آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حفظان صحت اور صفائی: خود کو اور اپنی چیزوں کو کتنی بار صاف کیا جائے؟
اچھی حفظان صحت اچھی خبر ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس سے اس قدر بدبو آئے جیسے وہ 14 روز سے نہایا نہ ہو یا گندگی کی وجہ سے گھر مشکوک جراثیموں سے بھرا ہو۔
لیکن کیا ہم کبھی کبھار حد سے زیادہ حفظان صحت کا خیال رکھتے ہیں؟ یہ جاننا اہم ہے کہ ہمیں کتنی بار اپنی زندگی کی اہم چیزوں کو صاف کرنا چاہیے اور خود نہانا چاہیے۔
ہمیں کتنی بار نہانا چاہیے؟
اس کا کوئی طے شدہ اصول نہیں مگر اکثر ماہر امراض جلد اس بات پر متفق ہیں کہ ایک معاشرے کے طور پر ہم بہت زیادہ نہاتے ہیں۔
ہم میں سے کچھ لوگ روز نہاتے ہیں تاہم اگر آپ کوئی مشکل کام نہیں کر رہے تو آپ ایک دن چھوڑ کر ایک دن بھی نہا سکتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ آپ سے بدبو نہ آئے اور جِلد کی قدرتی خصوصیات (جیسے وائٹل آئلز) باقی رہیں جو زیادہ نہانے سے ختم ہوتی ہیں۔
ہر شخص کی جِلد اپنی الگ خصوصیات رکھتی ہے۔ مثلاً جب آپ روز ورزش کرتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ آپ ہر بار ورزش کرنے کے بعد نہائیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ سے کسی محفل میں بدبو آئے گی۔
مگر اس میں پیر شامل نہیں۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ آپ کو روز تھوڑے سے صابن سے اپنے پیر دھونے چاہییں (خاص کر انگلیوں کے بیچ میں) اور پھر انھیں اچھی طرح خشک کرنا چاہیے۔
ہمیں کتنی بار اپنے بال دھونے چاہیے؟
جِلد کی طرح بالوں میں بھی قدرتی تیل کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ انھیں زیادہ دھونے سے یہ ختم ہو سکتی ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر آپ کے سکیلپ یا سر پر بہت جلدی چکنائی نہیں آتی تو آپ کو روز بال دھونے کی ضرورت نہیں۔ دو دن چھوڑ کر تیسرے دن بال دھونا اچھی عادت ہے۔ اس طرح آپ ایک ہی وقت میں اپنا شیمپو اور کنڈشنر بچا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دانت کتنی بار صاف کریں؟
جو اصول ہمیں بچپن میں بتائے گئے وہ ساری زندگی کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ ایس کی تجویز ہے کہ ہمیں روز دن میں دو بار اپنے دانت فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے صاف کرنے چاہیے تاکہ مسوڑھوں کی بیماریاں روکی جا سکیں۔
اگر آپ کے لیے دو منٹ کچھ زیادہ وقت ہے تو کانوں میں ہیڈفونز لگائیں اور اپنی پسند کا کوئی گانا سنتے ہوئے دو منٹ تک دانتوں کو اچھی طرح صاف کریں۔
بیڈ شیٹ کی تبدیلی
ہم اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ اپنے بستر پر گزارتے ہیں تو یہاں صاف ستھرا ماحول ضروری ہے۔
صحت کے ماہرین کی تجویز ہے کہ ہر صبح چادر کو جھاڑنا ضروری ہے۔ بیڈ شیٹ اور رضائی میں ہمارے جسم کی نمی کے ساتھ جِلد کے مردہ خلیات موجود ہوتے ہیں جس سے مٹی کے ذرات آسکتے ہیں۔
اگر کسی کو کوئی بھی الرجی ہو تو اس کے لیے ٹھیک نہیں۔ ان چادروں کو بھی ’سانس لینے‘ کی ضروری ہوتی ہے اس لیے آپ چاہیں تو اپنی کھڑکی بھی کھول سکتے ہیں۔
دی گڈ ہاؤس کیپنگ انسٹیٹیوٹ کی تجویز ہے کہ کم از کم دو ہفتوں کے بعد اپنی چادر تبدیل کریں۔ اگر آپ کو نیند میں پیسنہ زیادہ آتا ہے تو چادر کو ہفتے میں ایک بار تبدیل کریں۔
تولیے کی صفائی
جب ہم خود کو تولیے سے سوکھاتے ہیں تو جسم میں جِلد کے مردہ خلیات اس میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہاں بیکٹیریا آ سکتا ہے۔ ماحولیاتی اعتبار سے روز تولیے کو دھونا ٹھیک نہیں مگر اسے دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح خشک کر لینا چاہیے۔
