آزادی سیٹ نامی سیٹلائٹ کے ذریعے انڈیا کی 750 طالبات کے خواب کو خلا میں لے جانے کا مشن

    • مصنف, دلنواز پاشا
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی

انڈیا کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر مودی حکومت کی طرف سے ملک بھر میں منائے جانے والے 'امرت مہوتسو‘ (امرت جشن) کے ایک حصے کے طور پر انڈیا کا خلائی ادارہ اسرو اتوار کو ’آزادی سیٹ‘ نامی ایک سیٹلائٹ لانچ کر رہا ہے۔

اس سیٹلائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بنانے کے لیے ملک بھر کے 75 سرکاری سکولوں کی 750 طالبات نے تعاون کیا ہے۔

یہ سیٹلائٹ ’سپیس کڈز انڈیا‘ نامی کمپنی نے بنائی ہے اور اسے اسرو کی سمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SSLV) سے لانچ کیا جائے گا۔

اور اس طرح یہ ایس ایس ایل وی کی پہلی پرواز بھی ہو گی۔

یہ سیٹلائٹ خلیج بنگال میں موجود ایک جزیرے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا جائے گا اور اس دوران 400 سے زائد طالبات جو اس پراجیکٹ کا حصہ تھیں وہ بھی وہاں موجود ہوں گی۔

آٹھ کلوگرام وزنی اس سیٹلائٹ میں 75 فیمو تجربات کیے گئے ہیں اور یہ سیلفی کیمرہ سے بھی لیس ہے جو اپنے ہی سولر پینلز کی تصاویر لے گا۔

اس میں طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جانے والے مواصلاتی آلات بھی موجود ہیں۔

خوابوں کی پرواز

سپیس کڈز انڈیا کی سی ای او ڈاکٹر شریمتھی کیسن نے بی بی سی کو بتایا: ’آزادی سیٹ میں 750 لڑکیوں کا جذبہ شامل ہے۔ یہ ان کے آگے بڑھنے کا خواب ہے۔ ملک کے مختلف حصوں کے سرکاری سکولوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو اس پراجیکٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اس کا مقصد لڑکیوں میں سائنس سے متعلق بیداری پیدا کرنا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ اس پراجیکٹ سے براہ راست صرف 750 لڑکیاں جڑی ہیں لیکن اس کے ذریعے ہم نے سائنس کو لاکھوں بچوں تک پہنچایا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اضلاع اور قصبوں کے سکولوں کو اس سے جوڑا گیا ہے۔‘

سیٹلائٹ کا پے لوڈ تیار کرنے کا منصوبہ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہا اور اس دوران پراجیکٹ سے وابستہ طالبات کو آن لائن کلاسز دی گئیں۔

کیسن کہتی ہیں: ’آزادی سیٹ پرواز کو تیار ہے۔ لیکن اس پراجیکٹ کی سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ ہم سائنس کو ان سکولوں اور بچوں تک لے گئے جو بہت پسماندہ ہیں۔ اس پراجیکٹ کا اصل مقصد لڑکیوں میں سائنسی سوچ پیدا کرنا ہے۔‘

اس پراجیکٹ سے وابستہ 750 میں سے کل 462 لڑکیوں کو سیٹلائٹ لانچ دیکھنے کے لیے سری ہری کوٹا لے جایا جا رہا ہے۔

کیسن کہتی ہیں: ’لڑکیوں کا اسرو تک پہنچنا اور ہمارے سیٹلائٹ کو لانچ ہوتے دیکھنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہم تمام طالبات کو لانا چاہتے تھے لیکن لاجسٹک وجوہات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘

سپیس کڈز انڈیا کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر رفعت شاہ رخ، جنھوں نے سیٹلائٹ تیار کیا ہے، انھوں نے انڈین خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ اس مشن کا مقصد سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس) میں خواتین کو آگے لانا ہے کیونکہ رواں سال اقوام متحدہ کی تھیم ’خلا میں خواتین‘ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایس ایس ایل وی کا وزن 500 کلوگرام سے کم ہے اور اسے زمین کے نچلے مدار میں تعینات کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ زمین کا مشاہدہ کرنے اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے جیسی ایپلی کیشنز کے لیے ایس ایس ایل ویز کی بہت زیادہ مانگ ہے۔

ایس ایس ایل وی کی پہلی نمائشی پرواز کا بنیادی پے لوڈ ایک زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ مائیکروسیٹ 2 اے ہے۔

صرف لڑکیاں ہی کیوں؟

اس پراجیکٹ میں لڑکیوں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے مز کیسن کہتی ہیں: ’میں این سی سی سے منسلک تھی، ایک بہترین کیڈٹ تھی اور براہ راست فوج میں بھرتی ہوئی تھی۔ لیکن میری شادی صرف 18 سال کی عمر میں ہو گئی۔‘

’ایک لڑکی کے سامنے جو چیلنجز ہوتے ہیں میں ان سے گزر چکی ہوں۔ میرا خواب لڑکیوں میں شعور پیدا کرنا اور انھیں بڑے خواب دیکھنا سکھانا تھا۔ خلا میں اپنے خواب کو پہنچانے سے بڑا کیا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس پروجیکٹ میں صرف لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ وہ بڑے خواب دیکھیں۔‘

