آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شیشپر گلیشیئر پر بننے والی جھیل اس سال اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب کیسے بنی؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، ہنزہ
یہ سنہ 2018 میں موسمِ بہار (اپریل) کی بات ہے جب وادی ہنزہ کے چرواہے ہر سال کر طرح اس سال بھی پوری کمیونٹی کے مال مویشی لے کر سبزے کی تلاش میں حسن آباد گاؤں سے اوپر چراہگاہوں کی جانب گئے۔۔۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ان کی واپسی کا راستہ بند ہو گیا۔۔۔ انھوں نے گھبرا کر گاؤں والوں کو فون کیا کہ ’عجیب سی کوئی چیز‘ بہت تیزی سے گلیشئیر کے آگے آ گئی ہے جس نے پہاڑ سے آنے والے واپسی کے راستے کو بند کر دیا ہے۔
ان چرواہوں کے پاس خوراک بھی ختم ہو گئی تھی اور انھیں چراہگاہ واپس جانا پڑا۔ بعد میں گاؤں کے لوگوں نے سامنے والے پہاڑ کی دوسری جانب سے جا کر انھیں راشن پہنچایا اور ریسکیو کیا۔
یہ واقعہ ایک ہفتے کے اندر اندر وقوع پذیر ہوا اور یہ انوکھی چیز اس گاؤں کے اوپر موجود شیشپر گلیشیئر کا ’ماس‘ تھا یعنی گلیشیئر نے آگے بڑھ کر چرواہوں کے زیرِ استعمال راستہ کاٹ دیا تھا۔
اس گلیشئیر کے بڑھنے کا یہ عمل اگرچہ سنہ 2014-15 میں شروع ہوا مگر 2018 میں ان چرواہوں کی وجہ سے اس سرج (گلیشئیر کے بڑھنے) کے متعلق پتا چلا۔
سنہ 2018 سے 2022 تک شیشپر گلیشئیر پر بننے والی جھیل پھٹنے سے پانچ مرتبہ سیلاب آیا ہے جس سے حسن آباد کے کئی خاندان بے گھر ہوئے ہیں مگر اس سال جیسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
گذشتہ سالوں کے مقابلے میں اس مرتبہ اگرچہ شیشپر گلیشیئر پر جھیل کی گہرائی اور اس میں پانی کی مقدار کم تھی (2020 میں جھیل کی گہرائی 108 میٹر تھی جبکہ اس مرتبہ 58 میٹر تھی) مگر پانی کی رفتار بہت زیادہ تھی، شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار سیلاب نے بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
جھیل پھٹنے کے بعد سیلابی پانی حسن آباد گاؤں کو ہنزہ سے ملانے والے اہم پل، آبادی کے پینے اور استعمال کے پانی کے چینلوں، تین مقامات پر قراقرم ہائے وے، 300 قابلِ کاشت اراضی اور دو بجلی گھروں سمیت اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز بہا لے گیا۔
اس سال یہ گلیشیئر 15 خاندانوں کو بے گھر کر گیا ہے جن میں سے نو گھر مکمل طور پر پانی کی نذر ہو گئے جبکہ باقی چھ کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایسی دراڑیں پڑ چکیں کہ وہاں رہنا خودکشی کی کوشش کے مترادف ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان نو گھرانوں میں سے ایک گھر زبیر کا بھی تھا۔
’جس گھر میں چلنا سیکھا وہ آنکھوں کے سامنے دریا کی نذر ہو گیا‘
’میں گھر سے سامان باہر نکالتا مگر امی اسے اندر کھینچنے لگتی۔۔۔ میں چیخ رہا تھا امی جان بچا کر یہاں سے نکلو پر امی سن ہی نہیں رہی تھی وہ ایک ہی بات دہرائے جا رہی تھی ’میرے گھر کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ میرا گھر بچ جائے گا۔۔۔ تم سامان کیوں نکال رہے ہو۔‘
