ناقص امپلانٹ پر عدالتی کارروائی شروع

الزام ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے
،تصویر کا کیپشنالزام ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے

فرانس میں ہزاروں خواتین کو ناقص بریسٹ امپلانٹ فراہم کرنے پر پی آئی پی کمپنی کے پانچ اعلیٰ اہلکاروں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔

ناقص بریسٹ امپلانٹ فراہم کرنے کی وجہ سے دنیا کے 65 ممالک میں تقریباً تین لاکھ خواتین کی صحت متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

پی آئی پی کے سابق سربراہ یوں کلاڈ اور ان کی ٹیم میں شامل چار دیگر ممبران پر سنگین فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

کمپنی نے بریسٹ امپلانٹ میں غیر معیاری سِلیکون مادے کو استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے کئی امپلانٹ پھٹ گئے تھے۔

اس کیس میں پانچ ہزار سے زائد خواتین نے خود کو مدعا علیہ کے طور پر رجسٹر کرایا ہے اور اس وجہ سے جنوبی شہر مارسے میں سات سو سیٹوں پر مشتمل کانگریس سینٹر میں عدالتی کارروائی ہو رہی ہے تاکہ بڑی تعداد میں دعویدار اور وکلا عدالتی کارروائی کا حصہ بن سکیں۔

اس مقدمے کو فرانس کی تاریخ کی سب سے بڑی عدالتی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

بریسٹ امپلانٹ تیار کرنے والی کپمنی پی آئی پی نے امپلانٹ کی تیاری میں صنعتی گریڈ کا ممنوع غیر معیاری مادہ استعمال کیا تھا جس کے استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں خواتین کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

صرف برطانیہ میں سینتالیس ہزار خواتین نے اپنی چھاتی میں پی آئی پی سے امپلانٹ کروایا ہے
،تصویر کا کیپشنصرف برطانیہ میں سینتالیس ہزار خواتین نے اپنی چھاتی میں پی آئی پی سے امپلانٹ کروایا ہے

چار ہزار سے زائد خواتین نے امپلانٹ پھٹنے کی شکایت کی۔ صرف فرانس میں 15 ہزار خوتین نے پی آئی پی امپلانٹ کو تبدیل کرایا ہے۔

پی آئی پی کو دنیا میں امپلانٹ تیار کرنے والی بہترین کمپنی تصور کیا جاتا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں 42 ہزار خواتین نے پی آئی پی کے سپلائی کردہ امپلانٹ استعمال کیے، فرانس میں 30 ہزار، برازیل میں 25 ہزار اور کولمبیا میں 15 ہزار امپلانٹ استعمال ہوئے۔

اس کیس میں مدعا علیہ 47سالہ اینجیلا مورو نے بتایا، ’ان کے دو بار امپلانٹ ٹوٹے اور انہیں امید ہے کہ عدالت خواتین کا اسی طرح احترام کرے گی جیسا کہ طبی بدعنوانی کے متاثرہ افراد کا کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’مجھے توقع ہے کہ خواتین کو متاثرین کے طور پر دیکھا جائے گا نہ کہ ایسی خواتین کے طور پر جو (حسن میں اضافے کے لیے) امپلانٹ کرانا چاہتی ہیں۔‘