آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووڈ 19: کورونا وائرس کی یہ وبا کیسے بے وقت موت کا سبب بن سکتی ہے؟
- مصنف, ولیم لوپیز لیوک
- عہدہ, دی کونورسیشن
دنیا کے مختلف ممالک میں موسم سرما کا آغاز ہونے والا ہے، ایسے میں نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریاں عام ہوں گی۔ درحقیقت، بحرالکاہل (اوشیانا) ممالک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فلو کی لہر 2022-2023 میں خاص طور پر جارحانہ ہو سکتی ہے۔
اس پیشگوئی میں ہمیں یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ یہ ممکنہ طور پر کووڈ کی ایک نئی لہر بھی ساتھ لا سکتی ہے جو کووڈ کی موجودہ اقسام سے زیادہ مؤثر اور طاقتور ہو گی۔
اسی لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ یورپ میں اقدامات کیے جائیں اور صحت کی بنیادی سہولیات کو مربوط کیا جائے کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
کووڈ میں سانس لینے میں مشکل کی علامات کے علاوہ ( جس میں نزلہ سے جان لیوا نمونیا تک شامل ہو سکتا ہے) ہمیں ایک اور تشویشناک حقیقت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وہ ہے سارس کوو 2 (کووڈ) اور دیگر سانس کے وائرس دل کے امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔
درحقیقت دیگر وبائی امراض سے ہونے والی تباہی کے بعد ہمارے پاس جو علم ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علامات زندگی کی متوقع عمر کو متاثر کر سکتی ہیں اور قبل از وقت موت کا باعث بن سکتی ہیں۔
سنہ 1918 میں فلو کی عالمی وبا کے بعد اس وقت کی سائنسی تحقیق میں دماغی دھند اور شدید تھکاوٹ کی علامات کو بیان کیا گیا، جو آج بھی کووڈ 19 کی وبا سے وابستہ دو علامات ہیں۔
لیکن فلو کی عام علامات کے علاوہ سنہ 1918 کی فلو کی وبا کے بعدازاں سامنے آنے والے اثرات نے ایک بہت ہی پریشان کن نتیجہ چھوڑا تھا جس میں اس سے متاثرہ افراد میں دل کے دورے کی ایک لہر تھی، جس نے 1940 اور 1959 کے درمیان دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
فلو وبا سے متاثرہ افراد میں دل کے دورے کی یہ لہر بہت عجیب اور بظاہر ناقابل بیان تھی مگر آج ہم جانتے ہیں کہ اس کا تعلق گذشتہ فلو کی وبا سے تھا۔ اس فلو وبا کے وائرس نے چند متاثرین میں دل کے پویشدہ عارضے کی صورت میں ایک ٹائم بم چھوڑ دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دل کی بیماریوں کی اس لہر نے خاص طور پر مردوں کو متاثر کیا، بالکل اسی طرح جیسے فلو کی وبا نے اور اب حال ہی میں کووڈ 19کی وبا نے متاثر کیا۔ اس کی ایک ممکنہ وضاحت یہ دی گئی کہ سنہ 1918 میں وبا سے زندہ بچ جانے والے 20 سے 40 سال کی عمر کے مردوں میں غیر معمولی مدافعتی ردعمل کی وجہ انھیں قبل از وقت اموات کا خطرہ بڑھنے لگا۔
لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سنہ 1918 میں جن افراد کو فلو کی وبا نے متاثر کیا تھا اب ان میں 60 کی عمر میں دل کے عارضے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔
بعد ازاں اس پر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انفلوائنزا وائرس کے انفیکشن کے باعث ایتھیروسلی روسس کے (دل کی ایک بیماری جس میں ایک غیر لچکدار مادہ دل اور اس کی شریانوں پر جمع ہو جاتا ہے) امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے تھے اور دل کے دورے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس سے دل کی شریانوں کی اندرونی جھلی کو تیزی سے نقصان پہنچنے کی وجہ سے وہاں خون جمتا اور دل کے دورے کا خطرہ ہوتا۔
کووڈ اور دل کے امراض
کووڈ وبا کے ابتدائی چند ماہ کے بعد حاصل شدہ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ کووڈ وائرس کی وجہ سے دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ کووڈ متاثرہ افراد میں دل بند ہونا، مائیلو کارڈیل (یعنی دل میں خون کی کمی ہونا)، دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ اور بے ربط ہونا اور دل کی شریانوں کی شدید بیماری شامل تھی۔
ان علامات کی وضاحت کے لیے، دو امکانات پر غور کیا جاتا ہے اور دونوں ہی مستقل شواہد پر مبنی ہیں:
پہلا یہ کہ وائرل انفیکشن کے خلاف ایک انسان کا غیر متوازن مدافعتی ردعمل جسم میں ایک سوزش کے عمل کا سبب بنتا ہے جو دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جسم کے اعضا میں سوزش جس کا زیادہ سے زیادہ اثر سائٹوکائن طوفان ہے، دل کی شریانوں کی بیماری یا شریانوں میں سوزش کا سبب بنتا ہے۔ لہذا ایسے کووڈ سے متاثر ہونے والے ایسے افراد جن میں پہلے ہی دل کے عارضے کی شکایت تھی یہ سوزش ان کی تکلیف مزید بڑھا دیتی ہے۔
کووڈ وائرس اے سی ای 2 پروٹین کا استعمال کرتے ہوئے خلیہ میں داخل ہوتا ہے جو انسانی جسم میں خون کی نالیوں میں اینڈوتھلیل خلیوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔
یہ پروٹین انسانی جسم میں دل کے نظام کو کام کرنے، فشار خون کو قائم رکھنے، انسانی خلیوں میں برقی لہر بنانے، خون کی نالیوں کو صحت مند رکھنے اور سوزش کے لیے نہایت اہم ہے۔
کووڈ 19 سے متاثرہ خواتین میں بڑھتے اسقاط حمل
جیسا کہ کووڈ وائرس اینڈوتھیلیم کو متاثر کرتا ہے تو یہ بہت ممکن ہے کہ یہ پلاسینٹا (جفت جنین، جو حمل کے تیسرے ماہ ظاہر ہوتی ہے اور رحم کی اندرونی دیوار کے ساتھ ملحق ہوتی ہے) سمیت دل کے انتہائی اہم ٹشوز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے۔
یہ بھی پڑھیے
یہ بات اس کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ خواتین جو کووڈ سے متاثر ہوئی ان میں اسقاط حمل کی شرح زیادہ ہے۔ درحقیقت کووڈ سے متاثرہ حاملہ خواتین میں دل کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان، بالکل ویسا تھا جیسا ان حاملہ خواتین میں تھا جنھیں انتہائی بلند فشار خون کے مرض پریکلامسیا کا مسئلہ تھا۔ یہ حاملہ خواتین میں ایک انتہائی بلند فشار خون کا مرض ہے جس سے دل کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے ان کا حمل گر جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، دیگر تحقیقوں سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی حمل میں وائرس جنین کے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو سوزش کے عمل سے منسلک ہوتا ہے۔
ویکسین اور مایوکارڈائٹس کے مرض میں تعلق کے کوئی شواہد نہیں
پروٹین ایس کے اینڈوتھیلیم پر اثر کا تعلق ایم آر این اے سے تیارکردہ ویکسین کی وجہ سے ممکنہ دل کی شریانوں کے نقصان سے جوڑا گیا ہے۔ کووڈ ویکسینز اس پروٹین کو ٹشوز میں پیدا کرتی ہیں تاکہ مدافعتی نظام اسے پہچان لے اور اس کے خلاف متحرک ہو جائے۔ لیکن اس سے نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
اگرچہ ویکسین کے باعث دل کے امراض کے متعلق خبردار کیا گیا ہے مگر سائسنی اعداد و شمار سے اس خطرے کے متعلق شواہد نہیں ملتے۔
حال ہی میں شائع ایک تحقیق میں 192.5 ملین افراد کو امریکہ میں ویکسین لگائی گئی اور ان میں سے دس لاکھ میں سے صرف 8.4 افراد کو دل کی شریانوں کا مرض لاحق ہوا۔ اور ان میں سے بھی صرف 92 افراد کو زیادہ علاج کی ضرورت پڑی اور ان میں سے کسی کی بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔
لہذا اس طرح کا خوف پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویکیسن لگنے کے بعد ان افراد میں دل کی شریانوں کی مسئلے کی نشاندہی کی گئی جو ابتدا میں معمولی تھی۔ ان افراد میں قدرتی مدافعتی نظام کے تحت زیادہ سوزش کے عمل کو ظاہر کیا مگر یہ براہ راست پروٹین ایس کی وجہ سے نقصان نہیں تھا۔
دراصل، ویکسینیشن کے بعد خون میں پروٹین ایس کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے اور اینڈوتھیلیم پر اس کا اثر عارضی ہوتا ہے، جو چند دنوں میں غائب ہو جاتا ہے۔
دل کی شریانوں کو نقصان پہچنے سے بچانا
آج تک جمع کیے گئے تمام اعداد و شمار اور ماضی کے وبائی امراض کی مثالوں کے ساتھ، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ کووڈ 19، دیگر شدید سانس کے انفیکشن کی طرح، دل کے امراض کو مزید بڑھا سکتا ہے اور دل کی شریانوں کو تیزی سے نقصان پہنچا سکتا ہے یا نئے نقصان پیدا کر کے متوقع عمر کو کم کر سکتا ہے۔ یہ نقصان کووڈ انفیکشن کے مہینوں یا سالوں بعد بھی موت کا سبب بن سکتا ہے۔
خوش قسمتی سے، ویکسینیشن ان اثرات کے ساتھ ساتھ کووڈ 19 کے خلاف بھی موثر ثابت ہوئی ہے۔ اس کی سادہ سی دلیل ہے کہ اگر وائرس خون تک نہیں پہنچ سکتا تو یہ دل کے نظام کو متاثر نہیں کر سکتا۔
لہذا کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس ہمیں متاثرہ نہ کریں اور ویکسین سالوں بعد بھی زندگیاں بچا سکتی ہے۔