’کوئی روم سروس نہیں، اب کھانا خود ہی ڈھونڈو‘

کوآلہ

،تصویر کا ذریعہAWMRRO

،تصویر کا کیپشنجیریمی کوآلہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر بہت شیئر ہوئیں

اس چھوٹے کوالا کو واپس جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی تھیں۔

تصاویر میں اس کوالا کے جلے ہوئے پنجوں کا علاج ہوتا ہوا دکھایا گیا تھا۔

اس جانور کا نام جیریمی رکھا گیا اور یہ اس ماہ کے اوئل میں آسٹریلیا کے ایڈلیڈ ہلز کی جنگل کی آگ میں زخمی ہوا تھا۔

آرون ماچاڈو جن کے کلینک میں اس جانور کا علاج ہوا کہتے ہیں کہ وہ بالکل تندرست ہو چکا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بس اسے اس بات کی عادت ڈالنی پڑے گی کہ اب اسے روم سروس نہیں ملے گی۔‘

اس کوالا کا پیار سے نام جیریمی سپیرو کے نام پر رکھا گیا جو کہ آگ بجھانے والے وہ رضاکار تھے جنہوں نے اس کی جان بچائی۔

جیریمی کا پورٹ میلبورن میں آسٹریلین مرین وائلڈلائف ریسرچ آرگنائزیشن اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن میں علاج ہوا۔

جیریمی کو وہ تصویر جس میں وہ الٹے لیٹے ہیں اور ان کے چاروں پنجے ایک محلول میں تر ہیں سوشل میڈیا پر بہت شیئر ہوئی۔

وائلڈلائف آرگنائزیشن کے صدر ماچاڈو نے کہا کہ یہ اہم تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوالا کے زخم خراب نہ ہوں، کیونکہ اس کا مدافعت کا نظام اگرچہ ختم نہیں ہوا لیکن بہت بری حالت میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جلا ہوا ہونا ایک چیز ہے اور جلی ہوئی جگہ کا خراب ہونا ایک دوسری چیز۔

انھوں نے کہا کہ پہلے پہل تو کوالا اپنے بچانے والوں سے ڈرا ہوا تھا۔ لیکن بعد اسے اس وقت سنبھالنا آسان ہو گیا جب اسے سمجھ آیا کہ ہم اسے کھا نہیں جائیں گے۔

اس ماہ جنوبی آسٹریلیا کے جنگلوں کی آگ میں سینکڑوں جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔

آگ جنوب مشرقی ایڈلیڈ سے تین منٹ کی ڈرائیو کے دوری میں 12,500 ہیکٹرز کے علاقے میں پھیل گئی تھی۔

آگ کی وجہ سے سو سے زیادہ افراد کو ہسپتال میں طبی امداد دی گئی جبکہ کم از کم 32 گھر تباہ ہو گئے۔