گوگل کا سمارٹ تھرمو سٹیٹ

گوگل نے رواں سال کے اوائل میں نیسٹ کو تقریباً سوا تین ارب ڈالر کے عوض خریدا تھا

،تصویر کا ذریعہNEST

،تصویر کا کیپشنگوگل نے رواں سال کے اوائل میں نیسٹ کو تقریباً سوا تین ارب ڈالر کے عوض خریدا تھا

انٹرنیٹ کمپنی گوگل کے نیسٹ ڈویژن نے اپنے سمارٹ تھرموسٹیٹ اور دھویں کے الارم کو دوسری کمپنیوں کی مصنوعات کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ابتدائی معاہدے میں مرسیڈیز کار اور جا بون اپ کے رِسٹ بینڈ شامل ہیں جن سے ہیٹنگ سسٹم آن کرنے کی سہولت ہو گی۔ جب کہ لائف ایکس کے وائی فائی سے منسلک بلب دھویں کی صورت میں سرخ روشنی منعکس کرنے لگیں گے۔

نیسٹ کے شریک بانی میٹ راجرز نے بی بی سی کو بتایا کہ صارفین کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ کون سے لنک استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ کمپیوٹر ہیکر اس نظام کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

آکسفرڈ انٹرنیٹ انسٹیوٹ کے ڈاکٹر ایئن براؤن کا کہنا ہے کہ آپ کسی ہیکر کی شرارت کی وجہ سے بجنے والے دھویں کے الارم کے باعث صبح چار بجے اٹھنا نہیں چاہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک انٹرنیٹ کی سکیورٹی کا تعلق ہے اس حوالے سے گوگل کی سکیورٹی بہت اچھی ہے لیکن یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہو گا کہ ان نظاموں میں خامیاں کب سامنے آتی ہیں۔

نیسٹ کے شریک بانی میٹ راجرز کے مطابق اگرچہ نیسٹ اپنا ایپلیکیشن پروگرام انٹر فیسز (اے پی آئی) سب کے لیے کھول رہا ہے لیکن آپس میں تعامل کرنے والے کوڈ تک رسائی محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وہ صلاحیت ہے کہ غلط کار پروگرامرز کے اکاؤنٹس کو غیر فعال بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ گوگل نے رواں سال کے اوائل میں نیسٹ کو تقریباً سوا تین ارب ڈالر کے عوض خریدا تھا۔

نیسٹ کی ڈیوائسز کو پہلے ہی ٹیبلٹس اور سمارٹ فونز کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے تاہم تازہ ترین معاہدے میں مزید آپشز فراہم کیے ہیں۔