امریکہ میں خواتین کی ویاگرا کی منظوری

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کی خوارک اور ادویہ کی انتظامیہ ایف ڈی اے نے خواتین میں جنسی خواہشات میں اضافہ کرنے والی دوا کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
اس دوا کو ’فیمیل ویاگرا‘ یعنی خواتین کی ویاگرا کے نام سے پکارا گیا ہے اور اس کے ذریعے خواتین کے دماغ کے بعض حصے کو تقویت پہنچا کر ان میں شہوت بیدار کیاجانا ہے۔
دوا بنانے والی کمپنی سپراؤٹ فرماسیوٹیکلز کی فلیبینسرین نامی دوا کو ایف ڈی اے پاس کر دیا ہے۔
اس دوا کو ان خواتین میں جنسی خواہشات کو بیدار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو حیض کے بند ہونے سے قبل جنسی عمل سے دور ہوتی جاتی ہیں۔
اس دوا کو اس کے ’معمولی اثرات‘ کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔
اس دوا کی اقسام بازار میں ’ایڈی‘ کے نام سے منظوری کے لیے پہلے بھی پیش کی گئی تھیں لیکن کبھی منظوری حاصل نہ کرسکیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اسے پہلے بھی ایف ڈی اے نے غیر موثر ہونے اور متلی، سر چکرانے اور بے ہوش ہوجانے جیسے مضر اثرات کی وجہ سے دو بار مسترد کر دیا تھا۔
اس دوا کا استعمال کرنے والی خواتین نے بتایا کہ مہینے میں ایک آدھ بار ہی انھیں جنسی طور پر اطمینان بخش تجربہ ہوا جسے ماہرین ’معمولی اثر‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوا کو در اصل جرمنی کی کمپنی بوئہرنجر انجلہیم نے تیار کیا تھا لیکن جب ایف ڈی اے نے اسے مسترد کردیا تو سپراؤٹ نے اس دوا کو اس کمپنی سے خرید لیا۔
جون کے اوائل کی میٹنگ میں ایف ڈی اے نے اس دوا کے مقصد کو ’خواتین میں حیض بند ہونے سے جنسی خواہشات میں گربڑی (ایچ ایس ڈی ڈی) کے علاج کے لیے‘ بیان کیا تھا۔
ایچ ایس ڈی ڈی مسئلے سے دوچار خواتین اس دوا کی ایک گولی ہر رات لے سکتی ہیں تاہم یہ فیصلہ ڈاکٹر کو کرنا ہوگا کہ آیا کوئی خاتون اس مسئلے سے دوچار ہے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
فی الحال امریکی بازار میں ایچ ایس ڈی ڈی یا پھر خواتین میں جنسی خواہشات کے اضافے کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق ’یہ ایسی حالت ہے جس کی طبی ضرورت کو واضح طور پر پورا نہیں کیا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ سپراؤٹ کمپنی میں صرف 25 کام کرنے والے ہیں جبکہ فائزر اور پراکٹر اینڈ گیمبل جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی خواتین میں جنس خواہشات کے تعلق سے تحقیق کی تھی لیکن بعد میں انھوں نے اسے ترک کر دیا۔
سپراؤٹ کی سی ای او سینڈی وائٹ ہیڈ نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ ایڈی کو ’محتاط انداز میں پروموٹ‘ کریں گی۔
خواتین کے حقوق کی کئی تنظیموں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔







