صدیوں پہلے ڈوبنے والے جہاز کی تلاش

غرق ہونے والا ایک بحری جہاز، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنانھیں امید ہے کہ اس منصوبے سے چین اور افریقہ کے درمیان تعلق کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہونگی:ہرمن کیریما

چین کے ماہر آثارِ قدیمہ افریقی ملک کینیا کی سمندری حدود میں چھ سو سال پہلے ڈوبنے والے ایک بحری جہاز کی تلاش شروع کرنے جا رہے ہیں۔

اس بحری سے ملنے والے شواہد سے چین اور مشرقی افریقہ کے مابین پہلے رابطے کے بارے میں معلوم ہو سکے گا۔

اس تین سالہ منصوبے میں بحری جہاز کو کینیا کے لمبو اور مالینڈی جزیرے کی ساحلی پٹی میں تلاش کیا جائے گا۔

یہ مصنوبہ چین نے کینیا کے اشتراک سے اس وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا جب اس علاقے میں منگ بادشاہت کے آثار دریافت ہوئے تھے۔

خیال ہے کہ یہ بحری جہاز چین کے شہنشاہ منگ کے دور میں ایڈمرل ژینگ کے بحری بیڑے کے ساتھ شامل تھا جو سنہ چودہ سو اٹھارہ میں کینیا کے جزیرے مالینڈی میں پہنچا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ کولمبس سے کوئی پچاس سال پہلے ایڈمرل ژینگ نے امریکہ کو دریافت کر لیا تھا۔ ایڈمرل ژینگ کو نئی خطے دریافت میں مہارت حاصل تھی اور انھیں سنہ تیرہ سو چھیاسٹھ میں چین میں قائم ہونے والی منگ بادشاہت کے تعارف اور تجارت کے لیے دوسرے علاقوں میں بھیجا جاتا تھا۔

کینیا کے سمندری آثارِ قدیمہ کے سربراہ ہرمن کیریما کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اس منصوبے سے چین اور افریقہ کے درمیان تعلق کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہونگی۔

انھوں نے بی بی سی سے بار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اہم کامیابی ہو گی جس کی مدد سے پتہ چلایا جا سکے گا کہ یورپی طاقتوں کی انڈیا سے سمندری تجارت شروع ہونے سے پہلے بحرِ ہند میں کیاہوا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ بحری جہاز سے اس وقت کی بحری صنعت کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ بحری جہاز ڈوبنے سے پہلے کچھ ملاح ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور ایک خطرناک سانپ کو ہلاک کرنے پر انھیں وہاں قیام کی اجازت مل گئی تھی۔