شدت پسندی کے خلاف انٹرنیٹ پر نیا گیم

،تصویر کا ذریعہBBC
سماجی ویب سائٹ فیس بک پر شدت پسندی کے خلاف عرب سپر ہیروز پر مشتمل ایک گیم کا افتتاح ہوگیا ہے۔
ہیپی اویسس نامی گیم کو بنانے والے، سلیمان بخت نے ایڈن برا میں ٹیڈ گلوبل کی کانفرنس میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ پراجیکٹ ان بچوں کے لیے مثبت کردار پیش کرنے میں کامیاب رہے گا جو عام طور پر انتہا پسند نظریوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اپنے افتتاح کے ایک ہفتے کے دوران اس گیم نے پچاس ہزار افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔
سلیمان بخت کا تعلق اردن سے ہے۔ وہ امریکہ میں یونیورسٹی آف منیسوٹا میں اس وقت زیر تعلیم تھے جب نیویارک میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کا واقعہ پیش آیا اور اس کے کچھ ہی دن بعد ان پر چار افراد نے حملہ کیا کیونکہ وہ عرب ہیں۔
اس واقعہ پر برہم ہونے کے بجائے سلیمان بخت نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک تعلیمی مہم شروع کریں گے۔
ان کے بقول ’مجھے احساس ہوا کہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی کی مہم بچوں سے شروع کی جانی چاہیے۔ پیغام بس اتنا تھا کہ ہم سب دہشت گرد نہیں ہیں۔‘
تاہم شروع میں سلیمان بخت نے مقامی سکولوں میں بچوں کو الہ دین جیسی کہانیاں سنانا شروع کیں۔

ان کا کہنا تھا ’ایک دن ایک بچے نے مجھ سے پوچھا کہ کیا عرب میں کوئی سپر مین بھی ہے جس سے مجھے خیال آیا کہ واقعی کوئی عرب سپر مین نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انھوں نے مختلف مثبت عربی کرداروں پر مشتمل کامک بک پراجیکٹ یعنی تصویری کتابوں کے منصوبے کا آغاز کیا۔ ان میں خاتون جیمز بونڈ اور شدت پسندوں کے خلاف لڑنے والے اردنی ایجینٹ جیسے کردار شامل ہیں۔
اردن میں تین لاکھ کتابیں فروخت ہونے کے بعد سلیمان بخت کو اندازہ ہوا کہ یہ انٹرنیٹ پر بھی مقبول ہوسکتیں ہیں۔
انہوں نے کہا ’فیس بک پر تین کروڑ عرب ہیں لہذٰا یہ ہی پیغام لے کر میں نے انٹرنیٹ پر سماجی گیمز بنانے کا ارادہ کیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے اس منصوبے کو پاکستان میں متعارف کرانا چاہتے ہیں جہاں شدت پسندی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔







