جانوروں کی نسل کشی: غذائی اجزا کی ترسیل متاثر

برطانیہ میں ایک تحقیق کے مطابق ایمیزون کے خطے میں بارہ ہزار سال پہلے بڑے جانوروں کی نسل ختم ہونے کے ساتھ علاقے میں غذائی اجزا کی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔
محقیقین کا کہنا ہے کہ شاید آرمادیلو جیسے بڑے جانور اپنے فضلے اور جسم کے ذریعے پودوں کو مفید غذا پہنچایا کرتے تھے۔
ان بڑے جانوروں کی نسل ختم ہونے کے اثرات اب بھی نمایاں ہیں جس کی وجہ سے جدید دور کے ہاتھی جیسے بڑے جانوروں کی نسل ختم ہونے سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ تحقیق نیچرل جیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
برطانیہ میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ریاضی کا ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس کے ذریعے بڑے جانوروں کی، جن کے جسم کا وزن 44 کلو گرام سے زیادہ ہو، نسل ختم ہونے سے ایمیزون کے ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے اثرات کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔
اس ریاضی کے ماڈل کے ذریعے کی گئی حساب کے نتائج کے مطابق بڑے جانوروں کی نسل فنا ہونے سے ایمیزون میں فاسفورس کے پھیلاؤ میں 98 فیصد کمی آئی۔
سائنس دانوں نے لکھا کہ’اس سے مشرقی ایمیزون میں فاسفورس میں انتہائی کمی آئی اور اس کی مقدار شاید اب بھی مزید کم ہو رہی ہے۔‘
دودھ دینے والے جانوروں کے جسم میں فاسفورس دوسرا بڑا معدنی جز ہے جبکہ ان جانوروں کے جسم میں سب سے بڑا معدنی جز کیلشیئم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق کے شریک مصنف پرنسٹن یونیورسٹی میں ایکالوجی اور بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر ایڈم ولف وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آج کرۂ ارض پر مٹی میں غذائی اجزا کے ترسیل کا دارومدار دریاؤں اور ہوا میں موجود غذائی اجزا پر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ کسی زمانے میں حالات بہت مختلف تھے: ’ہمیں یقین ہے کہ بڑے جانوروں نے اپنے اردگرد ماحول کو زرخیز بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور چٹانوں میں جمع قدرتی غذائی اجزا کی اہمیت اتنی نہیں تھی۔‘
ڈاکٹر ایڈم ولف نے کہا کہ ’اگر بارہ ہزار سال پہلے انسان بڑے جانوروں کی نسل کشی کا باعث بنے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زراعت کے آنے سے پہلے ہی انسان نے عالمی سطح پر ماحول کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔‘







