تتلیوں کے اینٹینے میں جی پی ایس نظام

سائنسدانوں کے مطابق شمالی امریکہ میں پائی جانے والی مونارچ نامی تتلیاں ہجرت کرتے وقت منزل کے تعین کے لیے جس چوبیس گھنٹے کے کلاک کی مدد لیتی ہیں وہ ان کے دماغ کی بجائے اینٹینا (سینگ جس سے کیڑے ٹٹولتے ہیں) میں ہوتا ہے۔
جرنل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس دریافت کو حیرن کن قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ تتلیاں نقل مکانی کے دوران منزل کا اندازہ اپنے دماغ میں موجود چوبیس گھنٹے کے کلاک (دن اور رات کا اندازہ رکھنے والا نظام) سے کرتی ہیں۔
آسمان پر جیسے جیسے سورج اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے تو اس تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے تتلیاں اپنی منزل کا تعین کرتی ہیں۔
خیال رہے کہ ہر سال تقریباً دس کروڑ مونارچ تتلیاں موسم خزاں میں شمالی امریکہ سے جنوب کی جانب چار ہزار کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں۔
پچاس سال پہلے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق تتلیوں کے اینٹینے اگر ہٹا دیے جائیں تو وہ صحیح سمت میں سفر نہیں کر سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ کے مطابق امریکہ کے سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق کے دوران تتلیوں کے ایک گروپ کے اینٹینے ہٹائے تودوسری تتلیوں کے برعکس انہوں نے مختلف سمتوں میں اپنا سفر شروع کر دیا۔
تحقیق میں شامل ڈاکٹر سٹیون ریپرٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ تتلیوں کے اینٹینوں میں روشنی محسوس کرنے کی صلاحیت اور چوبیس گھنٹے کا کلاک موجود ہوتا ہے انہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک گروپ کے اینٹینے پر کالا رنگ جبکہ دوسرے پرشفاف رنگ کیا گیا اور دنوں گروپس کی حرکت پر نظر رکھی گئی۔ جس گروپ کے اینٹینے پر کالا رنگ گیا تھا انہوں نے غلط سمت کی جانب سفر شروع کر دیا اور جن کے اینٹینے پر شفاف رنگ تھا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق تتلیوں کے اینٹینے پر کالا رنگ کرنے کی وجہ سے وہ دن اور رات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر موجود گھڑی اپنا اندازہ درست نہیں رکھ پائی۔
تحقیق میں یہ رائے بھی دی گئی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دوسرے حشرات جن میں چونٹیاں اور شہد کی مکھیاں شامل ہیں وہ بھی اپنے اینٹینے کو اسی طرح استعمال کرتی ہوں۔







