منکی پوکس سے متعلق وہ بے بنیاد دعوے جنھیں ماہرین مسترد کرتے ہیں

منکی پاکس

،تصویر کا ذریعہFacebook/ An0maly/ NTI

    • مصنف, ریچل شریر
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ہیلتھ، بی بی سی

یورپ میں منکی پوکس کے کیس سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس وائرس کے بارے میں مختلف قسم کے مفروضات شیئر کیے جا رہے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کورونا کی عالمی وبا کے آغاز پر ہوا تھا۔

منکی پوکس سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ منکی پوکس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نقل و حمل پر پابندیوں کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک اکاؤنٹ کی جانب سے اپنے فالوورز کو بتایا گیا کہ وہ ’منکی پوکس لاک ڈاؤن‘ کے لیے تیار رہیں۔

کچھ اور پوسٹس میں برطانوی حکومت کی ایک پریس کانفرنس کی نقل اتارتے ہوئے منکی پوکس کے لیے کچھ ایسی ہدایات دی گئیں، جو کورونا لاک ڈاؤن کے دوران دی گئی تھیں۔

منکی پوکس کے بارے میں خوف قابل فہم ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کورونا کی طرح نہیں اور دنیا بھر میں ماہرین کا دعویٰ ہے کہ منکی پوکس کا پھیلاؤ خاصا محدود ہے۔

منکی پاکس

،تصویر کا ذریعہTwitter

کورونا وائرس کے مقابلے میں منکی پوکس کی کسی انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی خاصی مشکل ہے۔ جبکہ اس وائرس کے لیے ہمارے پاس ویکسین اور علاج پہلے سے موجود ہے جبکہ اس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کی نشاندہی اور مریض کو الگ تھلگ کرنا خاصا آسان ہو جاتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں سینٹر برائے وبائی امراض کے ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ہوربی کہتے ہیں کہ ’لہذا لاک ڈاؤن یا بڑے پیمانے پر ویکسینیشن جیسی پابندیاں اس وبا کے خلاف ردعمل دینے کا طریقہ نہیں ہوں گی۔‘

اس کی بجائے متاثرہ شخص اور اس کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کو الگ تھلگ کرنا اور ویکسین کا استعمال پہلے ہی سے کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر روزامنڈ لیوس کہتی ہیں کہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی ضرورت نہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کسی قسم کی سفری پابندیوں کی بھی مخالفت کی ہے۔

اس وائرس کے لیب سے نکلنے کا کوئی ثبوت نہیں

یوکرین، روس، چین اور امریکہ کے خبر رساں اداروں اور بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس وبا کا آغاز لیبارٹری سے ہوا یا یہ کہ منکی پوکس کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اس وائرس کے ڈی این اے کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے اس بات کا پتا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا۔

ماہر جینیات فاطمہ توخمفشان کہتی ہیں کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی پارسل کے بارکوڈ کو سکین کیا جائے تاکہ ان تمام راستوں کا پتا لگایا جا سکے جہاں سے یہ گزر کر آیا۔

یہ بھی پڑھیے

’وائرس کی اب تک کی جینیاتی ترتیب ہمیں بتاتی ہے کہ اس کی ایک قسم مغربی افریقہ میں گردش کرتی ہے، جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی لیبارٹری میں تیار کردہ چیز نہیں۔‘

اس وائرس کے چند کیسز سنہ 2018 اور 2021 میں برطانیہ میں دیکھے گئے جبکہ سنہ 2021 میں امریکہ میں اس نے ایک بڑے وبائی مرض کی شکل اختیار کی۔ ان تمام معاملات میں یہ وائرس مسافروں یا درآمدی جانوروں کے ذریعے متعلقہ ممالک تک پہنچا۔

منکی پوکس

،تصویر کا ذریعہUKHSA

پروفیسر پیٹر ہوربی کہتے ہیں کہ ’تو یہ مکمل طور پر قابل فہم ہے کہ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔‘

حالیہ وبا کے دوران برطانیہ میں سامنے آنے والے پہلے کیس میں متاثرہ شخص نے نائیجریا کا سفر کیا تھا۔

پروفیسر پیٹر ہوربی کہتے ہیں کہ یہ خیال کہ منکی پوکس کسی لیبارٹری سے نکلا، ’اس دعوے کی قطعی طور پر کوئی بنیاد نہیں۔‘

’کوئی ثبوت نہیں کہ اس وبا کو پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی‘

آن لائن اس بارے میں بھی دعوے کیے جا رہے ہیں کہ منکی پوکس کی حالیہ لہر کی منصوبہ بندی کی گئی، بہت سے افراد اس حوالے سے بل گیٹس اور اینتھونی فوچی پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

اس بے بنیاد دعوے کو روسی میڈیا، چین کی سوشل میڈیا ایپ ویبو اور انسٹاگرام پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ فیس بک پر جرمن، انگریزی، عربی، فرانسیسی اور پنجابی زبان میں بھی ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

یہ دعوے امریکہ کی ایک بائیو سکیورٹی تنظیم نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو (این ٹی آئی) کی طرف سے تیار کردہ دستاویز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

سنہ 2021 میں این ٹی آئی نے ایک ورکشاپ کے دوران دنیا بھر سے رہنماؤں پر اس بات کو زور دیا کہ وہ مستقبل میں آنے والی ممکنہ وباؤں کے بارے میں منصوبہ بندی کریں۔

شرکا کو ایک خیالی منظر نامے میں کام کرنے کا کہا گیا: ’ایک جان لیوا عالمی وبا جو منکی پوکس وائرس کی ایک غیر معمولی قسم کی وجہ سے دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔‘

این ٹی آئی کے مطابق ’منکی پوکس سے لاحق خطرات برسوں سے موجود ہیں اور اس کے کیسز بہت بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے اس ورکشاپ کے لیے اس وائرس کا انتخاب کیا گیا۔‘

انفیکشن والی وبائیں زندگی کی حقیقت ہیں تو کسی ادارے کا اس بارے میں پیشگوئی کرنا اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنا مشکوک نہیں۔

tweet reading: "Who is surprised that after millions of people have been injected with genetically modified chimp virus, there is now an outbreak of monkeypox?"

منکی پوکس کووڈ ویکسن سے منسلک نہیں

اس دعوے نے ابھی تک دو صورتیں اختیار کی ہیں: کچھ لوگ اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ایسٹرا زینیکا ویکیسن میں ایک ایسے وائرس کا استعمال کیا گیا، جو چیمپینزی میں پایا گیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں منکی پوکس کی وبا کے پیچھے چیمپینزی میں پائے جانے والے اس وائرس کا کورونا ویکسین میں استعمال کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

تاہم مونکی پوکس ایسٹرا زینیکا ویکسین میں پائے جانے والے وائرس سے بالکل مختلف قسم کے وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے اور حقیقت میں یہ بندروں میں نہیں بلکہ زیادہ تر چوہوں میں پایا جاتا ہے۔

اس بارے میں آن لائن دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ کوویڈ ویکسین آپ کے مدافعتی نظام کو دبا دیتی ہے، جس کی وجہ سے آپ دوسرے انفیکیشنز سے باآسانی متاثر ہو سکتے ہیں۔

لیکن حقیقت میں یہ دعویٰ بے بنیاد ہے، ویکسین آپ کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں اور کسی بھی انفیکشن کے خلاف مضبوط دفاع فراہم کرتی ہیں۔

جہاں تک ویکسین کے مدافعتی نظام پر اثرانداز ہونے کی بات ہے تو ایسٹر زینیکا لینے والے کچھ افراد میں خون جمنے کی شکایات دیکھنے میں آئی تھیں تاہم اس بارے میں کوئی شواہد موجود نہیں کہ یہ آپ کی قوت مدافعت کو کمزور یا اسے دوسری بیماریوں کے لیے آسان ہدف بناتی ہیں۔