آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موسمیاتی تبدیلی اور شجرکاری: وہ جنگلات جو صرف ’کاغذی دنیا‘ تک ہی محدود رہتے ہیں
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, نامہ نگار برائے ماحولیات، بی بی سی ورلڈ سروس
جنگلات میں اضافہ کر کے کاربن پر قابو پانا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن پھر بھی ایک مسئلہ باقی ہے۔ بعض اوقات یہ جنگلات صرف کاغذوں کی حد تک ہی موجود ہوتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جاتے یا لگائے گئے یہ درخت مر چکے ہوتے ہیں یا پھر انھیں کاٹ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جرگینا پریماورا ایک کشتی کے ذریعے فلپائن کے ساحلی شہر ایلویلو پہنچیں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت منظر تھا مگر وہ غصے میں تھیں۔ چھ برس قبل یہاں ملک کے ’نیشنل گریننگ پروگرام‘ کے تحت مینگرو کے درخت لگائے گئے تھے لیکن اب یہاں نیلے پانی اور نیلے آسمان کے سوا کچھ نہیں۔
ڈاکٹر جرگینا پریماورا کہتی ہیں کہ نوے فیصد پودے مر گئے کیونکہ مینگرو کی یہ قسم ریتلے ساحلی علاقے کے بجائے کیچڑ والے علاقے کے لیے موزوں تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے یہ درخت یہاں لگانے کو اس لیے ترجیح دی کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب اور انھیں لگانا آسان تھا۔
’شجرکاری میں سہولت کو دیکھتے ہوئے سائنس کی قربانی دی گئی۔‘
’نیشنل گریننگ پروگرام‘ سنہ 2011 اور 2019 کے درمیان پندرہ لاکھ ہیکٹر پر جنگلات اور مینگرو اگانے کی ایک کوشش تھی لیکن ملک کے کمیشن برائے آڈٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلے پانچ سال میں لگائے گئے درختوں میں سے 88 فیصد پروان نہ چڑھ سکے۔
حالیہ برسوں میں جنگلات کی بحالی اور پودے لگانے کے کئی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن میں کچھ عالمی اور کچھ علاقائی پروگرام شامل ہیں اور ان منصوبوں کے تحت عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنا شامل ہے۔
ان میں سب سے بڑے پروگرام کے پاس اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے سنہ 2030 تک کا وقت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ کچھ منصوبوں میں تو یہ معلوم ہی نہیں کہ آخر کتنی پیشرفت ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ماحولیات کے ٹم کرسٹوفرسن کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ایک ارب ہیکٹر زمین کی تزئین اور اسے بحال کرنے کا جو وعدہ کیا گیا، وہ دراصل حقیقت بننے کے بجائے صرف ایک وعدہ ہی رہا۔
بعض مرتبہ شجر کاری کے یہ پروگرام آگے بھی بڑھے ہیں لیکن ان کے انتہائی محدود نتائج برآمد ہوئے۔
بی بی سی نے شجرکاری کی ایک درجن ایسی مثالوں کی چھان بین کی، جو ناکام ہوئیں جیسے فلپائن میں اور عام طور پر اس کی وجہ ناکافی دیکھ بھال رہی۔
فلپائن کی حکومت نے سرکاری کمیشن برائے آڈٹ کے اس جائزے پر تبصرہ کرنے کے لیے بی بی سی کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جس کے مطابق ’نیشنل گریننگ پروگرام‘ کا 88 فیصد حصہ ناکام رہا۔
فلپائن میں کم از کم آڈٹ رپورٹ تو شائع ہوئی لیکن بہت سے دوسرے ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں ان مہمات کے نتائج غیر واضح ہیں۔
پاکستان بون چیلنج کا حصہ رہا ہے جو سنہ 2030 تک 35 کروڑ ہیکٹر زمین پر جنگلات اور قدرتی ماحول بحال کرنے کی کاوش ہے۔ پاکستان نے اس عالمی پروگرام میں 10 لاکھ ہیکٹر کا حصہ ڈالنے کا عہد کیا ہے اور اس چیلنج میں 60 سے زائد ممالک شریک ہیں۔
اس عہد اور اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے پاکستان نے سنہ 2019 میں ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ لانچ کیا تھا اور سنہ 2023 تک کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ارب درخت لگائے جا چکے ہیں مگر ماحولیاتی بحالی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بڑی حد تک ایک تشہیری مہم تھی کیونکہ شجرکاری خیبر پختونخوا جیسے خشک علاقوں میں کی گئی جہاں یہ مؤثر نہیں تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ پودوں کو پانی دینا ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے کیونکہ ان علاقوں میں پانی کی کمی ہے اور پودوں کی دیکھ بھال اور نگرانی بھی ایک چیلنج ہے کیونکہ اتنے دور دراز علاقے میں بمشکل ہی عملے کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بنیادی کام نہیں کیا گیا تھا کہ یہ سب کہاں اور کیسے ہو گا، نتیجتاً کئی علاقوں میں زندہ بچنے والے پودوں کی تعداد کافی کم ہے تاہم حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بڑی حد تک کامیاب رہا اور یہ شجرکاری ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ہدف کی تکمیل میں مدد دے گی۔
دوسری جانب انڈین ریاست اترپردیش میں گذشتہ پانچ برس کے دوران لاکھوں پودے لگائے گئے لیکن جب بی بی سی نے باندا کے ساحل پر ان پودوں کا جائزہ لیا تو ان میں سے بہت کم ہی صحیح سلامت بچے تھے۔
انڈین سکول آف بزنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر تحقیق کرنے والے اشوینی چاترے کہتے ہیں کہ یہ پودے زیادہ تر تصاویر میں ہیں، یہ بہت اچھے لگتے ہیں اور نمبر شاندار ہیں۔
