برطانیہ میں چینی کے کم استعمال کے لیے گروپ تشکیل

گروپ کا کہنا ہے کہ چینی کے کم استعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پر قابو مانے میں مدد ملے گی
،تصویر کا کیپشنگروپ کا کہنا ہے کہ چینی کے کم استعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پر قابو مانے میں مدد ملے گی

برطانیہ میں موٹاپے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو کھانوں اور سافٹ ڈرنکس میں چینی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

’ایکشن آن شوگر‘ نامی اس گروپ کو کنسینس ایکشن آن سالٹ اینڈ ہیلتھ (کیش) کی ٹیم نے تشکیل دیا ہے جو 90 کی دہائی سے کھانوں میں نمک کے کم استعمال پر زور دیتی رہی ہے۔

نئی تنظیم کا مقصد لوگوں کو ’خفیہ شوگرز‘ سے بچنے میں مدد دینا اور صنعت کاروں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ مستقبل میں اس کی مقدار میں کمی لائیں۔

خفیہ شوگرز کھانوں میں عام چینی کے علاوہ دوسری اقسام کی شوگرز ہیں۔

تنظیم کو یقین ہے کہ آنے والے تین سے پانچ برس میں چینی کے استعمال میں 20 سے 30 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

’ایکشن آن شوگر‘ نامی گروپ چینی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلے خوراک کی صنعت پر توجہ مرکوز کرے گا تاکہ صارفین کو ذائقے میں زیادہ فرق محسوس نہ ہو۔

گروپ کا کہنا ہے کہ چینی کے کم استعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

’ایکشن آن شوگر‘ نے ذائقے دار پانی، سپورٹس ڈرنکس، دہی، کیچ اپ، تیار شدہ کھانوں اور یہاں تک کہ ڈبل روٹی کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے جس میں شوگرز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

گروپ کے چیئر مین گراہم میک گروگر نے کہا: ’ہمیں برطانیہ اور پوری دنیا سے موٹاپے اور ذیابیطس کے خاتمے کے لیے اب کچھ کرنا ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بہت سادہ سا منصوبہ ہے اور اسے خوراک کی صنعت اور صحت کے ڈیپارٹمنٹ کو ہر صورت میں اپنانا ہو گا۔‘