’دائیوں کی کمی، لاکھوں اموات کا سبب‘

بچوں کے لیے کام کرنے والی برطانوی خیراتی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال چار کروڑ اسی لاکھ یا ہر تین میں سے ایک خاتون کو دورانِ زچگی تربیت یافتہ یا ماہرانہ نگہداشت دستیاب نہیں ہوتی ہے۔

تنظیم کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین لاکھ پچاس ہزار دائیوں کی کمی کو پورا کر کے ہر سال دس لاکھ بچوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

تنظیم کے مطابق ہر روز ایک ہزار خواتین اور دو ہزار بچوں کی اموات اس لیے ہو جاتی ہیں کہ دورانِ زچگی معمولی پیچیدگیاں ٹھیک نہیں ہو پاتی ہیں۔

تنظیم نے عالمی رہنماوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر طبی سہولیات اور دائیوں کی رسائی کو بہتر کرنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔

تنظیم جس نے مزید دائیوں کی ضرورت کے حوالے سے مہم چلا رکھی ہے کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں پیدائش کے وقت بچوں کی زیادہ اموات ملیریا کی بجائے آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ایسے غریب ترین ممالک میں جہاں ایک خاتون کو دورانِ زچگی ایک تربیت یافتہ خدمت گار کی سہولت حاصل نہیں ہوتی کے بارے میں زیادہ امکانات ہیں کہ اس کے بچے کی موت واقع ہو جائے گی اور زیادہ امکان یہ بھی ہے کہ خود خاتون کی موت بھی ہو جائے۔

ایتھوپیا میں چورانوے فیصد خواتین کے ہاں کسی تربیت یافتہ فرد کی عدم موجودگی میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے جبکہ برطانیہ میں یہ شرح ایک فیصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہgoogle

برطانیہ میں ہر سال سات لاکھ انچاس ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور یہاں چھبیس ہزار آٹھ سو پچیس دائیاں موجود ہیں جب کہ روانڈا میں ہر سال چار لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور وہاں دائیوں کی تعداد صرف چھیالیس ہے۔

افعانستان میں دورانِ زچگی سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں جہاں دوران زچگی ایک ہزار میں سے باؤن بچے مر جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ دورانِ حمل اور دورانِ زچگی ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے پانچ میں سے ایک بچے کی موت پانچ سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔

سیو دی چلڈرن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ کسی ماں کو بھی دورانِ زچگی مدد کی عدم دستیابی نہیں ہونی چاہیے۔’اس کو زیادہ پیچیدہ نہیں ہونا چاہیے، ایسا کوئی جو یہ جانتا ہو کہ پیدائش کے بعد بچے کی کمر کو کس رگڑنا ہے تاکہ وہ آسانی سے سانس لے سکے، اور یہ موت اور زندگی کے بیچ میں فرق کا سبب بنتا ہے اور کوئی بچہ مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ہیلتھ ورکرز کو اپنے منصوبوں میں سرفہرست رکھیں۔