ڈیٹا حصول کے لیے امریکی درخواست کی تصدیق

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے کہا ہے کہ اسے امریکی حکومت کے مختلف شعبوں سے ان کے صارفین کے ڈیٹا کے بارے میں سنہ 2012 کے آخری نصف میں 9 سے 10 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
کمپنی نے کہا کہ یہ درخواستیں 18 سے 19 ہزار صارفین کے اکاؤنٹس کے متعلق تھیں اور ان کا تعلق جرم اور قومی سلامتی سے تھا۔
ایک سابق امریکی اہلکار کے انکشاف کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ میں حکومت کی نگرانی میں الیکٹرانک جاسوسی کا عمل پہلےسے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر جاری ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ کا موقف یہ ہے کہ نگرانی کے اس پروگرام کے ذریعے اسے درجنوں دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے میں مدد ملی جبکہ امریکہ اور یوروپ میں اس پروگرام کے ذریعہ عوام کی پرائیوسی کے حق پر ضرب پڑنے کا الزام بھی لگ رہا ہے۔
کمپنی کے بلاگ پر لکھے اپنے ایک پوسٹ میں فیس بک کے ٹیڈ اولیوٹ نے کہا کہ یہ درخواستیں مختلف اقسام کی جانچ کے سلسلے میں کی گئي ہیں جن میں بچوں کی گمشدگی، وفاقی مفرور ملزم، چھوٹے مقامی مجرم اور دہشت گردانہ دھمکیوں کے متعلق معلومات شامل ہیں۔
ٹیڈ اولیوٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی کمپنی نے کس حد تک ان درخواستوں پر عمل کیا لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ فیس بک نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کو ’شدت کے ساتھ‘ محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔
انھوں نے کہا ’ہم عام طور پر ان درخواستوں کو مسترد کر دیتے ہیں یا پھر حکومت سے اپنی درخواست میں واضح کمی کرنے کے لیے کہتے ہیں یا پھر مطلوبہ دیٹا یا معلومات سے کم مواد فراہم کرتے ہیں‘۔
امریکہ کی قومی سیکورٹی ایجنسی سے منسلک اور سابق جاسوس ایڈورڈ سنوڈین نے گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ کو الیکٹرونک شعبے میں امریکی خفیہ اداروں کی بڑے پیمانے پر پرزم نامی پروگرام کو افشا کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا اور اخبار نے انہی کے کہنے پر ان کا نام ظاہر کیا۔
سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ سنوڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے پرزم نامی اس پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے کا فیصلہ ساری دنیا لوگوں کو آزادیوں کو بچانے کے لیے کیا۔
واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے خبر شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔
بعدازاں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف’غیر امریکی افراد‘ ہیں۔







