خلائی ملبے سے تصادم کا خطرہ ٹل گیا

بین الاقوامی خلائی مرکز کے تین رکنی عملے کو اس وقت روسی سیوز کیپسول میں پناہ لینا پڑی جب کچھ وقت کے لیے یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ خلا میں گردش کرنے والا کچھ ملبہ خلائی مرکز سے ٹکرا نہ جائے۔
یہ واقعہ روسی علاقے سائبیریا کے اوپر خلاء میں دو مصنوعی سیارچوں کے تصادم کے قریباً ایک ماہ بعد پیش آیا ہے۔
روسی خلاباز یوری لونچاکوو، اور امریکی خلا بازوں ماییکل فنک اور سانڈرا میگنس کو قریباً نو منٹ تک سیوز ہنگامی کیپسول میں رہنا پڑا۔ جس کے بعد وہ خلائی مرکز میں واپس آگئے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ملبے کےخطرے کا پتہ اتنی دیر سے چلا کہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ خلائی مرکز کا رخ تبدیل کیا جا سکے۔ ناسا حکام کے مطابق ملبہ دراصل ایک ’پے لوڈ ایسِٹ موٹر‘ کاایک پرزہ تھا جس کا حجم ایک سنٹی میٹر کے قریب تھا۔
حکام کے مطابق خلابازوں کو کیپسول میں منتقل کرنے کا فیصلہ احتیاطاً لیا گیا اور ملبے کے خلائی مرکز سے ٹکرانے کے امکانات بہت ہی کم تھے۔ خلائی مرکز کے قوانین کے مطابق اگر خلاء میں گردش کرنے والا ملبہ ایک خاص حد کی دوری پر ہو تو عملے کو مرکز سے نکالا جانا ضروری ہو جاتا ہے۔
اس وقت ایک اندازے کے مطابق خلاء میں اٹھارہ ہزار ملبے کے ٹکڑے محوِ گردش ہیں۔ جنوری دو ہزار سات میں چین کی جانب سے اپنے ایک سیارچے کو میزائل سے تباہ کرنے کے عمل سے خلاء میں موجود ملبے کی تعداد میں کم از کم ڈھائی ہزار ٹکڑوں کا اضافہ ہوا تھا۔