دی ہاؤس کیپنگ انسٹی ٹیوٹ کی تجویز ہے کہ تین بار استعمال کرنے کے بعد تولیے کو دھو لینا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ تولیے کو زیادہ درجۂ حرارت پر صاف کیا جائے تاکہ اس میں موجود بیکٹیریا ختم ہو سکے جو دھاگوں کے بیچ بڑی تعداد میں موجود ہوتا ہے۔
برتن اور کچن صاف کرنے کا کپڑا
اگر آپ اپنے کچن کے کپڑے سے برتن اور شیلف صاف کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ اس پر بہت زیادہ بیکٹیریا ہو۔ اس کے دھاگوں کے بیچ بیکٹیریا پھیلتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس بارے میں تجاویز مختلف ہیں کہ آیا اس کپڑے کو کب تبدیل کر لینا چاہیے مگر ممزنیٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق روزانہ یہ کپڑا تبدیل کرنا چاہیے اور ایک ہفتے بعد ان سب کو دھو کر خشک کرنا چاہیے۔ یہ تجویز بھی دی جاتی ہے کہ برتن صاف کرنے والے کپڑے کو کسی جراثیم کش مائع میں رات بھر رکھنا چاہیے۔
ٹوائلٹ سیٹ یا باؤل
حیرت انگیز طور پر آپ کے کچن کے کٹنگ بورڈ پر ٹوائلٹ کی سیٹ سے زیادہ بیکٹیریا ہو سکتا ہے مگر بیت الخلا میں موجود جراثیم ختم کرنا بھی ضروری ہے۔
ٹوائلٹ کی سیٹ کو ہفتے میں کم از کم ایک بار اچھی طرح صاف کرنا چاہیے اور روزانہ اسے صابن اور کپڑے سے ایک بار صاف کر لینا چاہیے۔
جینز کو کیسے صاف رکھا جائے اور کتنی بار؟
جینز کے موضوع پر ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ اس بارے میں سب کے اپنے اپنے مشورے ہیں کہ جینز کو کتنی بار پہننے کے بعد دھونا چاہیے۔
ایک تجویز یہ ہے کہ جینز کو جہاں تک ممکن ہو کم دھونا چاہیے (ڈینم کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق وہ اپنی جینز چھ ماہ میں صرف ایک بار دھوتے ہیں)۔
لیکن ایک عام رائے یہ ہے کہ جینز کو چار سے پانچ مرتبہ پہننے کے بعد واشنگ مشین میں دھونا چاہیے۔ اس کے رنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اسے ٹھنڈے پانی میں دھونا بہتر حکمت عملی ہو گی۔
گھریلو جانوروں کے کھانے کے برتن
ہم اپنی دادی یا نانی کو کبھی گندے برتن میں کھانا نہیں دیتے تو اسی طرح گھریلو جانوروں کے لیے بھی یہی اصول بنتا ہے۔ کتے یا بلی کے برتن سے بچا ہوا کھانا صاف کرنا مشکل کام ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی صاف ستھرے برتن کے مستحق ہیں۔
ان کے برتنوں کو ہر کھانے کے بعد گرم پانی اور صابن سے صاف کرنا چاہیے مگر پانی کے برتنوں کو بار بار صاف کرنے کی ضرورت نہیں۔ انھیں ہر دوسرے دن صاف کیا جاسکتا ہے۔
گھریلو جانوروں کے کھانے کے برتن صاف کرنے سے پہلے اور بعد میں اچھی طرح اپنے ہاتھ دھونا ضروری ہے۔
بچوں کی پتلون
والدین کے آن لائن گروپس میں یہ موضوع زیر بحث رہتا ہے۔ ہر خاندان کے الگ اصول اور عادات ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں کے لیے بچوں کی پتلون روزانہ دھونا آسان ہو سکتا ہے مگر کچھ لوگ انھیں ایک ہفتے تک نہیں دھوتے یعنی جب تک یہ پہننے کے قابل نہ رہے۔
تاہم ہاؤس کیپنگ میگزین کے مطابق بچوں کی پتلون سمیت تمام کپڑے دھلنے سے قبل کئی بار پہنے جا سکتے ہیں۔ اگر ان کپڑوں پر داغ لگ جائے یا ان سے بدبو آئے تو انھیں وقت سے پہلے دھویا ج اسکتا ہے۔
پانی کا تحفظ اور اپنی جِلد کو خشک ہونے سے بچانا اہم ہے۔ صفائی کے بارے میں کوئی سخت اصول نہیں اور یہ ذاتی پسند یا حالات پر منحصر ہے۔
آپ صحیح زندگی گزار رہے ہیں اگر آپ باقی لوگوں کے لیے بدبو کا باعث نہ بنیں!