روزانہ کا میٹھا تشدد کا باعث

برطانوی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو روزانہ میٹھا اور چاکلیٹ کھاتے ہیں ان میں بڑے ہو کر پرتشدد ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
کارڈف یونیورسٹی کی سترہ سو پچاس افراد پر مشتمل یہ تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں بچپن کی خوراک اور بڑے ہو کر پرتشدد ہونے میں تعلق جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دس سال کی عمر کے بچے جو روزانہ میٹھائی کھاتے ہیں واضح طور پر چونتیس سال کی عمر تک تشدد کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔
تحقیق کاروں نے سترہ سو پچاس افراد پر تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے یہ جانا کہ ان میں سے انہتر فیصد افراد جو چونتیس سال کی عمر میں پرتشدد تھے انہوں نے بچپن میں تقریباً ہر روز میٹھا اور چاکلیٹ کھائیں تھی۔
تحقیق کے مطابق دیگر عوامل جیسا کہ والدین کا رویہ، وہ جگہ جہاں بچہ رہتا ہے، سولہ سال کی عمر کے بعد تعلیم نہ حاصل کرنا، چونتیس سال کی عمر میں اپنی گاڑی نہ ہونا، کو کنٹرول کر بھی لیا جائے تو میٹھا کھانے اور پر تشدد رویے میں تعلق قائم رہتا ہے۔
اس تعلق کے بارے میں تحقیق کار بہت سی مثالیں دیتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بالغ افراد میٹھے میں شامل بعض اجزاء کے عادی ہو جاتے ہیں جو ان کے پرتشدد رویے کا باعث بنتی ہیں۔
اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر سائمن مور کا کہنا ہے کہ ’اگر بچوں کو روزانہ میٹھائیاں اور چاکلیٹ دی جائیں گی تو وہ اپنی خواہش کو حاصل کرنے کے لیے صبر کرنا نہیں سیکھ سکیں گے۔‘
’اگر بچے اپنی خواہش کو وقتی طور ترک کرنا نہیں سیکھیں گے تو وہ جارہانہ رویہ اپنائیں گے جس کا جرم سے گہرا تعلق ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یو کے فیکلٹی آف پبلک ہیلتھ کے صدر پروفیسر ایلن ماریون ڈیوس کا کہنا ہے کہ ’ایسے افراد جو بچپن میں ہی بہت جارہانہ اور زیادہ مانگ کرتے ہیں ان کو چپ رکھنے کے لیے زیادہ میٹھائی اور چاکلیٹ دی جاتی ہیں۔‘
’یہ ایک دلچسپ پہلو ہے جس پر مزید گہرائی میں جا کر تحقیق کی ضرورت ہے۔‘
فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن کی جولین ہنٹ کا کہنا ہے کہ ’یا تو یہ سراسر بکواس ہے یا پھر اپریل فول کا بہت برا مذاق ہے۔‘
’غیر معاشرتی رویوں کی وجہ معاشرتی اور ماحولیاتی عوامل جیسا کہ والدین کی جانب سے صحیح پرورش نہ ہونا ہوتی ہے، اس کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ آیا بچپن میں آپ نے زیادہ میٹھا کھایا یا نہیں۔‘







