اندام نہانی سے نکلنے والی رطوبت: لیکوریا کیا ہے اور یہ خواتین کے لیے مسئلے کی شکل کب اختیار کر لیتا ہے؟

لیکوریا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرطوبت جسم کے اندر سے آ رہی ہے تو اس کا علاج بار بار دھونا ہرگز نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ہونا چاہیے
    • مصنف, آسیہ انصر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’خواتین میں وجائنل ڈسچارج یا لیکیوریا ضروری عمل ہے۔ اگر یہ (رطوبت) انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہو، اس میں بُو نہ ہو اور ماہواری سے چند دن پہلے آئے تو نارمل ہے لیکن جب اس کی یومیہ مقدار دو ملی لیٹر سے زیادہ ہو، یہ آپ کے زیر جامہ کو گیلا کرتا ہو، اس میں بُو آئے، خارش ہو تو آپ ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔‘

یہ کہنا ہے اسلام آباد کی ماہر امراض نسواں پروفیسر ڈاکٹر نابیہ طارق کا جو ہمیں خواتین کی تولیدی صحت سے جڑے ایک ایسے مسئلے کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں جس پر بات کرنا خواتین کے لیے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔

ڈاکٹر نابیہ طارق سے ہم نے لیکیوریا (اندام نہانی سے نکلنے والی رطوبت) کے حوالے سے غلط فہمیوں پر تفصیلی بات کیوں کی، سب سے پہلے میں اس کا پس منظر بتانا چاہوں گی۔

میری طرح آپ نے بھی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے دیواروں اور اخبار کے اندرونی صفحات پر بعض ایسے اشتہار یقیناً دیکھے ہوں گے جن پر خواتین کے ’پوشیدہ‘ امراض، نسوانی امراض کا ’یقینی علاج‘، لیکیوریا کا ’جڑ سے خاتمہ‘ اور انھی سے ملتے جلتے جملے لکھے ہوتے ہیں۔

اشتہاروں میں کیے گئے دعوؤں سے قطع نظر، ان میں لکھے جملوں کی سنسنی نے جہاں سارا بچپن خراب کیا، وہیں مسئلے کا شکار لڑکیوں کے اندر وسوسہ ڈالے رکھا کہ پتہ نہیں لیکیوریا آخر ہے کیا بلا، جسے پوشیدہ بھی کہا جا رہا ہے اور اس کے علاج کی مارکیٹنگ سے شہر بھر کی دیواریں بھی بھری پڑی ہیں۔

ایسے ماحول میں وجائنل ڈسچارج یا لیکیوریا کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے اور صحت سے جڑے اس مسئلہ پر بات کرنا آخر اتنا مشکل کیوں ہے؟

لیکوریا، خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپورا مہینہ رطوبت کا اخراج ہو اور اس سے بدبو آئے تو خواتین کو معالج سے رجوع کرنا چاہیے

ہم نے اس متعلق بات کی گجرات کی رہائشی ثمینہ شاہد (فرضی نام) سے، جو نہ صرف بلوغت کے وقت سے ہی لیکیوریا کے باعث مشکلات جھیلتی رہی ہیں بلکہ ممنوعہ موضوع سمجھنے جانے کے باعث اس پر بات کرنے سے بھی ہچکچاتی رہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں کافی چھوٹی تھی جب سے مجھے یہ مسئلہ تھا۔ بچپن میں سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ یہ کیا چیز ہے۔ خدانخواستہ بڑی بیماری تو نہیں۔۔۔ جب دیواروں پر لکھا دیکھا کہ لیکیوریا کے مرض سے جان چھڑائیں تو پتہ چلا کہ یہ ایک بیماری ہے اور لیکیوریا اس کا نام ہے۔‘

ثمینہ شاہد اب شادی شدہ خاتون ہیں لیکن نو عمری میں شروع ہونے والے وجائئنل ڈسچارج کے مسئلہ پر انھیں بھی بے شمار لڑکیوں کی طرح درست رہنمائی نہ مل سکی۔

’بچپن میں تو یہ ہوتا تھا کہ کپڑے خراب ہو جاتے تھے میرے۔ پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔۔۔ پھر مختلف قسم کی میڈیکیشن کا بڑوں سے پتہ چلا۔ مختلف ٹوٹکے پتہ چلے۔ اس وقت تک میں گھر بتا چکی تھی کہ مجھے اس کا علاج کروانا ہے۔ پھر پڑوس میں ایک خاتون تھیں جو دوائی بنا کے دیتی تھیں لیکن فرق مجھے اس سے بھی نہیں پڑا۔‘

