بہرے افراد کے لیے کیپشنز والی ویڈیو

یو ٹیوب سائٹ
،تصویر کا کیپشنیو ٹیوب اپنے ویڈیو کے لیے بہت معروف ہے اور نئی سروس سے اسے اور شہرت ملےگي

یو ٹیوب نے قوت سماعت سے محروم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ویڈیوز تک رسائی فراہم کرنے کی غرض سے اپنے بیشتر ویڈیوز پر آٹومیٹک کیپشن یعنی تحریری حاشیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے پہلے یو ٹیوب پر کیپشن والے ویڈیوز بہت کم تھے۔

گوکل کی ملکیتی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بولےگئے الفاظ کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائیگا اور یہ اس نوعیت کا پہلا بڑا تجربہ ہوگا۔

کمپنی کے پروجیکٹ مینیجر ہنٹر واک کا کہنا ہے کہ اس سے یوٹیوب کے بیشتر ویڈیو تک سب کی رسائی ممکن ہو سکے گي۔’ماضی میں جن لوگوں کو اس کی رسائی حاصل نہیں تھی انہیں بھی اس تک رسائی ہونے سے معلومات کا عمل جمہوری ہوجائےگا۔ اس سے باہمی تعاون اور اور افہام و تفہیم میں اضافہ ہوگا‘۔

گزشتہ برس نومبر میں یو ٹیوب نے بہت کم جگہوں پر آٹومیٹک کیپشن کی سہولیت فراہم کی تھی جس میں کیلیفورنیا، ییل اور برکلے جیسی یونیورسٹیاں اور نیشنل جیوگرافک شامل ہیں۔

گوگل کے ایک انجینیئر مائک کوہن کا کہنا ہے کہ بولے گئے الفاظ کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی تقریباً پچاس برسوں سے موجود ہے لیکن بڑے پیمانے پر اس کا استعمال اب ہوگا۔

ان کا کہنا ہے ’میں سپیچ ٹیکنالوجی پر گزشتہ پچیس برسوں سے کام کرتا رہا ہوں۔ اس میں کافی بہتری آئی ہے اور یہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اس کے لیے مختلف تلفظ، بیک گراؤنڈ کی آوازیں زبان کی نوعیت اور تلفط کی ادئیگی پر کام کیا ہے‘۔

لیکن منصوبے پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ٹیکنالوجی پوری طرح کامیاب نہیں ہے۔ سپیچ ٹیکنالوجی کئی بار ایک لفظ کا تحریری ترجمہ اس سے ملتے جلتے لفظ کا کرتی ہے جس سے بات واضح نہیں ہو پاتی۔

سافٹ ویئر انجینیئر کین ہرینسٹین کا کہنا ہے’یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں لیکن یہ اس مسئلے کے حل میں پہلا صحیح قدم ہے۔ ہر لفظ کو صحیح طور پر پیش کرنا مشکل ہے لیکن کبھی کبھی اس سے فرق نہیں پڑتا اور کئی بار یہ مذاحیہ بھی ہو جاتا ہے‘۔

ویڈیو پر کیپشن دینے کا بیشتر حلقوں نے خیر مقدم کیا ہے۔کیلیفورنیا میں قوت سماعت سے محروم لوگوں کے سکول میں اس طرح کا ایک ویڈیو پیش کیا گيا جس پر کیپشن تھے۔ اسے دیکھنے کے بعد ایک طالب علم اینجل ہرمسن نے کہا ’ہمیں ایسا لگا کہ جیسے ہم اس دنیا کا حصہ ہی نہیں تھے۔ اب ہم پوری طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم بھی دوسروں کے برابر ہیں‘۔