موٹاپے سے ہڈیوں کی بیماری کا خطرہ

ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ موٹاپے سے ہڈیوں کی بیماری آسٹیوپوروسس کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس بیماری میں ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
امریکی سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ بعض فربہ افراد کی ہڈیوں کے اندر چربی چھپی ہوئی ہوتی ہے، جس کے باعث وہ کمزور پڑ جاتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ سکتی ہیں۔
بوسٹن میں واقع ہارورڈ میڈیکل سکول کی ٹیم نے 106 فربہ، لیکن صحت مند مرد و خواتین کی ہڈیوں کا سکین کیا۔
ان کی تحقیق کے نتائج ریڈیالوجی جریدے میں شامل ہوئے ہیں۔
ان سکینوں سے معلوم ہوا کہ فربہ افراد کے جسم کے مختلف اعضا میں چربی چھپی ہوئی ہوتی ہے، جن میں جگر، پٹھے، ہڈیوں کا گودا شامل ہیں۔
اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر مریم بریڈیلا کہتی ہیں کہ سیب کی شکل کا جسم رکھنے والے اشخاص سب سے زیادہ خطرے کی زد پر ہوتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جن کی زیادہ وزن کمر کے آس پاس مرکوز ہوتا ہے۔
ہڈیوں کا گودا وہ جگہ ہے جہاں نئی ہڈی کے خلیے تشکیل پاتے ہیں۔
جن لوگوں میں یہ مرض ہوتا ہے ان کی ہڈیوں کے گودے میں چربی کی زیادہ مقدار پائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر بریڈیلا کہتی ہیں کہ اگر گودے کی جگہ پر چربی آ جائے تو اس سے ہڈی کمزور پڑ جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے: ’اگر آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں چربی بھری ہو تو وہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔
’ایک زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ موٹاپا ہڈیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔ ہم نے معلوم کیا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔‘
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جسم میں چربی کے مقام کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا اس لیے واحد حل یہی ہے کہ موٹاپے سے بچا جائے۔
اندازہ ہے کہ برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ افراد کو آسٹیوپوروسس کا مرض لاحق ہے۔ اس مرض کے شکار افراد عام طور پر پست قد اور کمزور ہوتے ہیں۔