ثمینہ کی آپ بیتی آگے چل کر لیکن پہلے جان لیتے ہیں کہ لیکیوریا دراصل ہے کیا؟

’جب تک رطوبت شفاف، انڈے کی سفیدی جیسی اور دو ملی لیٹر یومیہ ہو تو نارمل ہے‘

نجی ہسپتال میں امراض نسواں اور تولیدی صحت کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر نابیہ طارق نے بتایا کہ اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبتیں وجائنا (اندام نہانی) کی اندرونی صفائی کے لیے بے حد ضرور ی ہیں۔

’ماہواری سے چند دن پہلے خارج ہونے والی ان رطوبتوں کو طبی زبان میں ’فزیولوجیکل ڈسچارج‘ کہتے ہیں۔ یہ وجائنل ڈسچارج عام طور پر ماہواری سے چند روز پہلے یا مڈ سائیکل میں ہوتا ہے۔ جب تک یہ رطوبت شفاف ہوں، انڈے کی سفیدی جیسی ہوں اور مقدار میں ایک سے دو ملی لیٹر یومیہ ہوں تو یہ نارمل ہے۔ اس میں بوُ بھی نہیں ہوتی اور ازدواجی تعلقات میں بھی یہ ڈسچارج مسئلہ نہیں کرتا۔‘

ڈاکٹر نابیہ طارق
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر نابیہ طارق نے بتایا کہ اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبتیں وجائنا (اندام نہانی) کی اندرونی صفائی کے لیے بے حد ضرور ی ہیں

یہاں تک تو بات بظاہر سادہ اور آسان ہی لگ رہی ہے اور اب یقیناً بہت سی خواتین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن پھر لیکیوریا مسئلہ کب بن جاتا ہے اور اس پر بات کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

اس کے لیے ہم دوبارہ آتے ہیں ثمینہ کی جانب، جن کے لیے تولیدی صحت سے جڑا یہ معاملہ کچھ دن کے بجائے ان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہی بن گیا۔

ثمینہ کہتی ہیں کہ وقت بے وقت کے اس ڈسچارج نے ان کی روز مرہ زندگی کے معمولات کو متاثر کیا۔

’اس کا کوئی خاص وقت نہیں ،یہ کبھی بھی ہو جائے گا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ وضو کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ پھر واک پر جاتے وقت ہو جائے تو کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ چلتے ہوئے بُرا محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔ جب آپ گھر میں ہوتے ہیں تو اپنے کپڑوں کو صاف کر لیتے ہیں لیکن باہر آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ کبھی زیادہ ہو جاتا ہے کبھی کم۔۔۔ مگر ختم کبھی نہیں ہوتا۔‘

ثمینہ اور ان ہی جیسی بے شمار لڑکیوں کو اندام نہانی کی قدرتی صفائی کے لیے نکلنے والی رطوبت میں انفیکشن کے باعث بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے تاہم آگاہی کے فقدان کے باعث وہ نہیں جان پاتیں کہ وجائنا سے نکلنے والی رطوبت کی رنگت، مقدار اور بُو پر نظر رکھنا کتنا ضروری ہے۔

لیکوریا، انفیکشن، خارش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’پانی کے نکلتے ہی اندام نہانی اور اس کے اطراف خارش ہونا انفیکشن ہے‘

ڈاکٹر نابیہ کے مطابق جینیٹل ٹریک میں پائی جانے والی ان رطوبتوں میں جب انفیکشن یا پیتھالوجی آ جاتی ہے تو یہ معمولی بات نہیں۔ اس کو عام طور پر خواتین کہتی ہیں کہ انھیں پانی کی شکایت ہے۔

ڈاکٹر نابیہ کہتی ہیں کہ خواتین وجائنا سے نکلنے والی رطوبت سے متعلق فکر مند اس وقت ہوں جب:

