کیموتھراپی کی خود اپنے ہی خلاف مدافعت

امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ سرطان کا علاج کیموتھراپی خود اپنے ہی خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
سرطان کے علاج میں کی جانے والی کیموتھراپی صحت مند خلیوں میں اپنے اثرات کو خود ہی کم کر سکتی ہے اور یہی سبب ہے کہ بہت سے کینسر کے مریض اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لیتے ہیں اور جن افراد کو ثانوی درجے کا سرطان ہے ان پر یہ علاج بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔
طبی جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں امریکی ماہرین نے لکھا ہے کہ کیمو تھراپی سے ٹیومر کے کنارے زخم کو مندمل کرنے والے خلیے بنتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک پروٹین پیدا ہوتا ہے جو کینسر کے علاج کو غیر مؤثر بناتا ہے۔
برطانیہ کے ایک طبی ماہر نے کہا کہ اب ہمارا اگلا قدم یہ ہوگا کہ ہم اس کا تدارک تلاش کریں کہ اسے کس طرح سے روکا جا سکتا ہے تاکہ یہ پروٹین پیدا نہ ہو اور وہ علاج میں رخنہ نہ ڈالے۔
تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ تقریباً نوے فیصد ٹھوس سرطان کے مریضوں میں اس طرح کی قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان مریضوں میں چھاتی، پراسٹیٹ، پھیپھڑے، اور بڑی آنت کے سرے کولن میں کینسر کے مریض شامل ہیں۔
عام طور پر کیموتھراپی ایک وقفے کے بعد دی جاتی ہے تاکہ جسم زہر آلود مادوں سے نہ بھر جائے لیکن اس وقفے میں ایسا ہوتا ہے کہ ٹیومر کے خلیے پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں اور علاج کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
امریکی ریاست سیئیٹل میں قائم فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سنٹر میں کیے گئے اس مطالعے میں فائبروبلاسٹ خلیہ کی جانچ کی گئی جو کہ زخموں کے بھرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ کیمو تھراپی سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے جس کے سبب فائبروبلاسٹ ضرورت سے تیس گنا زیادہ پروٹین تیار کرتا ہے اور وہ کینسر کے علاج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پروٹین کینسر کے خلیوں کو بڑھنے میں تعاون دیتا ہے اور وہ خلیے اپنے اردگرد کے خلیوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور وہ خلیے کیموتھراپی کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر دیتے ہیں۔
ریسرچ کرنے والی ٹیم کے سربراہ پیٹر نیلسن نے کہا کہ ’ کینسر کا علاج روز بروز مخصوص ہوتا جا رہا ہے اور عام خرابیوں کے مقامات کے برعکس اس میں اسی مخصوص مقام کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے کینسر پیدا ہوتا ہے تاکہ ڈی این اے کو نقصان نہ پہنچے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری جانچ میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ٹیومر کے پاس کا ماحول بھی ان مخصوص علاج کی کامیابی اور ناکامی پر اثر انداز ہو تا ہے‘۔







