برطانوی کمپنی کے 36 سیٹلائٹ لے کر انڈین راکٹ مدار کے لیے روانہ

لندن میں قائم سیٹلائٹ کمپنی ون ویب اپنے عالمی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم کے 36 خلائی جہاز کی لانچ کے ساتھ دوبارہ فعال ہو گئی ہے۔

انڈین خلائی تحقیقی ادارے اسرو نے یہ سسٹم لانچ کیا ہے اور یہ زمین کے زیریں مدار کے لیے سری ہری کوٹا جزیرے سے جی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے چھوڑا گیا ہے۔

ون ویب کی اپنے ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کو مدار میں تعینات کرنے کی کوششیں مارچ میں روک دی گئی تھیں کیونکہ اسے روسی سویوز راکٹوں کے ذریعے بھیجا جانا تھا لیکن اسے روسی راکٹوں کے استعمال کو معطل کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اتوار کو کیے جانے والے لانچ کے بعد اب زمین کے اوپر مدار میں موجود سیٹلائٹس کی مجموعی تعداد 462 ہو گئی ہے۔

اس سے ون ویب کو دنیا بھر میں اپنی کوریج کے لیے ان کی مجموعی ضرورت کا 70 فیصد سے زیادہ حاصل ہوگا۔ یہ ان کا فرسٹ جنریشن سیٹلائٹ کا جھرمٹ ہے۔

اس کمپنی کے کچھ حصے کی ملکیت برطانوی حکومت کے پاس ہے اور اگلے سال کے وسط تک اس کے پوری طرح رول آؤٹ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل یعنی جی ایس ایل وی (GSLV) انڈیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد راکٹ ہے۔ یہ مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح وسطی ریاست آندھرا پردیش میں ستیش دھون سپیس پورٹ سے روانہ ہوا۔

تمام سیٹلائٹس کو 600 کلومیٹر کی بلندی پر اتارنے میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگا۔ جبکہ خلائی جہاز پر آئن انجنوں کو ان کے آپریشنل 1,200 کلومیٹر قطبی مدار میں منتقل کرنے میں کچھ ہفتے لگیں گے۔

مارچ میں اس ون ویب کی صورتحال بہت غیر یقینی نظر آ رہی تھی۔ کمپنی نے جو منصوبے بنا رکھے تھے وہ روس اور یوکرین درمیان جنگ کی وجہ سے ناکام ہو گئے۔

جنگ اور اس کے نتیجے میں روس کے خلاف مغربی پابندیوں نے کمپنی کو روسی سویوز راکٹوں تک رسائی سے محروم کر دیا۔

مدار میں اپنے صرف دو تہائی سیٹلائٹس کے ساتھ ون ویب کو دوسرے کیریئرز کی تلاش میں تیزی سے آگے بڑھنا پڑا۔ راکٹ کی خدمات فراہم کرنے والی امریکی کمپنی سپیس ایکس اور ریلیٹیویٹی سپیس کے ساتھ انڈیا کی خلائی ایجنسی اسرو کے تجارتی ونگ نیو سپیس انڈیا لمیٹڈ، جو جی ایس ایل وی کی مارکیٹنگ کرتی ہے، کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

ون ویب پہلے سے ہی 50 ڈگری شمال اور جنوب میں بیٹا صارفین کو تیز رفتار براڈ بینڈ کنکشن کی خدمات پیش کر رہا ہے۔ یہ تازہ ترین لانچ اور سال کے اختتام سے پہلے ایک اور لانچ اس کے کوریج کو خط استوا کے خطے کے مزید قریب لے جائے گی۔

ون ویب کے سی ای او نیل ماسٹرسن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ لانچز کرنے تھے جو ہم کرسمس سے پہلے کر رہے ہیں اور یہ ہمیں 25 ڈگری شمال اور 25 ڈگری جنوب میں خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ پھر ہم موسم بہار تک اس کے پورے جھرمٹ کو لانچ کر دیں گے جس سے ہم اگلے سال کے آخر تک عالمی تجارتی خدمات کو مکمل کرنے کے قابل ہو جائيں گے۔‘

بڑی خبر یہ ہے کہ مارچ سے کہا جا رہا ہے کہ ون ویب اور پیرس میں قائم کمپنی یوٹیلسیٹ کے درمیان انضمام ہونے کو ہے۔

فرانسیسی کمپنی 36,000 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں، جسے جیوسٹیشنری مدار کہا جاتا ہے، ٹیلی کمیونیکیشن خلائی جہاز چلاتی ہے۔ یہ کمپنی ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹی وی کی دنیا میں سب سے بڑے ڈسٹری بیوٹرز میں سے ایک ہے۔

انضمام کا منصوبہ فی الحال مسابقت اور ریگولیٹری منظوری کے عمل کے پراسیس سے گزر رہا ہے۔

اسرو کا کہنا ہے کہ کہا کہ یہ مشن نیوز سپیس انڈیا لمیٹڈ اور برطانیہ میں قائم نیٹ ورک ایکسیس ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (ون ویب لمیٹڈ) کے درمیان تجارتی انتظامات کے ایک حصے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

یہ مشن اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ ایل وی ایم 3 کا پہلا تجارتی مشن ہے اور یہ این ایس آئی ایل کا پہلا راکٹ لانچ ہے۔

اسرو نے کہا کہ اس مشن میں ون ویب کے 36 سیٹلائٹس کا پے لوڈ ہے اور یہ انڈیا کا پہلا راکٹ ہے جو 5796 کلوگرام وزن کے ساتھ روانہ ہوا ہے۔