  • وجائئنل ڈسچارج کی مقدار یومیہ ایک سے دو ملی لیٹر سے زیادہ ہو
  • پورا مہینہ رطوبت کا اخراج ہو اور اس سے بدبو آئے
  • پانی کے نکلتے ہی اندام نہانی اور اس کے اطراف خارش ہو
  • شوہر کے ساتھ ملاپ کے وقت ازدواجی تعلق تکلیف دہ ہو جائے
  • اگر اس پانی کی رنگت سفید اور پھٹے ہوئے دودھ کی طرح ہو تو یہ فنگل انفیکشن کی نشانی ہے
  • اگر اس رطوبت کا رنگ سرمئئ مائل سیاہ ہو اور اس میں شدید خارش ہو

یہ بھی پڑھیے

’ملکی وائٹ ڈسچارج کے باعث شوہر کے ساتھ ملاپ تکلیف دہ ہو سکتا ہے‘

ڈاکٹر نابیہ طارق کے مطابق اندام نہانی میں قدرتی طور پر بھی بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں تاہم ان بیکٹیریا کے بڑھ جانے سے ہونے والی انفیکشن خواتین میں سب سے عام ہے جس کا علاج آسان اور فوری ہے تاہم خواتین شرم یا جھجھک کے باعث اس پر بات نہیں کرتیں اور پھر یہ ازدواجی تعلقات میں تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔

’رطوبت ملکی وائٹ یا دودھ کی طرح پتلی ہو تو یہ بیکٹیریئل ویجی نوسس ( وجائنا میں پائے جانے والے قدرتی بیکٹریا کا بڑھ جانا) انفیکشن ہے، جو خواتین میں بہت عام ہے۔ اس میں خارش نہیں ہوتی بلکہ یہ دودھ کی طرح پتلا ہوتا ہے۔‘

’خواتین شرم یا جھجھک کے باعث بتاتی بھی نہیں کہ ان کو ملکی وائٹ ڈسچارج ہے۔ وہ اس کو نارمل لیتی ہیں لیکن جب ان کا شوہر کے ساتھ ملاپ ہوتا ہے تو مرد اور عورت کی رطوبت کے آپس میں ملنے سے اس میں سے بدبو آتی ہے۔ اس کا باقاعدہ علاج موجود ہے اور خواتین کو اس کا علاج کروانا چاہیے۔‘

لیکوریا، خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہواری سے چند دن پہلے خارج ہونے والی ان رطوبتوں کو طبی زبان میں ’فزیولوجیکل ڈسچارج‘ کہتے ہیں

’علاج کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر ہسٹری لے کر آپ کا معائنہ کرے۔ یہ نہیں کہ آپ زبانی ڈاکٹر کو کہیں کہ پانی پڑتا ہے اور دوائیں دے دیں۔۔۔ ہر ڈسچارج کی الگ قسم کی میڈیکیشن ہوتی ہے اور کچھ ڈسچارج ایسے ہیں کہ جس میں دونوں میاں بیوی کو ایک ہی وقت میں دوائی بھی لینا ہوتی ہے اور آپس میں ازدواجی تعلق میں پرہیز بھی رکھنا ہے تاکہ دونوں کا انفیکشن ختم ہو۔‘

ڈاکٹر نابیہ نے یہ بھی بتایا کہ رطوبتیں کیونکہ جسم کے اندر سے آ رہی ہیں اس لیے اس کا علاج بار بار دھونا ہرگز نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ صفائی کی اچھی عادات کو اپنانا ضروری ہے۔

’لیکیوریا کے مسئلے سے ذہنی صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے‘

ثمینہ کو بلوغت کی عمر سے شروع ہونے والا لیکیوریا شادی کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوا اور ازدواجی زندگی میں کافی بار اس کے سبب انھوں نے شرمندگی محسوس کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکیوریا کے مسئلے سے ذہنی صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس ڈسچارج کی بو شدید ہو جائے تو اپنے آپ سے شرمندگی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے اچانک کپڑے خراب ہو جائیں تو اپنے اندر بے بسی اور بے آرامی ہوتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔‘

ثمینہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت عرصہ اس پر بات نہ کر سکی اور خوف میں رہی۔ اسی طرح اور بچیاں بھی اس وجہ سے خوف میں رہتی ہوں گی لہذا اس پر بات کرنا اور درست آگاہی دینا ضروری ہے۔‘

’میں نے میڈیکیشن بھی کیں اور ہر طرح کے ٹوٹکے بھی کیے اور اب تو گوگل بھی ہے۔ تو جتنی بچیاں ہیں وہ اس بارے میں پریشان ہونے کے بجائے درست رہنمائی لینے سے ہرگز نہ ہچکچائیں۔‘