’شجرکاری کے موجودہ ماڈل میں آپ کو سب سے پہلے نرسریوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے آپ کو تعمیراتی سامان کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر آپ کو شجرکاری کے لیے درکار دوسری چیزیں اور پھر ہر چیز کی نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس تمام مواد کی فراہمی کے لیے ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ پودے لگانے میں تو دلچسپی رکھتے ہیں لیکن وہ شجرکاری کی کامیابی میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔‘
اتر پردیش میں محکمہ جنگلات کی سربراہ ممتا دوبے نے بی بی سی کو بتایا کہ نرسریوں کے لیے تمام سامان مسابقتی نرخوں پر سرکاری چینلز کے ذریعے خریدا گیا تھا جبکہ ایک تیسرے فریق نے زیادہ پودے لگانے کی اس مہم کو کامیاب بھی قرار دیا تھا۔
لکھنؤ میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے پروفیسر اشیش اگروال کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی سے انڈیا ڈنمارک کے رقبے کے برابر حصے پر پودے لگا چکا ہے لیکن قومی سروے بتاتے ہیں کہ جنگلات کے احاطے میں یہ اضافہ کافی آہستہ آہستہ ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بقا کی 50 فیصد شرح پر بھی ہمیں 20 ملین ہیکٹر سے زیادہ درختوں اور جنگلات کو دیکھنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور اعدادوشمار اس اضافے کو نہیں دکھاتے۔‘
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی ڈپٹی ڈائریکٹر ٹینا وہانین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انڈیا نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’شجر کاری کی بہت سی مہمات پروموشن ایونٹس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتیں کیونکہ درخت لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال سے متعلق فالو اپ نہیں کیا جاتا۔‘
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی کو افریقی ملک موزمبیق میں ایک مختلف قسم کا مسئلہ دیکھنے کو ملا۔ موزمبیق میں جنگلات کی زمین کی تزئین کی بحالی کے پروگرام اے ایف آر 100 کے تحت نجی کمپنیوں کو بڑے مونو کلچر پودے لگانے کی اجازت دی گئی۔
اگرچہ بہت سے پودے کامیابی کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں لیکن یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے نئے درختوں کی جگہ بنانے کے لیے قدرتی جنگلات کو کاٹا گیا۔
بی بی سی نے یہ شکایات لوگیلا، ایلی اور نیماروئی کے اضلاع سے سنی ہیں۔ اس مسئلے کی بازگشت این جی او ’جسٹیکا ایمبیئنٹل‘ کی وینیسا کیبانیلاس کی جانب سے سنائی دی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں تخفیف کے لیے ہمیں شجرکاری کا خیال فروخت کیا جاتا ہے، جو کہ غلط ہے۔‘
تاہم موزمبیق یہ پودے لگانے والی کمپنیوں نے اس بات سے انکار کیا کہ زمین پہلے زیادہ صحت مند تھی۔
موزمبیق ہولڈنگز کا کہنا ہے کہ لوگیلا کے نزدیک اس کی ربر کی فصلیں وہاں ہیں جہاں پہلے چائے اگائی جاتی تھی۔ ایک پرتگیزی کمپنی پورتوسیل کا ناماروئی کے قریب سفیدے کا باغ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انسانی مداخت کے باعث یہاں کے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچا ہے اور یہاں قدرتی جنگلات بہت کم ہی باقی بچے ہیں۔
بی بی سی نے پورتوسیل کی ایک سفیدے کی کٹائی بھی دیکھی۔ ونیزا کیبانیلاس بتاتی ہیں کہ درخت کاٹنے سے آلودگی کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے اور جب ان لکڑیوں کی ترسیل کی جاتی ہے تو بھی آلودگی پھیلتی ہے، اور مردہ درخت ویسے ہی کاربن جذب نہیں کر رہے ہوتے۔
پورتوسیل کے ایک ترجمان نے کہا کہ نئے درخت لگائے جائیں گے اور یہ مرحلہ دوبارہ شروع ہو گا۔
پورتوسیل کو عالمی بینک کی ایک شاخ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے فنڈنگ ملی ہے اور اس نے بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر ردِ عمل نہیں دیا۔
موزمبیق کی حکومت نے اس حوالے سے بی بی سی کے سوالوں کے جواب نہیں دیے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) رواں ہفتے زمین کی تزئین کی بحالی کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کروا رہی ہے۔
جنگلات کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے سربراہ جولین فاکس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومتوں اور دیگر شراکت دار تنظیموں کے ساتھ 20 نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ان میں جنگلات سے مقامی کمیونٹیز کو پہنچنے والے کسی بھی فائدے کو سامنے رکھنا بھی شامل ہے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے پروگرام اکثر مقامی مدد نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے پیچھے یہ خیال کارفرما ہے کہ اس حوالے سے ملکوں کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنی پیشرفت کو بامعنی اور شفاف طریقے سے ماپنے کے بعد رپورٹ کریں۔‘
’یہ بنیادی طور پر آپ کی اچھی مانیٹرنگ کے اعدادوشمار کو بین الاقوامی برادری کے لیے دستیاب کرنے کے بارے میں ہے۔‘
لیکن یہ اعدادوشمار جمع کرنے کا کام اب بھی ممالک خود ہی کرتے ہیں اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ ایسا کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیکن خوش قسمتی سے یہ نئی کاوش سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم میں بہتری کے ساتھ موافق ہے۔
اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ماحولیات کے ٹم کرسٹوفرسن کہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد بہت زیادہ گرین واشنگ ہے اور ہمیں اسے بہتر انداز میں سامنے لانا ہو گا۔
’گرین واشنگ ایک لالچ ہے کیونکہ اس کی قیمت اصل کام کرنے اور اسے درست انداز میں کرنے سے کہیں کم ہے۔‘