طویل مدتی کووڈ: سکین میں پھیپھڑوں کو ہونے والے پوشیدہ نقصانات کی نشاندہی

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY
برطانیہ میں ایک چھوٹی پائلٹ یعنی تجرباتی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل کووڈ سے متاثرہ کچھ لوگوں کے پھیپھڑوں کو پوشیدہ نقصان ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے پھیپھڑوں کی معمول کے خلاف حالت کی جانچ کے لیے ایک نیا زینون گیس سکین طریقہ استعمال کیا اور اس میں جو بات سامنے آئی وہ معمول کے سکینوں سے نہیں آتی۔
انھوں نے ان 11 افراد پر توجہ مرکوز کی جنھیں پہلی بار کووڈ کی زد میں آنے پر ہسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی لیکن ابتدائی انفیکشن کے بعد انھیں طویل عرصے تک سانس لینے میں تکلیف کا سامنا رہا۔
اس کے متعلق مزید تفصیلی مطالعہ جاری ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے۔
یہ کام پہلے کیے جانے والے مطالعے پر مبنی ہے جس میں ان لوگوں پر تحقیق کی گئی تھی جنھیں کووڈ کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات پر قدرے روشنی ڈالتے ہیں کہ طویل کووڈ میں سانس کی تکلیف اتنی عام کیوں ہے، حالانکہ سانس کی کمی محسوس کرنے کی متعدد اور پیچیدہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔
طویل کووڈ سے مراد بہت سی علامات ہیں جو کورونا وائرس کے انفیکشن کے بعد کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہیں اور کسی اور طرح ان کی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'آکسیجن کا سفر'
آکسفورڈ، شیفیلڈ، کارڈف اور مانچسٹر کی ٹیم نے لوگوں کے تین گروپوں میں زینون گیس سکین اور پھیپھڑوں کے دیگر ٹیسٹ کا موازنہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں طویل کووڈ اور سانس لینے میں دشواری والے لوگ شامل تھے جو انفیکشن کے وقت ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے جبکہ 12 لوگ ایسے تھے جو کووڈ کے بعد ہسپتال میں داخل کرائے گئے تھے لیکن ان میں طویل عرصے سے تک کووڈ کے اثرات نہیں تھے اور تیسرا گروپ ان 13 لوگوں کا تھا جو کہ صحت مند تھے اور انھیں ’کنٹرول‘ کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
شیفیلڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ نئی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے، تمام شرکاء نے مقناطیسی گونج امیجنگ (MRI) سکین کے دوران زینون گیس کا سانس لیا۔
یہ گیس آکسیجن کی طرح برتاؤ کرتی ہے لیکن سکین کے دوران اس کا بصری طور پر پتہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے سائنس دان یہ 'دیکھنے' کے قابل ہوئے کہ یہ پھیپھڑوں میں خون کے دھارے کے ساتھ کتنی اچھی طرح سے منتقل ہوتی ہے۔ یہ جسم میں آکسیجن کی نقل و حمل میں انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
محققین نے طویل عرصے تک کووڈ کے زیر اثر رہنے والے لوگوں کی اکثریت میں صحت مند کنٹرولز کے مقابلے میں گیس کی منتقلی کو کم موثر پایا۔
جن لوگوں کو کووڈ کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ان میں بھی ایسی ہی غیر معمولی باتیں نظر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس تحقیق کی سربراہ محقق اور پھیپھڑوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر ایملی فریزر نے کہا کہ لوگوں کا کلینک میں آنا اور انھیں یہ بتانے کے قابل نہ ہونا کہ انھیں سانس لینے میں دشواری کیوں محسوس ہو رہی ہے ، یہ بات بہت مایوس کن تھی۔ اکثر ایکس رے اور سی ٹی سکین غیر معمولی چیزیں نہیں دکھاتے ہیں۔
’یہ ایک اہم تحقیق ہے اور مجھے واقعتاً امید ہے کہ اس سے اس پر مزید روشنی پڑے گی۔‘
لیکن انھوں نے مزید کہا: 'یہ ضروری ہے کہ لوگ جان لیں کہ بحالی کی حکمت عملی اور سانس لینے کی دوبارہ تربیت واقعی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔‘
اس تحقیق کے شریک سربراہ محقق پروفیسر فرگس گلیسن نے کہا: ’اب اہم سوالات کے جواب دینے ہیں، جیسے کہ طویل عرصے سے کووڈ کے کتنے مریضوں کے غیر معمولی سکین ہوں گے، اس غیر معمولی چیز کی کتنی اہمیت ہے جو ہم نے دریافت کی ہے، غیر معمولی چیز کی رونما ہونے کے اسباب کیا ہیں، اور اس کے طویل مدتی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
’ایک بار جب ہم ان علامات کو چلانے کے طریقہ کار کو سمجھ لیں گے، تو ہم مزید موثر علاج تیار کرنے کی حالت میں ہوں گے۔‘











