شمالی علاقہ جات تاریخ خطرے میں

- مصنف, مختار آزاد
- عہدہ, کراچی
شمالی علاقہ جات آنے والے کم لوگ جانتے ہیں کہ فلک بوس پہاڑوں کی اکثر چٹانیں تاریخ کےارتقائی ادوار کا نقش لیے ہوئے ہیں۔ منقش چٹانیں جنہیں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اہم نقوش قرار دیا تو مقامی لوگوں نے انہیں شکاریوں کی نشانیاں اور چرواہوں کا آرٹ کہاہے مگر اب انہیں غرقابی کا خطرہ ہے۔
گلگت سے کچھ پہلے ’پڑی‘ کے مقام پر دریائے سندھ اور دریائے گلگت کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہیں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کا بھی ملاپ ہوا۔ دریائے سندھ کے بالائی حصے کے کنارے پر چٹانوں پر اپنی نوع میں منفرد اور دنیا کا سب سے بڑا کندہ کاریوں کا مجموعہ پایا جاتا ہے۔
تاریخ کے پس منظر میں جھانکیں تو موجودہ پاکستان کے اس پہاڑی خطے میں کئی اہم تجارتی راستے ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے چین اور وسط ایشیا کو برصغیر پاک و ہند سے ملاتے تھے۔ دریائے سندھ کی گھاٹیوں اور بلند پہاڑی درّوں سے گزرنے والے راستے، شاہراۂ ریشم کے وہ حصے ہیں جو قدیم چین کے عالی شان شہر چنگن سے نکلا اور بڑے تجارتی مرکز جیسے ڈن ہوانگ اور خوٹان سے گزر کر کاشغر سے شمالی ہندوستان تک پہنچ گیا۔
ماہرینِ ارضیات و آثار قدیمہ ِ کے خیال میں ابتدائی نو حیاتیاتی دور (چھ ہزار، دو سو قبل مسیح سے ساڑھے نو ہزار قبل مسیح تک) سے اس علاقے کی آب و ہوا شدید بارشوں کے زیرِ اثر تھی۔ جس کے باعث وادیوں میں خوب نباتات اگتی تھی۔ سبزے کے بدولت جنگلی حیات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ جس کی بنا پر شکار کی تلاش میں انسان کا رخ بھی اس جانب ہوگیا۔ انہی شکاریوں میں سے بعض نے یہاں کی چٹانوں پر آئی بیکس، مارخور، نیلی بھیڑ جیسے جانوروں کی ابتدائی تصویریں، شکار کے مناظر اور انسانوں کی مختلف قسم کی تصویریں کندہ کیں۔ مغربی محققین کا کہنا ہے کہ تحت الفطری انداز کی آؤٹ لائن ڈرائنگ میں کندہ جانوروں کی زیادہ تر تصویروں کا عرصہ تین ہزار سال قبل مسیح تک کا ہوسکتا ہے۔
گنش کی کندہ کاریوں کو محفوظ کرنے کے لیے حکومت اور خود مقامی باشندووں نےنہایت سرگرمی دکھائی۔ ہنزہ کےمقامی تاریخ دان محمد یحییٰ کے بقول'یہ ان چرواہوں کا فنِ مصوری ہے جو ہمارے اجداد تھے‘۔ ان کندہ کاریوں کا تحفظ اپنی میراث کا تحفظ کرنا ہے۔ مگر چلاس میں ایک مختلف صورتِ حال ہوئی۔

مقامی صحافی محمد جمیل کے مطابق 'جب امریکی افواج نے تورا بورا پر بمباری کی تو جذبہ اسلام سے مغلوب مقامی چلاسیوں نے اکثر کندہ کاریوں کو غیر اسلامی قرار دے کر ان پر چونا پھیردیا۔ یوں اپنے ہی تاریخی ورثے کو برباد کر کے امریکا سے بدلہ لینے کی کوشش کی۔ شاہراہ قراقرم کے ساتھ لبِ سڑک جو کندہ کاریاں باقی بچ گئیں، ان پر اشتہارات لکھے جانے لگے۔‘ یہ چرواہوں کا فنِ مصوری تھا یا ہزاروں سال پہلے تحریر کے ارتقائی سفر کا منظر نامہ۔ ایک بات طے ہے کہ تورا بورا کے انتقام، اشہار بازی کا شکار اور ان سب سے محفوظ کندہ کاریوں کے تمام نادر نمونوں کی بڑی تعداد غرقِ آب ہونے والی ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ چند برس قبل حکومت نے چلاس کے نزدیک دریائے سندھ پر 'بھاشا دیامر ڈیم، کی تعمیر شروع کی۔ جس کے نتیجے میں چٹانی کندہ کاریوں کی بڑی تعداد ڈیم میں ڈوب جائے گی۔
ہائیڈلبرگ اکیڈمی فار سائنسز و ہیومینیٹز، جرمنی کے تحت گزشتہ دو دہائیوں سے چلاس اور دیامر میں پاک جرمن آرکیالوجیکل مشن کام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد کندہ کاریوں کو محفوظ کرنا ہے۔ مشن کے جرمن سربراہ پروفیسر ہارلڈ ہاپمن کے مطابق' چلاس اور تھلپن کے اِرد گِرد جو چٹانی نقش اور تحریریں ملتی ہیں، وہ چھٹی یا ساتویں قبل مسیح سے لے کر، سولہویں صدی عیسوی تک اسلام کی آمد تک کی ہیں۔ ڈیم بننے سے منقش گیلری کا بڑا حصہ زیرِ آب آجائے گا، جو ثقافتی تاریخ کے لیے بڑا سانحہ ہوگا۔ ہمارے منصوبے کا سب سے بڑا مقصد معلوم کندہ کاریوں والی چٹانوں کی دستاویز کاری کرنا ہے۔ جن میں 60ہزار سے زیادہ تصویریں اور تحریریں ہیں۔ 2008 تک ان میں سے 40 ہزار' 805 نقوش اور عبارتوں کو رجسٹرڈ کیا جاچکا ہے۔‘ پاکستان کی وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات شیری رحمان کے مطابق دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے غرقاب ہونے والی کندہ کاریوں کو محفوظ بنانے اور منتقل کرنے کے لیے واپڈا نے 31 ملین روپے مختص کیے ہیں۔
ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن شمالی علاقہ جات کے ڈپٹی ڈائریکٹر یاسر حسین کا کہنا ہے کہنا ہے کہ ’حکومتِ پاکستان، عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تعمیرات منقل کرنے والے اداروں کے اشتراک سے غرقابی کے خطرے سے دوچار منقش چٹانوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ کوشش ہے کہ جن چٹانوں کے منقش حصے کاٹ کر علیحدہ کیے جاسکتے ہیں وہ کرلیے جائیں۔ بعد ازاں ان پر مشتمل میوزیم قائم کیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال عمدہ ہے لیکن ڈیم کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔ اگر حکومتی خیال کو جلد حقیقی شکل نہ ملی تو کسے خبر یہ نقش کل کہاں ملیں گے؟ زیرِ آب یا زیرِ آسمان ۔۔۔ ابھی کوئی بات حتمی نہیں ہے!!!







