ایئر فرائر میں کھانا پکانا صحت بخش ہے یا اوون میں؟

سال 2021 میں برطانیہ میں ایئر فرائیرز کی خریداری میں 400 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایئر فرائر میں بہت کم تیل استعمال کیا جاتا ہے تو کیا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کھانا پکانے کے دیگر آپشنز کے مقابلے میں یہ صحت بخش آپشن ہے؟

ایسے وقت میں جب زندگی گزارنے کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہ سوال پوچھنا پڑتا ہے کہ ایئر فرائر کس طرح بجلی یا توانائی کی کھپت میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کا جیب پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

گریگ فوٹ بی بی سی ریڈیو فور کے سلائسڈ بریڈ پروگرام کے میزبان ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں دو ماہرین سے بات کی اور ایئر فرائرز کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

1. ایئر فرائر بھاپ میں کھانا پکاتا ہے

ایئر فرائر تقریباً بریڈ مشین کے سائز کا ہے اور کچن کاؤنٹر پر اچھی طرح فٹ بیٹھتا ہے۔ اس کے اندر رکھے ہوئے کھانے کے اردگرد بہت گرم ہوا بہت تیز رفتاری سے گزرتی ہے۔

جیکب راڈزیکوسکی امپیریل کالج لندن میں ایک کُلنری ایجوکیشن ڈیزائنر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ بنیادی طور پر بہت تیز اور بہت گرم ہوا ہے۔ آپ اسے ہیئر ڈرائر کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔‘

‘یہ بنیادی طور پر اوون کے پنکھے کی طرح ہے لیکن یہ چھوٹا ہے اور اندر کا پنکھا بہت تیز ہے۔‘

2. ایئر فرائر روایتی اوون کے مقابلے میں زیادہ جلدی کھانا تیار کر دیتا ہے

جیکب کا کہنا ہے کہ ایئر فرائر کا پنکھا بہت طاقتور ہے اور اس کا کمپارٹمنٹ بہت چھوٹا ہے اور یہ پوری مشین بہت کارآمد ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘میں ایک مرغی کی ٹانگ کو ایئر فرائر میں 20 منٹ میں پکا سکتا ہوں۔ اسے اوون میں پکانے میں تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔‘

اس کے ساتھ اگر اسے بڑی مشین میں پکایا جائے تو اسے پہلے سے گرم کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن جس جگہ کھانا رکھا اور پکایا جاتا ہے، وہ جگہ اتنی کم ہوتی ہے کہ ایک وقت میں تھوڑی مقدار میں ہی کھانا پکایا جا سکتا ہے۔

فوڈ سائنٹسٹ کے مطابق ‘اگر آپ چار یا چھ لوگوں کے لیے کھانا پکا رہے ہیں، تو اس سے آپ کو وقت بچانے میں مدد نہیں ملے گی کیونکہ آپ کو فرائر میں تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانا رکھنے کی ضرورت ہو گی۔‘

3. ایئر فرائر کھانا کرسپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

ایئر فرائرز کے زیادہ تر ماڈل جو ہم عام طور پر اشتہارات میں دیکھتے ہیں وہ چکن اور فرائز بناتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ اگر آپ کو کچھ کرسپی کھانے کا دل چاہے تو یہ مشین آپ کے لیے بہت مفید ہے۔

جیکب کا کہنا ہے کہ یہ آلات کھانے کو کرکرا بناتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو انتہائی کرسپی کھانے کا شوق ہے تو یہ مشین آپ کا کھانا بالکل ایسا ہی بناتی ہیں۔

4. کیا یہ صحت کے لیے بہتر ہے؟

جیکب کا کہنا ہے کہ اگر آپ بہت زیادہ گرم تیل میں ڈیپ فرائی کرنے والی چیز کا موازنہ ائیر فرائر میں پکانے سے کر رہے ہیں، تو یہ یقینی طور پر ایک صحت مند آپشن ہے۔

تاہم یہ روایتی اوون میں کھانا پکانے سے زیادہ صحت بخش بھی ہو سکتا ہے۔

اگر آلوؤں پر تیل چھڑک کر پکایا جائے تو بھونتے ہی آلو اس تیل کو جذب کر لیتے ہیں لیکن ایئر فرائرز میں ایسا نہیں ہوتا۔

‘اگر ایئر فرائر میں بہت زیادہ تیل ہے تو یہ خود بخود فلٹر ہو کر نیچے آ جائے گا اور پھر یہ آپ کے کھانے میں نہیں ہو گا۔‘

لیکن یہ کہنا کہ یہ کھانا پکانے کا سب سے صحت بخش طریقہ ہے، ایسا نہیں ہے۔ اگر آپ صحت بخش کھانا کھانے کے شوقین ہیں تو آپ کا ابلا ہوا کھانا ہی سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے گڈ فوڈ میگزین کی ایڈیٹر آنیا گلبرٹ کہتی ہیں کہ ایئر فرائرز کے کچھ نئے ماڈلز میں 15 مختلف فنکشنز ہیں۔ جو اس مشین کو اور بھی بہتر بناتے ہیں۔

5. اوون سے کم بجلی کی کھپت

اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے سائمن ہوبن (بی بی سی کے سلائسڈ بریڈ پروگرام کے پروڈیوسر) نے مرغی کی ایک ٹانگ اور فرائز پکانے کی کوشش کی۔

پہلے اوون میں اور پھر ایئر فرائر میں انھوں نے مقدار وہی رکھی۔ انھوں نے یہ بھی یقینی بنایا کہ کھانا پکاتے وقت ان آلات کے علاوہ دیگر تمام برقی آلات بند ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے بجلی کا میٹر چیک کیا کہ ان دو مختلف آلات میں کھانا پکانے میں کتنی بجلی خرچ ہوئی ہے۔

‘چکن کو اوون میں پکانے میں تقریباً 35 منٹ لگے اور میٹر کو دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس نے 1.05 کلو واٹ بجلی استعمال کی ہے۔

’جبکہ فرائر میں اسی چکن کو پکانے میں 20 منٹ لگے اور جب میں نے میٹر دیکھا تو پتہ چلا کہ 0.43 کلو واٹ گھنٹے بجلی استعمال ہوئی ہے۔‘

مزید پڑھیے

اس کے علاوہ فرائز کے اوون میں اچھی طرح پکنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ جس میں 1.31 کلو واٹ گھنٹے بجلی خرچ ہوئی۔

جبکہ فرائر میں فرائز بہت کم وقت میں پک کر تیار ہو گئے۔

سیمون کے مطابق ‘فرائز 35 منٹ میں تیار ہو گئے تھے۔ اس میں 0.55 کلو واٹ فی گھنٹہ کی شرح سے بجلی خرچ ہوتی ہے۔‘

گریگ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایئر فرائر میں کھانا پکانے میں اوون کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم بجلی خرچ ہوتی ہے۔

6. ایئر فرائر اوون کی جگہ نہیں لے سکتا لیکن وہی کام کرتا ہے

جیکب اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ایئر فرائر مکمل طور پر اوون کی جگہ لے سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘یقیناً آپ ایئر فرائر میں ایک پوری مرغی یا بطخ نہیں روسٹ کر سکتے۔‘

‘لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی ایک عمدہ مشین ہے۔ میرے پاس بھی ایک ہے اور میں اسے بہت زیادہ استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے بہت مفید چیز ہے جن کے پاس اوون نہیں ہے۔‘