’ایبولا کا پہلا شکار چمگاڈر سے کھیلنے والا بچہ تھا‘

- مصنف, مشیل رابرٹس
- عہدہ, ہیلتھ ایڈیٹر بی بی سی آن لائن
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جان لیوا ایبولا وائرس کی شروعات گنی کے دو سال بچے امیل اومونو کے اس کھوکھلے درخت میں کھیلنے سے ہوئی جہاں بہت سی چمگادڑوں نے ڈیرا ڈال رکھا تھا۔
سائندانوں نے بچے کے گاؤں میں لوگوں سے ایبولا کی وجوہات جاننے کے لیے بات کی اور وہاں سے نمونے بھی اکٹھے کیے۔
سائندانوں کی اس ٹیم کی تحقیقات ای ایم بی او مولیکیولر میڈیسن جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔
ایبولا ٹریل
میلینڈو 31 گھرانوں پر مشتمل ایک گاؤں ہے جو گنی کے گھنے جنگلات میں گھرا ہوا ہے۔ اس گاؤں میں بڑی تعداد میں چمگادڑ موجود ہیں اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایبولا وائرس انھی چمگادڑوں سے دو سالہ امیل اومونو کو منتقل ہوا۔
ایبولا کے آغاز کی وجوہات معلوم کرنے والی ٹیم نے ڈاکٹر فیبین لینڈرٹز نے چار ہفتوں پر محیط تحقیقاتی سفر میں جب امیل کے گاؤں کا دورہ کیا تو انھیں پتا چلا کہ یہ کھوکھلا درخت امیل کے گھر سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔

گاؤں کے لوگوں نے ٹیم کو بتایا کہ امیل اور دوسرے بچے اسی کھوکھلے درخت میں کھیلتے تھے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رواں سال مارچ میں جب اس درخت کو آگ لگی تو چمگادڑوں کی بارش برس رہی تھی۔
بغیر دم کے بہت سارے ان چمگادڑوں کو گاؤں کے باسیوں نے کھانے کے لیے جمع کر لیا تھا لیکن حکومت نے اگلے دن ان چمگادڑوں کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی جس کے بعد مرے ہوئے چمگادڑ پھینک دئیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجربات:
سائنسدانوں کی ٹیم نے ٹیسٹ کرنے کے لیے جلے ہوئے کھوکھلے درخت کی راکھ کے نمونے حاصل کیے۔ انھیں گاؤں والوں کی جانب سے ضائع کیے گئے چمگادڑوں کا گوشت تو ٹیسٹ کرنے کے لیے نہیں ملا لیکن اس درخت کے قریب وہ کچھ زندہ چمگادڑوں کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

ان چمگادڑوں میں ایبولا وائرس کے تو کوئی شواہد نہیں ملے لیکن پہلے کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا تھا کہ چمگادڑ میں ایبولا کے جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔
جرمنی کے رابرٹ کاچ انسٹٹیوٹ کے ڈاکٹر فیبین لینڈرٹز کے مطابق ایسا شاذوناظر ہی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر زیادہ چمگادڑوں میں ایبولا وائرس ہوتا تو ایبولا وائرس کثرت سے اور بار بار پھیلتا۔
ڈاکٹر فیبین کے مطابق چمگادڑوں کے بارے میں زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اب درختوں سے نکل کر انسانوں کے قریب رہنے لگے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ چمگادڑوں کو مارنے سے ایبولا ختم نہیں ہو گا کیونکہ یہ ایسے کیڑے مکوڑوں اور مچھروں کو کھا جاتے ہیں جن سے ملیریا پھیلتا ہے۔







