تین نئے خلابازوں کا خلائی سفر

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے جلد ہی تین نئے خلا بازوں کو خلا میں بھجوایا جائے گا جن میں ایک اطالوی خلاباز بھی شامل ہیں جو پہلی بار خلائی سفر پر روانہ ہوں گے۔
یہ تین خلاباز ہیں فیودر یورچیکن، کیرن نیبرگ اور لوکا پارمیتانو جو خلائی راکٹ سویوز پر منگل کے روز آٹھ بج کر اکتیس منٹ (جی ایم ٹی) پر قزاقستان کے بیکانور لانچنگ پیڈ سے خلا میں بھیجےجائیں گے۔
جارجیا سے تعلق رکھنے والے یورچیکن اور امریکی نیبرگ دونوں اس سے قبل بھی خلا میں جا چکے ہیں جبکہ اٹلی سے تعلق رکھنے والے چھتیس سالہ پارمیتانو جو پہلی بار خلا میں جائیں گے اب تک کے سب سے کم عمر خلاباز ہیں جنہیں طویل دورانیے کے لیے بین الاقوامی خلائی سٹیشن تعینات کیا گیا ہے۔
پارمیتانو جو پیشے کے اعتبار سے پائلٹ ہیں یورپین خلائی ایجنسی میں شامل ہونے والے نئے خلاباز ہیں اور انہیں تربیت کے لیے صرف چار سال قبل ہی منتخب کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خلا میں جانے کے خیال سے بہت خوش ہیں۔ یہ تینوں خلاباز سٹیشن پر نومبر تک رہیں گے۔

اُن کے مشن کا نام ایکسپڈیشن 36 ہے اور اس میں شامل خلاباز خلائی سٹیشن پر پہلے سے موجود تین افراد سے جا کر ملیں گے۔
یاد رہے کہ خلائی سٹیشن پر موجود تین خلابازوں میں روسی خلاباز پیول وینوگرادوو اور الیگزینڈر میسرکن ہیں جبکہ ایک امریکی خلاباز کرس کیسیڈی بھی شامل ہیں۔
روایتی طور پر سویوز خلائی راکٹ دو روز میں خلائی سٹیشن تک پہنچتا ہے اور یہ فاصلہ 415 کلومیٹر بلند ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارمتانو خلا میں دو مواقع پر چہل قدمی کریں گے تاکہ وہ خلائی سٹیشن کے بیرونی حصے پر کام کر سکیں۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے چہل قدمی کرنے کے بارے خواب دیکھا ہے اور خلاباز ہونے کا مطلب ہے خلا میں چہل قدمی کرنا اور میرے لیے یہ ایک ہی چیز ہے جو بہت اہم ہے۔
پارمیتانو اٹلی کے جزیرے سسلی کے قریب واقع قصبے پاتیرانو میں پیدا ہوئے اور وہ اپنے سفر سے خلا میں ایک اطالوی احساس لے کر آئیں گے۔
اطلوی شیفس نے ان کے لیے خصوصی اطالوی کھانے تیار کیے ہیں جو خلا میں ان کے ساتھ جائیں گے اور ان میں لازانیے اور ریزوٹو شامل ہیں۔
یہ کھانے البرٹ آئن سٹائن نامی ایک خصوصی روبوٹک مال بردار خلائی جہاز کے ذریعے خلا میں بھجوائے جائیں گے۔