زبیر کی عمر محض 21 برس ہے۔ گرمیوں کی راتوں میں وہ کئی کئی رات جاگ کر گزارتے اور کنارے پر کھڑے دریا کے بہاؤ کو دیکھتے رہتے تھے۔
سات مئی کو انھیں فون پر بتایا گیا کہ تمھارا گھر نہیں بچنے والا۔۔۔ گھر والوں اور کوئی قیمتی سامان بچا سکتے ہو تو بچا لو۔ زبیر نے یہ سنتے ہی گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’وہ گھر جس میں، میں پیدا ہوا، چلنا سیکھا اور 21 برس کی زندگی کی ہر یاد اسی گھر میں بنائی وہ میری آنکھوں کے سامنے دریا کی نذر ہو گیا۔‘
شیرآباد گاؤں کے رہائشی زبیر ابھی تک اس صدمے سے نکل نہیں پائے ہیں۔ وہ اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ اس دن وہ گھر کے قریب تھے اور اپنی والدہ سمیت دیگر اہلِخانہ کی جان بچانے میں کامیاب رہے۔
جس وقت شیشپر پر بنی جھیل پھٹی اس کا پہلا شکار شیرآباد گاؤں کو پانی پہنچانے والا چینل تھا اور زبیر گاؤں کے دیگر نوجوانوں کے ساتھ مل کر پانی بحال کرنے کی کوشش میں لگے تھے۔
زبیر کو باکل توقع نہیں تھی کہ وہ اس حادثے میں اپنا گھر کھو دیں گے لیکن جب انھوں نے گھر کے نیچے جہاں ایک بڑا جنگل تھا، دریا کو اس جگہ کو آہستہ آستہ کاٹتے دیکھا، تب انھیں تھوڑا خدشہ ہوا کہ اب ان گھر شاید نہیں بچے گا۔
ان کی والدہ گل داہور کو بھی اپنا گھر بچ جانے کی امید تھی۔ اسی لیے جب زبیر نے گھر سے کچھ سامان باہر نکالنے کی کوشش کی تو وہ جذباتی ہو گئیں اور کھینچ کھینچ کر اندر ڈالتی رہیں کہ ’میرے گھر کو کچھ نہیں ہو گا، میں یہاں رہتی ہوں تم سامان باہر کیوں نکال رہے ہو۔‘
25-26 برس قبل گل داہور شادی کے بعد اسی گھر میں آئیں تھیں اور ان کے پانچوں بچے اسی گھر میں پیدا ہوئے۔ انھیں یہ گھر کھو جانے کا بہت دکھ ہے۔
زبیر اپنی ڈگریاں اور کارپٹ بچانے میں کامیاب ہو پائے۔ وہ گیٹ کے نٹ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے جب دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں اور گرتا ہوا گھر دیکھ کر ان کی والدہ صدمے سے بے ہوش ہو گئیں۔
انھیں سب سے زیادہ پچھتاوا اپنے گھر کا سٹور روم اور اس میں موجود چیزیں نہ بچا سکنے کا ہے۔۔۔۔
’اس سٹور روم میں میرے دادا کی بہت یادیں تھیں اور ایک زمیندار کے طور پر ہمارا سارا اہم سامان بھی اسی سٹور روم میں رکھا ہوتا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق سنہ 2017 میں شیشپر گلیشیئر اپنی گارج کے اندر تھا، سٹیپ سلوپ ہونے کی وجہ سے یہ جولائی سنہ 2018 میں 40 میٹر فی دن کی رفتار سے بڑھتے ہوئے، جس جگہ اب سناؤٹ موجود ہے، وہاں کے ساتھ والی پہاڑی سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں کچھ ماس نیچے چلا گیا جبکہ کچھ اوپر کی جانب موچور کی گارج میں چلا گیا اور موچور سے آنے والے پانی کا راستہ روک لیا جس سے جھیل بننی شروع ہو گئی۔
سنہ 2018 سے لے کر 2022 تک شیشپر گلیشئیر پر بننے والی جھیل پھٹنے سے پانچ مرتبہ (جون 2019، جنوری اور جون 2020، مئی 2021 اور مئی 2022) سیلاب آیا ہے جس سے حسن آباد کے کئی خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔
اس سال بے گھر ہونے والے یہ 15 خاندان اب شیر آباد میں ہی حکومت کی جانب سے دیے خیموں میں رہنے میں مجبور ہیں جہاں ان کے بقول ’دن کو شدید دھوپ اور گرمی ہوتی ہے مگر رات کو بس گزارہ کرتے ہیں۔‘
بارشوں کے دوران خیموں کو بچانے کے لیے انھوں نے اردگرد مٹی ڈال رکھی ہے۔ یہاں رہنے والے ایک مشترکہ خیمے میں کھانا بناتے ہیں مگر واش روم کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں۔
سنہ 2019 سے ہر سال شیشپر گلیشیئر پر بننے والی جھیل پھٹنے سے یہاں کے رہائشی اپنے مکانات، زیرِ کاشت زمینیں اور ان پر لگے درختوں سے لے کر مال مویشیوں تک سے محروم ہو جاتے رہے ہیں۔
شیشپر گلیشیئر کے نیچے رہنے والی آبادی کہیں اور کیوں نہیں چلی جاتی؟
اس سوال کے جواب میں کہ کیا انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ آبادی گلیشیئر کے بالکل نیچے واقع ہے اور یہاں رہنا خطرناک ہے، وہ کہیں اور کیوں نہیں منتقل ہو جاتے؟
زبیر بتاتے ہیں کہ سنہ 2019 میں جب پہلی بار گلیشیئر پر بنی جھیل پھٹی اس وقت شیشپر پر تحقیق کے لیے آنی والی ٹیم نے انھیں بتا دیا تھا کہ آپ کے گھر تک پانی آ سکتا ہے۔
گرمیوں کی راتوں میں وہ کئی کئی رات جاگ کر گزارتے اور کنارے پر کھڑے دریا کے بہاؤ کو دیکھتے رہتے ہیں مگر گذشتہ سال کے سیلاب میں ان کے گھر کو کچھ نہیں ہوا اور ان کی کہیں اور کوئی زمین بھی نہیں۔۔۔۔ ’تو اور کہاں جاتے؟‘
وہ کہتے ہیں کہ ہم گھر میں سات افراد ہیں جن کے لیے بڑا گھر چاہیے اور ہمارے پاس یہی جگہ تھی لہذا اسی گھر کو بڑا کر لیا۔
اس سال بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کی وجہ کیا تھی؟
ڈاکٹر فرخ بشیر کے مطابق اگرچہ گلیشیئر پگھلنے کے باعث گذشتہ چند سال کے مقابلے میں تھوڑا بیٹھ رہا ہے اور اس میں جھیل میں پانی کی مقدار کم تھی مگر گلیشئیر میں ہونے والی شکست و ریخت کے باعث سارا پانی 20-22 گھنٹوں کے اندر سیلاب کی صورت میں بہہ گیا جو بڑے پیمانے پر سیلاب اور تباہی کا باعث بنا۔
یاد رہے گذشتہ برس اس جھیل کا پانی تقریباً 48 گھنٹوں میں خارج ہوا تھا۔
ان کا ماننا ہے کہ بڑی تباہی کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ کئی سال سے بار بار آنے والے سیلاب کے باعث اس کے راستے میں آنے والے انفراسٹکچر کمزور ہو چکے تھے اور حالیہ سیلاب ’کاری ضرب‘ ثابت ہوا۔
کیا اس سال آنے والی تباہی سے بچا جا سکتا تھا؟
گلگت بلتستان میں پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فرخ بشیر کے مطابق وہ وفاقی اور صوبائی ادرادوں کو گلیشیئر کی صورتحال اور اس پر بننے والی جھیل پھٹنے کے امکانات کے متعلق آگاہ کرتے رہتے ہیں اور اس سال بھی وہ مقامی انتظامیہ کی مدد سے جھیل کے پانی کی گہرائی پر نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اس سے آنے والے سیلاب کی پیش گوئی کر سکیں، انھوں نے چھ مئی کو ہی بتا دیا تھا کہ ’اگلے 24 گھنٹے بہت نازک ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر ہنزہ محمد عثمان علی کے مطابق گذشتہ برسوں کے مقابلے میں جھیل کی گہرائی اور اس میں پانی کی مقدار چونکہ کم تھی اور انھیں میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور گلوف ٹو کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے مطابق یہ واضح تھا کہ اس مرتبہ سیلاب اتنی تباہی نہیں مچائے گا مگر اس کے باوجود مقامی انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے پانی کے چینلز بنانے اور حفاظتی دیواروں جیسے کئی اقدامات کیے تھے مگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ان سے آنے والی تباہی کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ پانی کی رفتار کے آگے کوئی حفاظتی انتظام ٹھہر نہیں پایا۔
ڈّاکٹر صدیق کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے بچا جا سکتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 2020 کی تحقیق میں ہی انھوں نے سیلاب سے بچنے کے لیے پیشگی انتباہی نظام لگانے، دیواریں بنانے، قراقرم ہائی وے کو اوپر لیجانے، پل کو کہیں اور لگانے اور لوگوں کو محفوظ جگہ منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔
ان کا کہنا ہے اگرچہ پیشگی انتباہی نظام (مثلاً کیمرے اور سائسنی آلات) مہنگے ہیں مگر آپ ایک موبائل فون ے ذریعے بھی لوگوں کو الرٹ کر سکتے ہیں۔
’اس نالے پر جتنے پیسے لگاؤ گے ہمارے گھروں کے ساتھ وہ بھی ڈوب جائیں گے‘
ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتے گلیشیئر کے نیچے موجود آبادی کے لیے محدود مدت میں تو حفاظتی اقدامات شاید کام آ جائیں مگر ایسی جگہ جہاں بار بار جھیل پھٹنے سے سیلاب آ رہا ہو، وہاں سے محفوظ جگہ منتقل ہونے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔
ڈاکٹر صدیق کا کہنا ہے کہ جب تک شیشپر گلیشیئر کا بڑھا ہوا حصہ پگھل کر ختم نہیں ہو جاتا اس کا گلوف بنتا جائے گا اور اس سے ہر سال سیلاب آنے کا خدشہ ہے اور اس میں چار سے پانچ سال اور اس سے زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
زبیر خان کہتے ہیں کہ ’حکومت کہتی ہے کہ وہ اس نالے پر 58 کروڑ روپے لگا چکی ہے۔۔۔ سنہ 2020 کے سیلاب میں جب ہماری آبادی کے تین گھر گرے اور ایک میں دراڑیں پڑیں، اسی وقت ہم نے حکومت کو کہا تھا کہ ہمارے مستقبل کا سوچو۔ اس نالے پر جتنے پیسے لگاؤ گے ہمارے گھروں کے ساتھ وہ بھی ڈوب جائیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آج تک حکومت نے سیلاب کے نقصانات سے بچنے کے لیے اس نالے پر جتنے بھی پیسے لگائے ہیں اس سے ہماری ایک انچ بھی زمین نہیں بچ پائی۔۔۔‘
زبیر چاہتے ہیں کہ انھیں یہاں سے کسی محفوظ علاقے میں گھر بنا کر دیا جائے۔
ڈی سی ہنزہ عثمان علی کے مطابق وفاقی حکومت نے کمیونٹی کے انھی خدشات پر غور شروع کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور گلیشئیروں سے بننے والی جھیلوں کے نیچے بسی آبادیاں جو ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں، انھیں کہیں اور منتقل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس پر کام کر رہی ہے اور صرف ہنزہ ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے نو دوسرے ڈسٹرکس میں موجود آبادیاں بھی شامل ہیں۔
