موٹر نیورون ڈیزیز: لاعلاج بیماری میں مبتلا ماں جو وقت کے خلاف جنگ کر رہی ہیں

    • مصنف, چارلی جونز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ایما کو اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ جب لوگ انھیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ انھوں نے بچہ کیوں پیدا کیا۔ جب ایما کی بیٹی وریان، جو اب چار سال کی ہیں، پیدا ہوئیں تو ایما کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن اب وہ موٹر نیورون ڈیزیز (ایم این ڈی) کی وجہ سے لائف سپورٹ وینٹیلیٹر پر ہیں۔

یاد رہے کہ موٹر نیورون ایک غیر معمولی حالت ہے جو انسانی دماغ اور اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ انسانی جسم میں یہ بیماری بتدریج کمزوری کا سبب بنتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مریض کی حالت بدتر ہوتی جاتی ہے۔ اس بیماری کو کوئی علاج نہیں تاہم چند ادویات ہیں جو روزمرہ زندگی پر پڑنے والے اس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

ایما کہتی ہیں کہ ’اب کون مجھے دیکھ کے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس (بیماری) نے مجھے اتنی جلدی بدل دیا ہے۔‘

’وریان (بیٹی) کی زندگی کے ابتدائی چار برسوں میں ہی میں ایک مکمل صحت مند عورت سے ایک معذور اور مکمل طور پر دوسروں پر انحصار کرنے والے فرد میں بدل گئی ہوں۔‘

جب مئی 2018 میں نارتھیمپٹن سے تعلق رکھنے والی 41 سالہ ایما میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی تو انھیں بتایا گیا تھا کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے تقریباً دو سے پانچ سال تک کا وقت باقی رہ گیا ہے۔ اس وقت اُن کی ٹانگوں کے پٹھے پھڑکنے لگ گئے تھے اور ان کے ہاتھ کی گرفت کم ہوتی جا رہی تھی۔

اس مرض کی وجہ سے مریض کی حرکت کرنے، نگلنے اور بالآخر سانس لینے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ ایما کو 24/7 وینٹیلیشن کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کہتی ہیں کہ اس کے بغیر وہ دو سال پہلے ہی مر گئی ہوتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے ہاتھوں سے کوئی کام نہیں کر سکتی، میں نہ لکھ سکتی ہوں، کپڑے پہن سکتی ہوں اور نہ اپنے آپ کو صاف کر سکتی ہوں۔ میں کھڑی ہو سکتی ہوں اور نہ ہی چل سکتی ہوں۔ ساڑھے تین سال پہلے میں فل ٹائم کام کر رہی تھی، اس لیے یہ تبدیلی تباہ کن ہے۔‘

مگر اس سب کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ یہ زندگی پھر بھی یقیناً جینے کے قابل ہے۔ وہ بڑی خوش تھیں کہ اُن کی بیٹی نے دوبارہ کرسمس ٹری سجایا اور وہ ستمبر میں اس کے سکول کے پہلے دن بھی اس کے ساتھ موجود تھیں۔

’مجھے یاد ہے کہ میں اپنے نیورولوجسٹ کے دفتر میں تھی جب مجھے بتایا گیا تھا کہ مجھے ایم این ڈی (بیماری) ہے، اس وقت وریان 16 ماہ کی تھی اور ایسا ناممکن لگتا تھا کہ میں اسے کبھی سکول شروع کرتے ہوئے دیکھوں گی، لیکن میں نے ایسا کیا اور یہ میرے لیے بہت بڑا کام تھا۔‘

’میں واقعی کسی بھی دن کو معمولی نہیں سمجھتی۔۔۔ میں ہر رات جب بستر پر سونے جاتی ہوں تو میری آخری سوچ ہوتی ہے کہ ’امید ہے کہ میں (صبح) اٹھ سکوں گی۔‘

ایم این ڈی کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ اس بیماری کو کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈنے کے قریب ہیں۔

ایما ٹارگٹڈ ایم این ڈی ریسرچ میں مزید سرمایہ کاری کے لیے مہم کا حصہ ہیں اور اس سال کے شروع میں اس کے لیے وہ ڈاؤننگ سٹریٹ بھی گئی تھیں۔ گذشتہ ماہ برطانوی حکومت نے اس مرض پر تحقیق کے لیے اگلے پانچ سالوں کے دوران 50 ملین پاؤنڈ فنڈز دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ میں تشخیص ہوتی ہے تو آپ کو پیغام ملتا ہے کہ آپ کے پاس دو سے پانچ سال رہ گئے ہیں، جائیں جو آپ کی باقی زندگی رہ گئی ہے، وہ جیئں۔‘

’ہم اس پیغام کو امید اور ممکنات سے بدلنا چاہتے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پیسہ اگر اس کا علاج نہیں بھی لاتا تو کم از کم علاج کا عمل اس بیماری کو آہستہ تو کر سکتا ہے۔‘

’میں صرف یہ امید کر سکتی ہوں کہ دوبارہ جاگ سکوں، لیکن ہمیں ایم این ڈی میں مبتلا لوگوں کو کل کے لیے امید کرنے سے بہتر انتخاب (آپشن) دینا چاہیے۔‘

