انٹرنیٹ نہ سہی، آؤٹرنیٹ تو ہے

،تصویر کا ذریعہJAMES DUNCAN
کیا آج یہ ممکن ہے کہ ایک مکمل لائبریری کو سمیٹ کر آپ کی جیب میں رکھ دیا جائے؟ زیادہ تر لوگ اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اس کے لیے آپ کو صرف ایک موبائل فون چاہیے اور اس کے ساتھ انٹرنیٹ کنکشن۔
لیکن ان بے شمار لوگوں کا کیا ہوگا جو انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہیں۔ سید کریم کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب بھی ’ہاں‘ ہے۔
لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
اسی سوال کے جواب کے لیے ٹیڈ گلوبل نامی کمپنی سے منسلک سید کریم کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو آنے کی دعوت دی گئی ہے جہاں وہ ایک کانفرنس میں شرکت کریں گے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئے آلات کو منظر عام پر لانا ہے۔
سید کریم نے ’آؤٹرنیٹ‘ کے نام سے ایک کمپنی بنائی ہے جس کا مقصد اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے کہ دنیا کی اس دو تہائی آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے جس کے پاس انٹرنیٹ کنکشن نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید کریم کا کہنا تھا کہ جب آپ انٹرنیٹ کی بات کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ اور معلومات تک رسائی۔ ’انٹرنیٹ کو جو چیز اتنا مہنگا بناتی ہے وہ دوسرے لوگوں سے رابطہ ہے۔ اسی لیے آؤٹرنیٹ رابطے کی بجائے معلومات تک رسائی کی بات کرتا ہے۔‘
سید کریم کے منصوبے کا مقصد دنیا بھر سے بہترین معلومات کی ایک ایسی لائبریری بنانا ہے جس تک آپ انٹرنیٹ کے بغیر بھی رسائی حاصل کر سکیں۔ اس لائبریری کے لیے درکار معلومات اور کتب بلاقیمت ’وکی پیڈیا‘ اور ’پراجیکٹ گوٹنبرگ‘ جیسی مشہور ویب سائیٹس سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سید کریم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مذکورہ لائبریری کو ہر ماہ ’اپ ڈیٹ‘ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
لائبریری کے علاوہ آؤٹرنیٹ پر ایسے معلومات بھی دستیاب ہوں گی جنھیں مسلسل تبدیل یا اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً خبریں اور کسی علاقے میں قدرتی آفات کے حوالے سے معلومات، جنھیں ہرگھنٹے میں کئی مرتبہ اپ ڈیٹ کیا جا سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہgoogle
منصوبے کے مطابق جب یہ سب معلومات ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں گی تو پھر انھیں ایک سیارے کے ذریعے نشر کیا جائے گا اور زمین پر لگے ہوئے ’رسیور‘ کے ذریعے یہ معلومات ان علاقوں میں جمع ہوتی جائیں گی جہاں انٹرنیٹ نہیں ہے۔
سیارے سے معلومات اکٹھی کرنے کے بعد انٹینا لگے ہوئے یہ رسیور ’وائی فائی‘ لِنکس بنائیں گے جن تک آپ اپنے موبائل کے ذریعے رسائی حاصل کر لیں گے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے سید کریم کا کہنا ہے کہ اگر ہم افریقہ کے کسی دور دراز دیہات میں انٹینا لگا کر ایسا ایک ’ہاٹ سپاٹ‘ تنصیب کر دیتے ہیں تو اس سے گرد و نواح میں رہنے والے 300 افراد درجنوں کتابوں اور دوسری معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
’ اگر آپ سیارے سے معلومات حاصل کرنے والے ایسے ہاٹ سپاٹ کے قریب ہیں تو آپ اپنے موبائل فون پر آؤٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے صفحہ اوّل پر جا کر اپنی پسند کے لِنک پر کِلک کر سکیں گے۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی ’آف لائن‘ ویب سائٹ۔ یہاں آپ کو کئی اعداد وشمار دستیاب ہوں گے جو ایک لائبریری کی طرح مختلف فائلوں میں پڑے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
انٹرنیٹ کے برعکس آؤٹرنیٹ چونکہ یکطرفہ رابطے کا ذریعہ ہے اس لیے آپ کو اس پر ای میل یا ’چیٹ‘ کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔ تاہم صارفین کو یہ سہولت میسر ہوگی کہ اگر وہ کسی خاص کتاب یا معلومات تک رسائی چاہتے ہیں تو وہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اپنی فرمائش بھجوا سکیں گے۔
سید کریم کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کی کمپنی فضا میں موجود انہی سیاروں پر انحصار کر رہی ہے جو آڈیو اور ویڈیو معلومات جمع کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں نشر کرتے ہیں۔ ’اس طرح ہم اِسی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہے ہیں یا اسے تھوڑا بہت موڑ توڑ رہے ہیں جو لوگوں کو باآسانی اور سستے داموں دستیاب ہے۔ ہم چاہتے ہیں لوگوں کو نئی چیزیں کم سے کم خریدنا پڑیں۔‘
’ابھی تو ہم بڑے سیاروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ تاہم آگے چل کر ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ایسے چھوٹے چھوٹے سیارے چھوڑیں جو فضا میں بہت بلندی پر نہ جائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم ایسے چھوٹے اینٹینوں کی مدد سے ان سیاروں تک رسائی حاصل کر لیں جو لوگ اپنی جیبوں میں لیے گھوم پھر سکیں گے۔‘