ڈی سی ہنزہ عثمان علی کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ ان پندرہ گھرانوں کے نقصانات کا جلد از جلد ازالہ کر دیا جائے تاکہ وہ کہیں زمین لے کر گھر بنا سکیں۔
اور جب تک وہ گھر نہیں بنتے تب تک یہ متاثرین کہاں جائیں؟ ڈی سی ہنزہ کا کہا ہے کہ اس وقت تک چیف منسٹر آفس سے ان پندرہ خاندانوں کو اتنی رقم دی جائے گی کہ وہ ہنزہ میں کہیں کرایے پر مکان لے کر رہ سکیں۔
انتظامیہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی بڑے بڑے وعدے تو کر رہی ہے مگر دوسری جانب محمد عباس جیسے متاثرین بھی ہیں جو تین سال سے حکومتی وعدوں پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔
’حکومتی وعدوں پر تین سال سے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں‘
سنہ 2019 کے سیلاب میں عباس اور ان کے دو بھائیوں کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا اور حکومت اور ماہرین نے ان گھروں کو ریڈ زون قرار دے کر انھیں گھر سے نکال دیا کہ رات کو اگر گھر جائے تو آپ اور آپ کے بچوں کو خطرہ ہے۔
ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں ماہانہ کرایے کی رقم دی جائے گی جس کی امید پر انھوں نے گھر کرایے پر لیا مگر چھ میہنے بعد جب حکومت نے کرایہ دینا تو دور ان کا حال تک نہیں پوچھا تو وہ مجبور ہو کر اسی مکان میں چلے گئے جہاں رہنا خطرناک تھا۔
دو سال قبل انھیں آغا خان کے ادارے (آقا) نے ٹین کا ایک شیلٹر بنا کر دیا، جو گرمیوں میں اتنا تپتا ہے کہ پانچ افراد کے اس کنبے کے لیے اس کے اندر بیٹھنا ناممکن ہو جاتا اور سردیوں میں جب اس کے اردگرد تین سے چار انچ تک برف پڑی ہو تو اس ٹین کے ڈبے میں رہنا محال ہے۔
اسی لیے عباس کا خاندان ہر سال جب پانی کا بہاؤ کم ہوتا یعنی موسمِ سرما میں اپنے ٹوٹے گھر واپس چلا جاتا کہ ’جیسا بھی خستہ حال تھا اپنا گھر تو تھا‘۔
اور گرمیوں میں ٹین کے اسی ڈبے میں واپس آ جاتے مگر اس مرتبہ ان کا وہ ٹوٹا گھر بھی مکمل طور پر پانی میں جا گرا ہے۔
عباس بتاتے ہیں کہ ’میں نے ہر ادارے سے التجا کی کہ خدا کے لیے ہمارے لیے مسقتل بنیادوں پر کوئی گھر بنائیں، میں ہر فورم پر گیا، مگر کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی اور مجبوراً تین سال سے اسی شیلٹر میں رہنا پڑ رہا ہے۔‘
گذشتہ برس ان کے نقصانات کے ازالے کے طور پر حکومت نے انھیں ڈیڑھ لاکھ روپے دیے ۔۔۔ وہ پوچھتے ہیں ’ڈیڑھ لاکھ میں کیا آتا ہے؟ ایک واش روم نہیں بنا سکتے، گھر تو کجا مگر مجبور تھے ہماری کوئی سننے والا نہیں تھا لہذا اسی پر اکتفا کیا۔‘