کیسن کہتی ہیں: ’جب ہم طالبات کے لیے آن لائن کلاسز لے رہے تھے، تو ہم انھیں نہ صرف سائنس سکھا رہے تھے بلکہ انھیں یہ اعتماد بھی دے رہے تھے کہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں اور کہیں بھی پہنچ سکتی ہیں۔ جو لڑکیاں ہم سے وابستہ ہیں، وہ اب ایک سائنسدان بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ہم نے بچیوں کے ذہنوں میں سائنس اور خود اعتمادی کا بیج بو دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس سے ایک ایسا پل بنے گا جو انھیں ترقی اور فروغ سے جوڑے گا، بچیوں کی ترقی کے بغیر ملک کی مکمل ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘

انڈیا اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن منا رہا ہے لیکن سماجی اور اقتصادی طور پر ملک کی نصف آبادی کو ابھی بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈیا میں خواندگی کی شرح 74 فیصد ہے لیکن خواتین کی شرح خواندگی صرف 64 فیصد ہے۔

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں اعلیٰ تعلیم کے معاملے میں 100 مردوں کے مقابلے میں صرف 81 خواتین نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے داخلہ لیا۔

سائنسی مزاج پیدا کرنے کے لیے

شریمتھی کیسن کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کا مقصد طالبات کی سوچ کا دائرہ وسیع کرنا اور انھیں سائنس کے شعبے میں مواقع فراہم کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’بہت سی طالبات نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ سائنسدان بن سکتی ہیں۔ انھوں نے انجینئر یا ڈاکٹر بننے کا خواب پالا ہوگا، لیکن سائنسدان بننا ان کے ذہن سے باہر تھا، اب ہم نے ان کے دماغ میں سائنس کا بیج بو دیا ہے۔ وہ سائنسدان بننے کا خواب دیکھنے لگی ہیں۔‘

اس پراجیکٹ سے ملک کے مختلف حصوں کے 75 سرکاری سکولوں کی طالبات کو جوڑا گیا ہے۔

مال روڈ امرتسر پر واقع گورنمنٹ گرلز سکول کی طالبات کی ایک ٹیم بھی لانچ کا حصہ بننے کے لیے سری ہری کوٹا پہنچ گئی ہے۔

بی بی سی کے معاون صحافی رویندر سنگھ رابن سے بات کرتے ہوئے اس ٹیم میں شامل طالبات نے خوشی کا اظہار کیا۔

طالبات کی اس ٹیم نے سیٹلائٹ کے لیے ایک چپ بنائی ہے جو خلا میں تجربے کا حصہ ہو گی۔ اس میں کئی سینسر لگے ہیں۔

ٹیم کی ایک رکن ایلیزا کہتی ہیں: ’ہمیں یہ چپ بنانے میں چھ مہینے لگے۔ یہ چپ سیٹلائٹ میں نصب کی گئی ہے۔ میرے ذہن میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ بہت زیادہ پرجوش ہوں۔ ایک نئی جگہ جا رہے ہیں۔ ایسی جگہ، جہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔‘

ان میں سے بہت سی طالبات کے لیے یہ پہلا موقع ہے، جب وہ اپنے شہر سے باہر جا رہی ہیں۔

ایسی ہی ایک طالبہ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: ’میں پہلی بار ہوائی جہاز میں سوار ہو رہی ہوں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں فلائٹ میں بیٹھوں گی، لیکن خواب سچ ہوتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں: ’اس پراجیکٹ نے مجھے خواب دیکھنا سکھایا ہے کہ میں مستقبل میں خود ایک سائنسدان بن جاؤں۔‘

کیسن نے اس پراجیکٹ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وہ کہتی ہیں: ’وزیر اعظم کی سب سے بڑی حمایت یہ ہے کہ انھوں نے اس کے لیے ہاں کہہ دی ہے۔ اب ہمارا خواب ہے کہ جو لڑکیاں اس کا حصہ تھیں، انھیں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے کا موقع ملنا چاہیے۔‘

کیسن کہتی ہیں: ’وزیر اعظم نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دیا ہے۔ ہم بیٹیوں کو خلا میں لے جا رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ بیٹیاں سائنس کے ذریعے ملک کی ترقی کا حصہ بنیں گی۔‘

انڈیا میں لڑکیوں کو بہت سی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور زندگی اور معاشرے کے کئی شعبوں میں لڑکیاں آج بھی برابری کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

شریمتھی کیسن نے کہا: ’میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ لڑکیوں کو ابھی بھی مکمل آزادی حاصل نہیں ہے، لیکن لڑکیوں نے بھی بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ آج ہم لڑکیوں کے لیے بنایا گیا ایک سیٹلائٹ لانچ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

کیسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں لوگوں کے ذہنوں سے وہ تصویر نکالنی ہو گی جس میں انڈیا کی بیٹی کو گندے کپڑے پہنے اور سر پر پانی کا برتن اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ ہم بیٹیوں کے ہاتھوں میں سیٹلائٹ دے رہے ہیں۔ ہم یہ تصویر دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔‘