کتے اپنے مالک کی سانس سونگھ کر ذہنی تناؤ کی نشاندہی کر سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہQueen's University, Belfast
- مصنف, وکٹوریا گل
- عہدہ, سائنس نامہ نگار
کتا انسان کا بہترین دوست اور وفادار پالتو جانور ہے، یہ بات ایک بار پھر درست ثابت ہوئی ہے۔
اس بار کتوں کی سونگھنے کی حس پر سائنسی بنیادوں پر کیے گئے ایک تجربے سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ پالتو جانور ہمارے احساسات کو کتنی باریکی سے سمجھ سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس تجربے میں دریافت کیا کہ کتے ہماری سانس اور پسینے کی بو میں ذہنی تناؤ کو سونگھ سکتے ہیں۔
اس تجربے میں چار پالتو کتوں کو تین خوشبو والے کنستروں کو سونگھ کر ان میں سے ایک 'منتخب' کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔
ان کتوں کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر انھیں اس تجربے کے لیے پیش کیا تھا۔
اور 700 میں سے 650 مرتبہ ان کتوں نے کامیابی سے اس کنستر کا انتخاب کیا تھا جس میں ایک ذہنی تناؤ کے شکار شخص کے سانس یا پسینہ کا سیمپل رکھا گیا تھا۔
کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے محققین کو امید ہے کہ ان کی تحقیق جو کہ پلوس ون جریدے میں شائع ہوئی ہے، تھراپی کتوں کی تربیت میں مددگار ثابت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہVictoria Gill
کتے بو کے ذریعے اپنی دنیا کا تجربہ کرتے ہیں۔ اور ان کی خوشبو سونگھنے کی انتہائی حساس صلاحیتیں پہلے ہی منشیات، دھماکہ خیز مواد اور بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ جن میں بعض کینسر، ذیابیطس اور یہاں تک کہ کووڈ کے مرض کا پتہ بھی لگایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق کی سرکردہ محقق کلارا ولسن کا کہنا ہے کہ 'ہمارے پاس بہت سے شواہد موجود ہیں کہ کتے انسانوں سے ایسے بو سونگھ سکتے ہیں جو کہ بعض طبی حالات یا بیماری سے منسلک ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کے زیادہ ثبوت نہیں ہیں کہ وہ ہماری نفسیاتی یا ذہنی حالت میں تبدیلی کو بھی سونگھ سکتے ہیں۔`
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہQueen's University, Belfast
اس حوالے سے مزید تحقیق اور شواہد کے لیے 36 رضاکاروں کو ریاضی کا ایک مشکل سوال حل کرنے کے لیے دیا گیا جس کے بعد انھوں نے اس سوال کو حل کرنے سے پہلے اور بعد میں ذہنی تناؤ کے متعلق آگاہ کیا۔
ان میں سے ہر ایک نے اپنے ذہنی تناؤ کی کیفیت سے پہلے اور بعد میں یا اس دوران جب ان کا انتشار خون بڑھا یا دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی اپنے سانس یا پسینہ کا ایک نمونہ محفوظ کیا۔
اور جب ٹریو، فنگل، سوٹ اور وینی نامی یہ پالتو کتے اس تجربے کے دوران 'ذہنی تناؤ' والے سیمپل کے سامنے کھڑے رہے یا بیٹھ گئے تھے تو انھیں ان کی من پسند خوراک کھانے کو دی گئی تھی۔