تین بچوں کے باپ عباس آرتھرآٹس کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کے لیے کاشت کاری اور دیگر کام کاج بھی ممکن نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بچوں سمیت اسی ایک شیلٹر میں زندگی بہت مشکل ہے اور ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں کہ کہیں زمین لے کر گھر بنا سکیں۔
عباس چاہتے ہیں کہ حکومت مستقل طور پر انھیں کسی محفوظ جگہ بسانے کا انتظام کرے تاکہ وہ عزت کی زندگی جی سکیں۔
تین سال سے وہ اسی امید پر جی رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ زبیر اور باقی 14 خاندانوں کے ساتھ ساتھ ان کی فائل اس سال کہاں تک پہنچتی ہے۔
’قراقرم اناملی‘: شیشپر گلیشیئر دنیا کے دوسرے گلیشیئر سے کیسے مختلف؟
گلوبل وارمنگ کے باعث جہاں دنیا بھر کے گلیشیئر سکڑ رہے ہیں وہیں قراقرم میں واقع کچھ گلیشئیر بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر فرخ بشیر کے مطابق اسے ’قراقرم اناملی‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ دنیا میں گلیشییئرز کو موسمیاتی تبدیلی کا ’انڈیکیٹر‘ یا اشارہ دینے والا سمجھا جاتا ہے اور جہاں دنیا بھر کے اکثر گلیشئیرز سکڑ رہے ہیں وہیں قراقرم میں واقع بڑھ رہے ہیں۔
وہ اس کی وجہ ’اونچائی‘ کو قرار دیتے ہیں۔ زیادہ اونچائی ہونے کے باعث یہاں کئی سال تک ہونے والی برفباری اکھٹی ہوتی رہتی ہے اور ایک دن آخر کار وہ خطرناک حد (ٹپنگ پوائنٹ) تک جا پہنچی ہے جس کے بعد گلیشییئر اتنا وزن برداشت نہیں کر سکتا، اس کا توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ نیچے کی جانب رخ کرتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑے بڑے پتھر (جنھیں بولڈرز بھی کہا جاتا ہے) بال بیرنگ کا کام کرتے ہیں اور گلیشیئر کو بڑھنے میں مدد دیتے ہیں ’اگر یہ اناملس بییوئیر جاری رہے تو گلیشییر بڑھتے جائیں گے لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا اور گلیشیئر ایک بار بڑھتے ہیں پھر ایک لمبی مدت کے لیے اُسی جگہ پگھلتے رہیں گے اور سکڑنے لگیں گے۔ ایک وقت آئے گا کہ جب یہ واپس اپنی جگہ پر چلے جائیں گے اور پھر چند سال بعد جب پھر حد سے زیادہ برف باری جمع ہو جائے تو شاید پھر سے بڑھنے لگیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
شیشپر گلیشیئر پر تحقیق کرنے والے اور پروفیسر صدیق اللہ بیگ کے لیے شیشپر گلیشیئر نوجوانی کا ایک ’پکنک پوائنٹ‘ تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ڈیزاسٹر زون میں بدل گیا۔ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صدیق سنہ 2015 سے اس گلیشئیر پر تحقیق کر رہے ہیں۔
پروفیسر صدیق اللہ بیگ بھی ڈاکٹر فرخ سے اتفاق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سنہ 2014 میں بہت زیادہ برفباری ہوئی تھی جس کی وجہ سے گلیشیئر کا ماس بہت بڑھ گیا تھا اور تودوں کی صورت میں آگے آ کر وہ ٹکرائے، جس سے اس نے موچور کے پانی کا راستہ روکا ہوا ہے اور یہ سارا عمل سطح سمندر سے 5200 میٹر اوپر وقوع پذیر ہوا ہے۔
