دنیا کی سب سے بڑی آبی پناہ گاہ زیرِ بحث

انٹارکٹیکا میں دنیا کی سب سے بڑی آبی پناہ گاہ کے قیام پر غور کرنے کے لیے جرمنی میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بحیرۂ راس اور مشرقی انٹارکٹیکا میں آبی حیات کے تحفظ کے لیے پناہ گاہ بنانے کے منصوبے کو مطلوبہ حمایت حاصل ہو جائے گی۔
تاہم ماہرین فکرمند ہیں کہ ماضی کی طرح روس سمیت کچھ دوسرے ممالک ایک بار اس منصوبے کی مخالفت کر کے پناہ گاہ کے قیام کو روک سکتے ہیں۔
<link type="page"><caption> تحفظ حیات کا بے مثال منصوبہ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/09/120915_essex_nature_reserve_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
انٹارکٹیکا میں حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا کمیشن ان ممالک پر مشتمل ہے جن کے جنوبی پانیوں میں مفادات ہیں۔ ان میں آسٹریلیا، امریکہ، چین اور روس بھی شامل ہیں۔ زمین کے اس جنوبی آبی حصے کے بارے میں کسی بھی فیصلے کے لیے ان تمام ممالک کا اتفاق رائے ضروری ہے۔
جرمنی کے شہر بریمرہاون میں آبی حیات کے لیے پناہ گاہ کا جو منصوبہ زیر غور ہے اس کے تحت قیام کی صورت میں قطب جنوبی کے گرد سمندروں مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگ جائے گی اور پینگوین اور دریائی بچھڑوں جیسے جانوروں کو تحفظ حاصل ہو گا۔
اس آبی پناہ گاہ کے قیام سے دنیا میں آبی پناہ گاہوں کا کل رقبہ دگنا ہو جائے گا۔مذکورہ پناہ گاہ کا بحیرۂ راس میں رقبہ دو اعشارہ تین مربہ کلومیٹر ہو گا اور مشرقی انٹارکٹیکا میں ایک اعشاریہ تریسٹھ فیصد۔
نئی پناہ گاہ کا منصوبہ برسوں سے زیر غور ہے لیکن گزشتہ برس اکتوبر میں چین، یوکرین اور روس کے تحفظات کی وجہ سے یہ پایائے تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ امریکہ اور نیوزیلینڈ کی کوشش ہے کہ اس بار یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کے مطابق آبی پناہ گاہ کے قیام سے یہاں جانوروں کی کئی اقسام کو فائدہ پہنچے گا۔ دنیا کے اڑتیس فیصد ایڈلی پینگوین اور چھبیس فیصد بادشاہ پینگوین یہیں پائے جاتے ہیں۔
منصوبے کی منظوری میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ مچھلیوں کے شکار کا معاملہ ہے جو جنوبی کوریا، جاپان اور ناروے جیسے کچھ ممالک کے لیے بہت اہم ہے جن کے مچھیرے ان سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔
مچھلیوں میں بھی خاص طور پر انتہائی چھوٹا جھینگا کرِل قابل ذکر ہے جس کی دنیا میں مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس مچھلی کی مانگ میں اضافے کی وجہ اس سے تیار ہونے والے اومیگا تھری سپلیمنٹ ہیں۔ لیکن یہی کرِل یہاں پر وہیل، پینگوین، سمندری پرندوں اور دریائی بچھڑوں کی خوراک بھی ہے۔







