امریکی جاسوسی ایجنسیوں کو ویب تک رسائی

- مصنف, روری سیلان جونز
- عہدہ, نامہ نگار ٹیکنالوجی، بی بی سی نیوز
گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکومت کی طرف سے ویب سائٹس پر لوگوں کے بات چیت کی جاسوسی کرنے کے بارے میں چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔
ان اخبارات نے الزامات عائد کیے ہیں کہ امریکی جاسوسی ایجنسیوں کو ان کے پریزم (PRISM) پروگرام کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، فیس بک، یاہو، سکائپ، اور ایپل کے سرورز تک براہ راست رسائی ہے۔
تاہم ان تمام کمپنیوں نے اس قسم کے کسی پروگرام سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا اصرار ہے کہ تمام ڈیٹا تک رسائی دینے کے بجائے یہ صرف ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں جن کے بارے میں ان سے معلومات مانگی جاتی ہے۔مثال کے طور پر فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ کسی سرکاری ادارے کو معلومات تک رسائی نہیں دیتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے معلومات کے لیے درخواست کو قانون کے مطابق انفرادی کیس کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔
ان تازہ خبروں سے امریکہ سے باہر دنیا میں ذاتی معلومات کی راز داری کے بارے میں خدشات مزید بڑھ جائیں گے۔ امریکہ کے انٹیلیجنس کے سربراہ جیمز کلیمپر نے عوم کو یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی تھی کہ’صرف غیر امریکی شہریوں کی ویب نگرانی کی جاتی ہے۔‘
لیکن اس میں پریشانی ہونے کی بات نہیں اگر آپ امریکی شہری نہیں ہیں اور خدشے کی بات اس وقت ہے اگر آپ مائیکروسافٹ، یاہو، گوگل، فیس بک، اے او ایل، سکائپ، یوٹیوب یا ایپل استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ جو فرد بھی آن لائن موجود ہے ان کی معلومات کسی کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے۔
یہ کمپنیاں ڈیٹا اور صارفین کی راز داری کو شاید کنٹرول کرتے ہوں اور شاید وہ اپنی حکومت کے ساتھ معلومات دینے کے حوالے سے تعاون بھی کرتے ہوں لیکن اس حقیقت کو جاننا بہت مشکل ہے۔
لوگوں کی بات چیت کی نگرانی صرف امریکی نہیں کر رہے بلکہ برطانیہ کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں چینی کمپنی ہواوے کے کردار پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا مطلب ہے کہ صارفین کا ڈیٹا امریکینیوں کے پاس ہے اور ان کے موبائل فون اور براڈ بینڈ کے آلات کو چینی کنٹرول کرتے ہیں۔
اب آپ میرے اس بات سے خوش ہونگے یا نہیں کہ زندگی ان معاملات پر پریشان ہونے کے لیے بہت کم ہے کہ کیا ایف بی آئی نے میرا ای میل پڑھا ہے کہ نہیں یا میرے فیس بک کے اپ ڈیٹس کو دیکھا ہے کہ نہیں یا چین کی ریڈ آرمی میرے ٹیلیفون کالز سنتی ہے کہ نہیں۔
شاید بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ معلومات کی سکیورٹی ایک ذاتی معاملہ ہے جس پر فرد کو کنٹرول ہونا چاہیے۔اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے اس وقت تک یہ کنٹرول امریکہ اور چین کو دیا ہے جب تک ہم ڈیجٹیل دنیا چھوڑ نہ دیں۔







