد ڈاکٹر تھکان محسوس کرتے ہیں۔
ان میں سے بہت سے لوگ ہر وقت بیزار محسوس کرتے ہیں۔کام میں ان کا ذرا بھی دل نہیں لگتا اور کام کا خیال آتے ہی جسم کی طاقت ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
مگر ایک سروے کے مطابق عورتیں اور مرد تھکاوٹ سے الگ الگ طرح سے نمٹنے ہیں۔
مرد اس وجہ سے زیادہ طویل چھٹیاں لیتے ہیں ان مقابلے خواتین، تھکاوٹ کی حالت سے نمٹنے کے لیے کم چھٹیاں لیتی ہیں۔
ایک جرمن اخبار کے مطابق امیر لوگوں نے ڈپریشن کو نیا نام دے دیا ہے۔ ’جب وہ کام نہیں کرنا چاہتے، تو اسے ’برن آؤٹ‘ کا نام دے دیتے ہیں کیونکہ کامیاب لوگ خود کو ڈپریشن کا شکار نہیں بتانا چاہتے۔وہیں جو لوگ ناکام ہوتے ہیں، انھیں ڈپریشن کا شکار بتا دیا جاتا ہے۔‘
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن اور تھکاوٹ، دو بالکل مختلف چیزیں ہیں. ڈپریشن میں لوگ اعتماد گنوا دیتے ہیں یا پھر وہ خود ہی سے نفرت کرنے لگتے ہیں وہیں تھکاوٹ کے شکار لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے خود کے بارے میں ان کی رائے وہی رہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
اینا کہتی ہیں کہ تھکاوٹ کے دوران غصہ، بنیادی طور پر ان کے کام کے ماحول کے خلاف بغاوت ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس دور کا ماحول ایسا ہے، جس میں انسان کا دماغ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
لوگوں پر زیادہ سے زیادہ کام کرنے اور نئے نئے اہدف حاصل کرنے کا دباؤ رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں جو کام دیا گیا ہے، وہ اس کے قابل ہیں۔
یعنی آپ روز ایک جدوجہد میں جیتے ہیں اور روز آپ پر کام کا، کچھ بہتر کرنے کا دباؤ ہوتا ہے اس سےذہنی تناؤ اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
بہت سے لوگوں کے لیے تو کام کے علاوہ گھر کے حالات کا دباؤ بھی ہوتا ہے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی چیلنج سوار رہتا ہے۔
زندگی کا پہیہ ہے کہ رکتا ہی نہیں، اسے آرام کا موقع نہیں ملتا اور آرام نہ ملنے سے ہمارا دماغ تازگی محسوس نہیں کرتا تو ہمارے دماغ کی بتی نہیں جلتی اور ہمارے جسم کو چلانے والی بیٹری کبھی مکمل طور پر ریچارج نہیں ہو پاتی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
تاہم اینا کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے تھکاوٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ انسان پرانے دور میں بھی اس بیماری کا شکار ہوا کرتے تھے۔
اس کا سب سے ابتدائی ذکر رومن ماہرین نے کہا ہے۔
یونانی ڈاکٹر ہپپوكریٹس کو یہ لگتا تھا کہ دماغی اور بدن کی بیماریوں کی وجہ خون میں تلاش کی جا سکتی ہے۔
جسم میں سیاہ رنگ کے مادے کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت مانا جاتا تھا کہ دماغ کی رگوں کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ وہ تکلیف میں ہے اور دماغ کو تھکاوٹ ہو رہی ہے اگرچہ آج اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ملتی۔
جب یورپ میں عیسائی مذہب اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا ، اس دور میں تھکاوٹ کی شکایت کرنے والوں میں روحانی طاقت کی کمی بتائی جاتی تھی۔ ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ وہ لوگ مذہب سے دور بھاگتے ہیں۔
آج کی تاریخ میں ڈاکٹر اسے’نيوراستھینیا‘ نام کی بیماری بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق دماغ سے الیکٹرک پیغام جسم کے دوسرے حصوں کو جاتے ہیں لیکن جس کی نسیں کمزور ہوتی ہیں، اس کے بدن کو یہ پیغام نہیں پہنچ پاتے اور ایسے لوگوں کا کچھ بھی کام کرنے کا دل نہیں چاہتا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
یہ واضح ہے کہ صدیوں سے لوگ کام سے تھکاوٹ، ماحول سے بوریت اور بیزار لیکن تھکاوٹ ہمارے رہن سہن کا اٹوٹ حصہ رہی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم آج بھی پوری طرح نہیں سمجھ پائے کہ تھکاوٹ، جسم میں طاقت کی کمی کی اصل وجہ کیا ہے اور کئی بار یہ اچانک سے ختم کیسے ہو جاتی ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی علامات جسم میں پہلے ظاہر ہوتی ہیں یا پھر دماغ اس کی گواہی پہلے دیتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ تھکاوٹ معاشرے کے ماحول کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر ہمارے خود کے برتاؤ کا نتیجہ ہے۔
شاید تھکاوٹ کا سچ ان سب کو ملا کر بنتا ہے کیونکہ ہمارے احساسات اور ہمارا اعتماد ہم پرگہرا اثر ڈالتے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ جذباتی تکلیف سے ہمیں جلن اور درد محسوس ہوتا ہے کئی بار تو اس کی وجہ سے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جاتا ہے.
اینا کے مطابق آج زیادہ لوگوں کو تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ہماری زندگی کا اہم مسئلہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
کام کے زیادہ موقع ملنے کی وجہ سے لوگ اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کر رہے ہیں اور ان کے کام کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔
اینا یہ بھی مانتی ہیں کہ بار بار ای میل چیک کرنا، ہمیشہ سوشل میڈیا پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا بھی ہمیں تھكاتا ہے۔
اینا کے مطابق، نئی تکنیک کی وجہ سے زندگی آسان ہوئی ہے تو اس کی وجہ سے بہت مصیبتیں بھی آئی ہیں۔
آج اپنے دفتر کا بوجھ لوگ دماغ پر لاد کر گھر پہنچتے ہیں اور وہاں میل چیک کرکے خود کو اس بوجھ کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں تھکاوٹ تو ہوگی ہی۔
تھکاوٹ اور بیزاری کا کوئی ٹھوس علاج بھی نہیں۔ کچھ لوگ ماہرین نفسیات کی مدد لیتے ہیں تو کچھ لوگ چھٹیاں لے کر تھکاوٹ اتارتے ہیں تو کچھ لوگ خاندان دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزار کر اپنی، تھکاوٹ سے نجات پاتے ہیں۔
اینا کہتی ہیں کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کو کس چیز سے تھکاوٹ ہوتی ہے اور کس کام سے حوصلہ ملتا ہے یا خوشی ملتی ہے یعنی تھکاوٹ کی ہر انسان میں مختلف وجہ ہے ہاں، اس بیماری کے آپ اکیلے مریض نہیں مگر، اس سے نمٹنے کا طریقہ آپ کا اپنا ضرور ہو سکتا ہے۔







