’بلڈ پریشرسے عمر دس سال کم‘

f
،تصویر کا کیپشنروز مرہ زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے پچاس برس سے لمبی زندگی گزار سکتے ہیں: پروفیسر برگ

ایک تحقیق کےمطابق ایسےتمباکو نوش مرد جنہیں ہائی بلڈ پریشر،ہائی کولیسٹرول ہو ان کی عمر اوسطاً دس سال کم ہو جاتی ہے۔

اڑتیس سال تک جاری رہنے والی یہ تحقیق انیس ہزار سرکاری ملازموں پر کی گئی اور جب یہ تحقیق ختم ہوئی تو انیس ہزار میں سے تیرہ ہزار پانچ سو افراد وفات پا چکے تھے۔

برطانیہ کے میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چالیس سے زیادہ عمر کے مردوں کو خبردار کیا گیا ہےکہ انہیں اپنے دل کی صحت پر نذر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

یہ تحقیق انیس سو ستر میں اس وقت شروع کی گئی جب برطانیہ میں رگوں کی بیماری بہت زیادہ تھی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق ایسے مرد جن میں یہ تینوں عناصر پائے جاتے ہیں وہ پچاس سال کی عمر کے بعد اپنے صحت مند ہم عمروں سے دس سال کم جیتے ہیں۔

برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے اوپر کی عمر والے ہر فرد کو دل کی صحت پر لازمی نظر رکھنا ہوگی۔

تحقیق میں شامل مردوں کا قد، وزن، بلڈ پریشر، پھیپھڑوں کی حالت، کولیسڑول اور شوگر کی مقدار چیک کی گئی اور اس کے ساتھ ان کا پچھلا طبی ریکارڈ، تمباکو نوشی کی عادت، نوکری کا درجہ اور شادی شدہ زندگی کے بارے میں ایک جامع سوالنامہ بھی حل کروایاگیا تھا۔

اس کے بعد ان مردوں پر چالیس سال تک نظر رکھی گئی اور دو ہزار پانچ کے بعد ان انیس ہزار میں سے تیرہ ہزار پانچ سو ایک کی اموات واقع ہو چکی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقیقین نے تمباکو نوشی، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول پر توجہ دی ہے کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے ۔ایسے افراد جن میں کولیسڑول کی سطح بلند ہوتی ہے ان کی عمر چوہتر سال اور جن یہ تینوں عناصر نہیں ہوتے ان کی عمر تیراسی سال تک ہو سکتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر پیٹر ویسبرگ کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق کی وجہ سے بلڈ پریشر، کولیسڑول اور تمباکو نوشی کی وجہ سے عمر میں کمی کا معلوم ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق سے ایک مضبوط وضاحت ہوتی ہے کہ درمیانی عمر میں ان تینوں عناصر کی وجہ سے عمر کم ہو سکتی ہے۔

پروفیسر برگ یہ ایک اچھی خبر ہے کہ اب ہم اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے پچاس برس سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