6 گھنٹے میں زمین سے خلا تک کامیاب سفر

خلا بازوں نے اپنے خلائی سفر کا آغاز قزاکستان میں بیکانور کوسموڈروم سے کیا
،تصویر کا کیپشنخلا بازوں نے اپنے خلائی سفر کا آغاز قزاکستان میں بیکانور کوسموڈروم سے کیا

ایک امریکی اور دو روسی خلاء بازوں نے صرف چھ گھنٹے میں زمین سے عالمی خلائی سٹیشن تک پہنچ کر نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

یہ تینوں خلاباز سویوز نامی روسی خلائی جہاز کے ذریعے چھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنی منزل تک پہنچے۔

اس سے قبل یہ خلائی سفر پچاس گھنٹے پر مشتمل ہوتا تھا اور خلا بازوں کو خلائی کیپسول میں دو صبر آزما اور مشکل دن گزارنے پڑتے تھے ۔

خلا بازوں نے اپنے خلائی سفر کا آغاز قزاکستان میں بیکانور کوسموڈروم سے کیا اور اس سفر کے لیے صرف چار مداروں پر مشتمل وہ راستہ اپنایا جس پر اس سے قبل کسی خلاباز نے سفر نہیں کیا تھا۔

روسی خلائی ماہرین نے انسان کو اس تیز ترین سفر پر بھیجنے سے قبل تجرباتی طور پر اس راستے سے صرف سازوسامان پر مشتمل مشنز کو تین بار کامیابی سے خلائی سٹیشن تک پہنچایا تھا۔

ماہرین کی کوشش ہے کہ آنے والے عرصے میں خلائی سٹیشن تک پہنچنے کے لیے مدار کے گرد لگائے جانے والے مطلوبہ چکروں کی تعداد کو بھی کم کیا جائے۔

روسی خلابازوں پیول ونوگرادوو اور الیگزینڈر مسورکن اور امریکہ کے کرس کیسیڈی کی آمد کے بعد عالمی خلائی مرکز پر خلابازوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے۔

خلائی سٹیشن پر کامیابی سے پہنچنے والے عملے کےتینوں ارکین کی زمین پر واپسی رواں سال ستمبر میں ہوگی جبکہ اس سلسلے میں زمین سے اگلا مشن اس سال دسمبر میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچے گا اور اس کی واپسی مئی دوہزار چودہ میں ہوگی ۔

خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں خلا میں موجود امریکی سیکشنز میں ایک سو سینتیس جبکہ روس کے زیر انتظام کام کرنے والے حصوں میں چوالیس تجزیے کیے جائیں گے۔