آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ: سورج کی شعاعوں سے بچنے کے لیے خلائی دوربین کی سن شیلڈ کھول دی گئی
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر
دنیا کی سب سے بڑی خلائی دوربین جیمز ویب نے چمکتے ستاروں کی تصاویر حاصل کرنے کی جستجو کے مشن کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔
اس خلائی دوربین کے کنٹرولرز نے منگل کے روز کامیابی سے ایک پتنگ نما بڑی ’سن شیلڈ‘ کو کھول کر دوربین کو سورج کی سخت شعاعوں سے محفوظ بنانے کا انتظام کر لیا ہے۔
سورج کی شعاعوں اور تپش سے حفاظت فراہم کرنے والی اس شیلڈ کا سائز ایک ٹینس کورٹ جتنا ہے۔ اب اس کے باعث جیمز ویب ٹیلی سکوپ کائنات میں سب سے دور چیزوں کے سگنلز کا پتا لگا سکے گی۔
یہ ٹیلی سکوپ اب کائنات کی کہکہشاؤں کے راز اور خلا میں چمکتے ستاروں کی تصاویر حاصل کرنے کے اگلے مرحلے میں اپنے آئینوں کو کھولنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس میں نصب سب سے بڑا آئینہ چھ اعشاریہ پانچ میٹر چوڑا ہے۔
پانچ تہوں والی اس سن شیلڈ کا کامیابی سے کھل جانا اور اپنے کام کو درست طریقے سے سرانجام دینا امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور ایروسپیس کمپنی نارتھ روپ گرومین کی انجینیئرنگ ٹیموں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
بہت سے ماہرین نے جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی اس سن شیلڈ کے ڈیزائن پر خدشات کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس میں بہت سی موٹریں، گیئر گراریاں، چرخیاں اور تاریں شامل تھی۔ اور خلا میں اس کے مکمل طور پر کُھل جانے اور خلائی دوربین کو محفوظ بنانے پر انھیں تحفظات تھے۔
لیکن بڑے اور چھوٹے پیمانے پر برسوں کے تجربات اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس خلائی دوربین کے کنٹرولرز پہلے اس بڑی شیلڈ کی مختلف تہوں کو مکمل طور پر کھولیں گے اور بعد میں انھیں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیں گے۔
اس ٹیلی سکوپ کی سن شیلڈ کی مختلف تہوں کی بناوٹ انسانی بال جیسی ہے۔ منگل کے روز اس شیلڈ کے نصب ہونے کے دوران اس کی پانچویں اور آخری تہہ بین الاقوامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 58 منٹ پر کھل کر اپنی جگہ پر آئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناسا ہیڈ کوارٹر میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ مشن کے پروگرام ڈائریکٹر گریگ روبنسن کا کہنا تھا کہ 'خلا میں جیمز ویب خلائی دوربین کی سن شیلڈ کا کھل کر اپنی جگہ پر درست طریقے سے نصب ہونا ایک شاندار فتح اور اس مشن کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'انجینیئرنگ کے اس شاہکار کو خلا میں درست اور مکمل طریقے سے کام کرنے کے لیے ہزاروں پرزوں کو نہایت مہارت کے ساتھ کام کرنا پڑا ۔ ٹیم نے اس مرحلے یعنی سن شیلڈ کے کھل کر درست طریقے سے نصب ہونے میں پیچیدہ مگر جرات مندانہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ جو کہ اب تک جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے سب سے بڑے کاموں میں سے ایک تھا۔'
ناسا میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی تعیناتی کے سسٹم کے سربراہ الفونو سٹیوارٹ نے جوشیلے انداز سے کہا کہ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے پہلے اس سلسلے میں تمام تجربات زمین پر کیے گئے تھے جہاں زمین کی کشش ثقل موجود تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ شیلڈ خلا میں کھولی گئی ہے جہاں کشش ثقل صفر ہے۔
'یہ پہلی مرتبہ تھا اور ہم اس میں بھرپور کامیاب ہوئے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
نارتھ روپ کمپنی میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی شیلڈ کو کھولنے کی ٹیم کے سربراہ ہیلری سٹاک کا کہنا تھا کہ 'اس سب میں بہت خوشی اور سکھ اور اطمینان کا احساس ہے۔'
یاد رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی خلائی دوربین جیمز ویب کو گذشتہ برس 25 دسمبر کو فرنچ گیونا سے آرائن راکٹ کی مدد سے خلا میں چھوڑا گیا تھا۔
اس خلائی دوربین کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہبل ٹیلی سکوپ کی جانشین ہے کیونکہ ہبل اب 31 برس پرانی ہو چکی ہے اور اپنی آپریشنل مدت کے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔
جیمز ویب بھی ہبل خلائی دوربین کی طرح کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھائے گی اور خلا میں موجود ستاروں اور کہکشاؤں تک رسائی تصاویر کے ذریعے ممکن بنائے گی۔ لیکن اس میں ہبل خلائی دوربین کے مقابلے میں جدید آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو اسے خلا میں مزید دور تک دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
اس خلائی دوربین سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ یہ ان ستاروں سے بھی روشنی حاصل کر لے گی جو 13.5 ارب سال پہلے بگ بینگ کے فوری بعد روشن ہوئے تھے۔ ان ستاروں کے متعلق یہ مانا جاتا ہے کہ یہ کائنات کے سب سے پہلے ستاروں میں سے ایک ہیں۔
مگر اس تمام کارنامے کے لیے یہ اہم ہے کہ جیمز ویب کے انفراریڈ سینسر کتنے حساس ہیں۔ کیا کائنات کے اس حصے سے آنے والی روشنی ویب کے سینسر تک درست طریقے سے پہنچ پائے گی یا کیا جیمز ویب ان سگنلز کو اچھی طرح موصول کر پائی گی۔
اس کے لیے خلائی دوربین کو خود کو ٹھنڈا اور کم درجہ حرارت پر رکھنا ہے ورنہ ان سگنلز کی نشاندہی نہیں کی جاسکے گی۔
لہذا یہ سن شیلڈ اس خلائی دوربین کے گرد ماحول کو کم درجہ حرارت فراہم کرے گی اور اس خلائی دوربین کے آئینوں اور آلات کے گرد درجہ حرارت کو منفی 230 سینٹی گریڈ تک گرا دے گی۔
اس ٹیلی سکوپ کو آپریٹ کرنے والے کنٹرولرز میری لینڈ ریاست میں بالٹیمور سپیس ٹیلی سکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ میں لگے ہیں اور اب ان کی توجہ اس کے سنہری آئینوں پر مرکوز ہے۔
سن شیلڈ کی طرح اب اگلے مرحلے میں اس خلائی دوربین کے دو اہم اور بنیادی آئینوں کو کھولنا اور آرائن کے سامنے والے حصے پر جا کر نصب ہے۔
رواں ہفتے کے آخر تک امید ہے کہ خلائی دوربین کے پہلے آئینے کے سامنے اس کا دوسرا آئینہ جو 75 سینٹی میٹر چوڑا ہے اور آٹھ میٹر لمبی راڈز پر نصب ہے، کھل کر نصب ہو جائے گا۔
اس کے مرکزی آئینے کے ساتھ 'پر' لگے ہوئے ہیں جنھیں اس کی لانچ کے وقت موڑا گیا تھا۔ انھیں اب نوے ڈگری کے زاویے پر کھولا جائے گا جس سے اس کی سطح 6.5 میٹر چوڑی ہوجائے گی۔
اگر سب کچھ ٹھیک طریقے سے ہوتا گیا تو امید ہے کہ یہ کام اس ہفتے کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ اس وقت خلا میں زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ایسے مقام پر موجود ہے جسے زمین کا 'مڈ نائٹ' مقام کہا جاتا ہے اور یہ یہاں سے کائنات کا مشاہدہ کرے گی۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا مشن امریکی، یورپی اور کینیڈین خلائی ایجنسیوں کا مشترکہ منصوبہ ہے۔