مگر شیشپر آئیسڈ ڈیم گلیشئیر ہے (جنھیں برف کے باعث نازک سمجھا جاتا ہے)جس نے موچور گلیشئیر سے آنے والے پانی کو روکا ہوا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس گلیشیئر کے دوسری جانب موچور گلیشییئر جو اس شیشپر گلیشیئر کے جڑواں بھائی جیسا ہے، وہ پیچھے کی جانب جا رہا ہے مگر یہ آگے آ رہا ہے۔۔۔ پروفیسر صدیق بھی اسے ’اناملی‘ قرار دیتے ہیں۔
(یاد رہے گلیشئیر لیک دو طرح کی ہوتی ہیں ایک آئیسڈ ڈیمیڈ گلیشیئر اور دوسرے مورین گلیشیئر لیک۔ دنیا میں زیادہ تر گلیشیئرز مورین ڈیم گلیشیئر ہوتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث سکڑ کر پیچھے چلے جاتے ہیں اور وہ سخت قسم کے گلیشیئر ہوتے ہیں اور ان میں خالی جگہ میں پانی جمع ہوتا ہے۔)
ڈاکٹر صدیق کے مطابق ہمالیہ کے مقابلے میں قراقرم میں واقع گلیشییر کم رفتار سے پگھل رہے ہیں کیوںکہ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث ان گلیشیرز پر پتھر، مٹی، ریت اور دیگر ملبہ شامل ہوتا ہے جو انھیں کور کرتا ہے ارو ان کے پگھلنے کی رفتار کم ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ دوسرے گلیشیئرز کے مقابلے میں شیشپر کی سطح بہت ڈھلوانی (سٹیپ) ہے اور یہ ایک طرح سے ’ہینگنگ گلیشیئر‘ ہے اور یہ سطح سمندر سے 2400 میٹر سے شروع ہو کر 7600 میٹر تک ہے جبکہ دوسرے گلیشئرز کی ڈھلوان اتنی زیادہ نہیں جس کی وجہ سے یہ بار بار بڑھتا ہے۔
ہنزہ ریور بیسن خنجراب سے دنیور ٹاپ تک پھیلا ہوا ہے اور میں 1300 سے زیادہ گلیشیئرز ہیں۔ ان میں ایک کلومیٹر سے کم والے گلیشیئر بھی ہیں اور 63 کلو میٹر والے باتورہ جیسے گلیشیئر بھی موجود ہیں۔
ڈاکٹر صدیق کے مطابق سنہ 2005 میں یہاں صرف تین گلوف صرف تین سکوئر کلومیٹر تک) بنی تھیں مگر 2018 میں ان کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے اور یہ آٹھ سکوئر کلو میٹر تک پھیل چکی ہیں۔
ہنزہ میں التت، گوجال میں حسینی گلکن، پاسو، باتورہ، شمشال کے چار بڑے گلیشئیرز خوردوپین، ملنگوتی، یاسگل گردان وغیرہ کے بڑھنے کے خطرات ہیں اس کے علاوہ نگر میں کئی جھلیں بن رہی ہیں۔
ڈاکٹر فرخ بشیر نے بتایا کہ گلگت بلتستان اور شمالی خیبرپختونخوا میں تقریباً کل تین ہزار جھیلوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر سائنسی آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماہرین اور سائنسی آلات کی مدد سے بڑھنے والے گلیشئیرز اور اس کے بییوئیر کا جائزہ لینے اور اس کے پیشِ نظر انتظامات کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فرخ بشیر کا ماننا ہے قدرتی تباہی تو کئی سال سے آ رہی ہے مگر اب چونکہ اس میں انسانی عمل دخل بھی شامل ہو گیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ان عناصر کا جائزہ لیا جائے جو ایسے حادثات کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے قبل ہونے والی تمام تحقیق باہر سے آنے والوں نے کی جو صرف موسمِ گرما میں محدود مدت کے لیے یہاں آتے ہیں اور زیادہ عرصہ رہ نہیں سکتے تھے مگر اب ان علاقوں سے تعلق رکھنے والی نئی نسل گلیشیالوجی جیسے مضامین میں انٹرسٹ لے رہی ہے جس سے بہتر اندازے لگانے میں مدد ملے گی۔