
ذہنی مریضوں کے علاج کے لیے ڈاکٹر بھی بہت کم ہیں
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی معذوری یا بیماریوں سے ہونے والی پریشانیوں کے اسباب کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں پینتالیس کروڑ لوگ کسی نا کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جس میں سے تقریباً ایک تہائی مریض ترقی پذیر ممالک میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے ایسے دس میں سے آٹھ مریضوں کا تو علاج ہی نہیں کیا جاتا ہے۔
ذہنی طور پر بیماروں کو یہ مرض یا تو متعدی بیماری سے لگا یا پھر قدرتی آفات یا جنگ جیسے حالات سے سے بچنے کے بعد وہ اس میں مبتلا ہوئے۔
افغانستان جیسے ملک میں، جہاں گزشتہ تیس برس سے جنگ جاری ہے، تقریبا ہر خاندان کا ایک یا اس سے زیادہ فرد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ایک تخمینے کے مطابق پندرہ برس سے اوپر کے تقریبا نصف افغان شہری ڈیپریشن، اضطراب یا ہیجان جیسی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن دارالحکومت کابل کے باہر ذہنی امراض کے علاج کے لیے کوئی بھی انتظام نہیں ہے۔
لیکن ذہنی امراض سے متاثرہ لوگوں کے لیے افغانستان اکیلا ملک نہیں اور ایسے مریضوں کی نصف آبادی ان ممالک میں ہے جہاں دو لاکھ مریضوں پر ایک نفسیاتی ماہر یا اس سے بھی کم ہے۔
"غریب اور اوسط درجہ کے ممالک میں ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے فنڈز کی بہت کمی ہے جہاں ذہنی امراض کو دیگر بیماریوں کی طرح ہی نظر انداز کیا جاتاہے۔"
ڈبلیو ایچ او کے مطابق بہت سے غریب ممالک میں ذہنی مریضوں کے علاج کے لیے دس لاکھ مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہے۔
افریقی ملک نائیجریا میں پایا گيا کہ صحت کے مراکز میں ذہنی مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن ان میں سے یشتر کی تشخیص نہیں کی جاتی اور جن کی تشخیص ہوتی ہے تو ان میں سے بھی چھ میں سے ایک مریض کا چھوٹا موٹا علاج کیا جاتا ہے۔
بعض دیگر افریقی ملکوں میں پایا گيا کہ ایسے مریض ذہنی طور صحت کے مراکز میں بھوکے اور ننگے پڑے ہوئے ہیں۔
ایتھوپیا میں ذہنی پریشانی کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد بتایا جاتا ہے جہاں دیہی علاقوں کے تقریبا دو تہائی خاندانوں میں یہ مصیبت عام ہے۔
اس کے برعکس ہیٹی میں بیشتر لوگ زلزلے جیسی قدرتی آفت کے بعد سے ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ دو ہزار دس میں زلزلے سے ہیٹی میں تقریباً تین لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے اور اتنے ہی زخمی ہوئے تھے۔
ان تمام مسائل نمٹنے کے لیے کوئی نظام نہیں ہے لیکن صحت سے متعلق کینیڈا کی ایک تنظیم نے اس حوالےسے بعض کوششیں شروع کی ہیں۔
دو ہزار دس میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے رکن ممالک کے وزراء نے ذہنی بیماریوں سے متعلق توجہ دینے اور بیداری مہم چلانے جیسے امور کی بات کہی تھی لیکن اس سمت میں اب تک کوئي خاطر خواہ کوشش نظر نہیں آتی۔ البتہ کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ ذہنی امراض کی تشخیص اور ان کے علاج کے لیے وہ تقریباً دو کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔
’گرینڈ چيلنج کینیڈ‘ نامی ایک تنظیم نے اس کا بیڑا اٹھایا ہے اور صحت کی بہتری اور کاؤنسلنگ جیسی سہولیات مہیا کرے گي۔
تنظیم کے ڈاکٹر پیٹر سنگر کا کہنا ہے ’غریب اور اوسط درجے کے ممالک میں ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے فنڈز کی بہت کمی ہے جہاں ذہنی امراض کو دیگر بیماریوں کی طرح ہی نظر انداز کیا جاتاہے۔‘






























