برطانوی ڈاکٹروں نے جگر کی پراسرار بیماری کا پتہ چلا لیا جو 35 ممالک میں بچوں کو متاثر کر رہی ہے

Noah and his mum Rebecca
،تصویر کا کیپشنریبکا نے بتایا کہ ان کا تین سالہ بچے کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پھر وہ اچانک بہت بیمار ہو گیا
    • مصنف, مشال رابرٹس
    • عہدہ, ڈیجٹل ہیلتھ ایڈیٹر

برطانیہ میں ماہرین نے جگر کی سوزش کی اس پراسرار بیماری کا پتہ چلا لیا ہے جس سے دنیا کے 35 ممالک میں کم عمر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس بیماری سے بچوں کے جگر بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور برطانیہ میں کئی بچوں کے جگر ٹرانسپلانٹ کرنے پڑے ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ کی وبا کے دوران لگائے گئے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد دو وائرس ایک بار پھر سامنے آئے جس سے بچے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے لگے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا کے 35 ممالک میں ایک ہزار سے زیادہ بچے جن میں بعض کی عمریں پانچ برس سے بھی کم ہیں، اس مہلک بیماری سے متاثر ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں اس بیماری سے ابھی تک 12 بچے متاثر ہو چکے ہیں جن میں کئی کی زندگی بچانے کے لیے جگر ٹرانسپلانٹ کرنا پڑا ہے۔

لندن اور گلاسگو میں تحقیق کارروں کی دو ٹیموں کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وبا کے دوران ایڈینو وائراس اور اسی سے جڑے ہوئے دوسرے وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے لگانے میں دیر ہونے کی وجہ سے بچوں کے اس بیماری مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Noah
،تصویر کا کیپشننوحا ان 10 بچوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی بچانے کے لیے ان کا جگر ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے

تین سالہ نوحا چیمزفورڈ، ایسکس میں رہتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے اور ان کی زندگی بچانے کے لیے نوحا کا جگر ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

نوحا کی ماں، ربیکا کیمرون میکنٹاش کے لیے اپنے بچے کی بیماری انتہائی تباہ کن تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ نوحا کی صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پھر اچانک سب کچھ ہو گیا، اس نے ہم سب کو حیران کر دیا۔

’ہم سمجھے کہ معمولی سا مسلئہ ہے، آسانی سے ٹھیک ہو جائے گا لیکن وہ بڑھتا ہی گیا۔

ابتدا میں نوحا کی ماں کو اپنے جگر کا ایک ٹکڑا عطیہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا لیکن جب انھیں دوائیاں دی گئیں تو ان کے ری ایکشن کی وجہ سے وہ خود ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں پہنچ گئیں۔

نوحا کو جگر کے عطیہ کی فہرست میں شامل کیا گیا اور پھر انہیں جگر کا عطیہ مل گیا۔

جگر کے ٹرانسپلانٹ کے بعد نوحا کی صحت بہتر ہو رہی ہے لیکن انھیں ساری زندگی ایمونوسپریسڈ دوا کھانا ہو گی تاکہ ان کا جسم ٹرانسپلانٹ ہونے والے جگر کو رد نہ کر دے۔

Noah's mum
،تصویر کا کیپشنربیکا کہتی ہیں کہ نوحا کو ساری زندگی دوائیں کھانا پڑیں گیں

ربیکا کہتی ہیں: ’یہ واقعی دل دہلا دینے والی بات ہے کیونکہ آپ (کووڈ کی وبا) کے دوران ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، تا کہ آپ ایسے لوگوں کی حفاظت کریں جو کمزور ہیں اور پھر اچانک ایک موڑ آتا ہے آپ کا اپنا بچہ زیادہ کمزور ہو گیا ہے کیونکہ آپ نے جو کرنا تھا وہ کر لیا۔‘

اس طرح کے معاملات بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے جو اس قسم کے وائرس سے متاثر ہوتے ہیں وہ جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کچھ بچوں کو جگر کی سوزش کیوں ہو جاتی ہے۔ شاید جینیات کا عمل دخل ہو۔

سائنسدانوں نے اس بیماری کا کورونا وائرس یا کووڈ ویکسین سے کسی بھی تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔

تحقیق کرنے والوں میں سے ایک، یونیورسٹی کالج لندن میں وائرولوجی کے ماہر پروفیسر جوڈتھ بریور نے کہا: ’لاک ڈاؤن کے دوران جب بچے آپس میں گھل مل نہیں رہے تھے، وہ ایک دوسرے کو وائرس منتقل نہیں کر رہے تھے۔ ان میں عام انفیکشن کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔‘

"جب پابندیاں ہٹ گئیں، بچوں نے گھلنا ملنا شروع کیا، وائرس آزادانہ طور پر گردش کرنے لگے اور اچانک نئے انفیکشن کی پوری کھیپ نے ان پر حملہ کر دیا جس کے خلاف ان میں قوت مدافعت پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

پروفیسر ایما تھامسن، جنہوں نے گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق کی قیادت کی، کہا کہ ابھی بھی بہت سے جواب طلب سوالات ہیں۔ "پیڈیاٹرک ہیپاٹائٹس کے معاملات میں AAV2 کے کردار کی تحقیقات کے لیے بڑے مطالعے کی فوری ضرورت ہے۔

’ہمیں AAV2 کی موسمی گردش کے بارے میں مزید سمجھنے کی ضرورت ہے، ایک ایسا وائرس جس کی معمول کے مطابق نگرانی نہیں کی جاتی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایڈینو وائرس انفیکشن کےعروج پر اس کا ملاپ AAV2 سے ہوا ہو، جس سے حساس چھوٹے بچوں میں ہیپاٹائٹس سامنے آیا ہے۔