موٹر نیورون ڈیزیز (ایم این ڈی) کیا ہے؟

  • ایم این ڈی ایک مہلک، تیزی سے بڑھنے والی، لاعلاج بیماری ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہے
  • فی الحال اس کا کوئی علاج نہیں ہے
  • یہ ان اعصاب پر حملہ کرتی ہے جو حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں اور لوگوں کے چلنے، بات کرنے، کھانے اور سانس لینے کے طریقے کو متاثر کرتے ہیں
  • یہ ایک سال کے اندر ایک تہائی لوگوں کو اور دو سال کے اندر آدھے سے زیادہ اس مرض میں مبتلا لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہے
  • اس بیماری میں مبتلا صرف 10 فیصد لوگ 10 سال یا اس سے زیادہ زندہ رہتے ہیں
  • زندگی میں ایم این ڈی میں مبتلا ہونے کا خطرہ 300 میں سے ہر ایک فرد کو ہوتا ہے
  • یہ برطانیہ میں 5000 بالغوں تک کو متاثر کرتی ہے اور آج کی تاریخ میں یہاں دو لاکھ زندہ لوگوں میں اس کی تشخیص ہو سکی ہے
  • یہ معلوم نہیں ہے کہ ایم این ڈی کی بیماری کس وجہ سے ہوتی ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ جینیاتی، ماحولیاتی اور طرز زندگی کے عوامل اس کی وجہ بن سکتے ہیں

ایم این ڈی کی تشخیص کے بعد ایما نے ایک فیس بک بلاگ 'Mummy with MND', لکھنا شروع کیا جس کے اب 27 ہزار فالوورز ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے فیس بک سپورٹ گروپ ’ایم این ڈی واریئرز یونائیٹڈ‘ بنایا، جس کے 14 سو اراکین ہیں جن میں سے زیادہ کو یہ بیماری ہے۔

ایما سمجھتی ہیں کہ اس بیماری کے بارے میں اب زیادہ آگاہی ہے۔ جب انھوں نے اپنے خاندان کو اس بارے میں بتایا تھا کہ انھیں ایک بہت مہلک بیماری ہے تو کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔

اب وہ اپنی توجہ ٹریکیوسٹومیز کی طرف مبذول کر رہی ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس میں گردن کے ذریعے ونڈ پائپ میں ایک ٹیوب ڈالی جاتی ہے تاکہ بہتر طریقے سے سانس لیا جا سکے۔ ایم این ڈی کمیونٹی میں یہ ایک متنازع طریقہ سمجھا ہیں۔

وہ مریضوں کے لیے ایک مہم شروع کرنا چاہتی ہے تاکہ ان کے پاس یہ انتخاب ہو کہ آیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی کو طول دینے کے لیے مداخلت کی جائے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو اکثر اس کے بارے میں منصفانہ طریقے سے بات کرنے کے لیے واقعی میں لڑنا پڑتا ہے، کچھ کنسلٹنٹس تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ تمام کیسز میں کام نہیں کرتا اور یہ ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کے بہت سے مضمرات ہیں۔ دیکھ بھال زیادہ پیچیدہ ہے، آپ کی دیکھ بھال کی لاگت بڑھ جائے گی اور آپ کو اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ آیا خاندان اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔‘

موٹر نیورون ڈیزیز ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف کیئر سیلی ہیوز اس بات سے متفق ہیں کہ ٹریکیوسٹومی کروانے کا فیصلہ ’کسی بھی شخص کے لیے بہت زیادہ انفرادی ہے‘ اور یہ ’ان کے ذاتی حالات پر مبنی ہونا چاہیئے۔‘

’اس میں ان کے ایم این ڈی کے بڑھنے کی رفتار، ان کی زندگی کی کوالٹی اور ان کو دستیاب کیئر کو سامنے رکھنا شامل ہے۔‘

ایما کے لیے یہ ایک آسان فیصلہ ہے اور وہ امید کرتی ہے کہ وقت آنے پر ان کی میڈیکل ٹیم ان کی حمایت کرے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب بھی ممکن ہو میں زندگی کا انتخاب کرنا چاہوں گی، اگر یہ مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی اجازت دے۔‘

وہ جنوری کے آخر میں وریان کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر موجود ہونا چاہتی ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’ایک بہت بڑا سنگ میل ہو گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جیسے جیسے وریان کی عمر بڑھتی جا رہی ہے، مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس کے پاس میرے بارے میں حقیقی زندہ یادیں ہوں گی۔‘

’میں واقعی امید کرتی ہوں کہ میں اس کے ساتھ کافی عرصہ تک زندہ رہوں، تاکہ اس کے پاس میری آواز کی یاد ہو، اور ہمارے گلے لگنے اور ان چیزوں کی جو ہم نے کی ہیں اور ان جگہوں کی جہاں ہم گئے تھے، کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ اس کے لیے مستقبل میں واقعی اہم ہوگا۔‘

ایما کہتی ہیں کہ وہ اگلے سال خاندان کے ساتھ چھٹیوں پر جانا بھی پسند کریں گی۔ انھوں نے حال ہی میں اپنے بلاگ میں لکھا کہ وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ وہ زندگی کی سادہ لذتوں سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں، جیسے سردیوں میں چہل قدمی اور پارک جانا وغیرہ۔

انھوں نے لکھا کہ ’میرے بہت سے دوست مر چکے ہیں اور وہ بہت سی چیزیں نہیں کر سکے۔ کبھی کبھار میں خود کو قصور وار محسوس کرتی ہوں۔ کبھی میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ کبھی میں بستر پر لیٹ کر ان کے تمام ناموں کو دہرانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ یہ بتا سکوں کہ انھیں فراموش نہیں کیا گیا۔ کبھی کبھی یہ فہرست ناممکن طور پر لمبی محسوس ہوتی ہے۔

’میں مشکلات کو شکست دے رہی ہوں اور میں نہیں رکوں گا۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی، میری بیٹی۔‘