بھارتی خلائی مشن مریخ کے مدار میں داخل

،تصویر کا ذریعہepa
بھارت میں خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کا خلائی جہاز ’منگل یان‘ کامیابی کے ساتھ مریخ کے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس موقعے پر بھارت کی کامیابی پر سائنس دانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج بھارت دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے پہلی ہی بار میں یہ کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی بھارت کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کی ہے۔
اسرو نے بدھ کی صبح سات بج کر 17 منٹ پر مریخ سیارے کے لیے روانہ کی جانے والی بھارت کی خلائی گاڑی ’منگل یان‘ کا مائع یا سیال ایندھن والا انجن چلانا شروع کر دیا تھا۔
اسرو کے مطابق انجن چلانے کا عمل کامیاب رہا ہے اور یہ ٹھیک طور پر کام کر رہا ہے۔
مریخ مہم کے اس فیصلہ کن مرحلے میں مکمل 24 منٹ تک جہاز کے انجن کو چلایا گیا اور یہ کامیابی کے ساتھ خلائی گاڑی کو سرخ سیارے کے مدار میں داخل کرنے میں کامیاب رہا۔

،تصویر کا ذریعہISRO
اسرو کے سائنس دانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا: ’آج تاریخ رقم کی گئی ہے۔ ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ میں سبھی بھارتیوں اور اسرو کے سائنس دانوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔ کم وسائل کے باوجود یہ کامیابی سائنس دانوں کی ہمت اور مردانگی کی وجہ سے ملی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ’جس کم خرچ میں ہم نے یہ کامیابی حاصل کی ہے اس سے زیادہ میں تو ہالی وڈ کی فلم بنتی ہے۔‘
اس مرحلے پر اسرو کو اس بات کا خیال رکھنا تھا کہ منگل یان اتنا سست نہ ہو جائے کہ مریخ کی سطح سے ٹکرا جائے، یا اس کی رفتار اتنی بھی تیز نہ ہو کہ وہ مریخ کے کشش ثقل سے باہر خلا میں کہیں کھو جائے۔
منگل يان تقریباً 300 دنوں کے سفر کے بعد 22 ستمبر کو مریخ کے کشش ثقل کے دائرے میں داخل ہوا تھا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی مشن کے اس تاریخی لمحے کو دیکھنے کے لیے بنگلور میں واقع اسرو کے نگرانی سینٹر میں موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہISRO
بھارت دنیا کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جو اپنی پہلی ہی کوشش میں مریخ کے مدار میں اپنی خلائی گاڑی کو بھیجنے میں کامیاب رہا۔
بھارت نے اس مشن پر تقریباً 450 کروڑ روپے خرچ کیے جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے بہت کم ہے۔
اگر سب کچھ درست رہا تو منگل يان آئندہ چھ مہینوں کے دوران مریخ کی فضا کا مطالعہ کرے گا۔
وہاں یہ میتھین گیس کا پتہ لگائے گا اور اس کے ساتھ ہی پر اسرار کائنات کے متعلق اس سوال کے جواب کا بھی سراغ لگائے گا کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟
یہ بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مدار میں داخل ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد یہ مریخ کی تصاویر بھیجنا شروع کر دے گا۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس مہم سے مریخ کا پانی کیسے ختم ہو گیا جیسے اہم سوالات کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔







