آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی خلائی ادارے نے مریخ کی سطح پر ژورونگ کے اترنے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں
چین کے خلائی تحقیق کے ادارے سپیس ایجنسی نے اپنی خلائی گاڑی ’ژورونگ روور‘ کے مریخ کی سطح پر اترنے کی ویڈیو جاری کی ہے۔ یہ تصاویر ایک وائرلیس کیمرے کے ذریعہ حاصل کی گئیں جو اس روبوٹ نے مریخ کی سطح پر رکھا تھا۔
مئی میں میڈیا کے لیے جاری کی جانے والی تصاویر میں ژورونگ کی لینڈنگ کے تمام مراحل شامل ہیں، جن میں اس کے پیراشوٹ سسٹم کو لانچ کرنے اور اس کی لینڈنگ کے لمحات بھی شامل ہیں۔ چھ پہیوں والا یہ روبوٹ مریخ کے ایک ایسے خطے پر تحقیق کر رہا ہے جو یوٹوپیا پلینیٹیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔
چین کی نیشنل اسپیس ایجنسی (سی این ایس اے) کا کہنا ہے کہ ژورونگ نے مریخ کے حساب سے 42 سول یا دن میں (27 جون تک) 236 ملین کا فاصلہ طے کیا ہے۔ سول یعنی مریخی دن زمین کے دن سے تھوڑا بڑا یعنی 24 گھنٹے اور 39 منٹ کا ہوتا ہے۔
تازہ ترین ویڈیوز سرخ سیارے کے گرد مدار میں موجود چینی سیارے ’ تیانون‘ کے توسط سے زمین پر پہنچائی گئی ہیں۔
سی این ایس اے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مریخ کے مدار میں موجود خلائی گاڑی اور خود روور اچھی حالت میں ہیں، وہ مریخ سے (کیمونسٹ) پارٹی اور مادر وطن کو بحفاظت اطلاعات بھیج رہا ہے اور دونوں پارٹی کے 100ویں تاسیس کے موقع پر اس آپریشن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ یکم جولائی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنے قیام کی 100 ویں سالگرہ منائے گی۔
اس موقع پر ایک ویڈیو ریلیز کیے جانے کی توقع تھی، خاص طور پر لینڈنگ کی جو 14 مئی کو ہوئی تھی۔ ابھی بھی اس پیرا شوٹ سسٹم کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دور دراز مریخ کے تہہ در تہہ وسیع و عریض ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔
ریلیز کی جانے والی ویڈیو میں ہم ژورونگ اور اس کا لینڈنگ پلیٹ فارم کیپسول کے بیک شیل سے دور ہوتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں اور آخر میں مریخ کی سطح کے مناظر دکھانے والا کیمرہ نیچے اترنے کے لمحے کو اپنی آنکھ میں محفوظ کر لیتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ پلیٹ فارم کا براکنگ راکٹ موٹر زوردار دھماکے سے سطح پر اترتا ہے اور دھول اٹھتی نظر آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریلیز کی جانے والی ویڈیوز میں مریخ کی سطح کی تین ویڈیوز ہیں۔ پہلی ویڈیو وہ تھی جب بظاہر ژورونگ نے وائرلیس کیمرہ کو سطح زمین کی طرف پھینکا۔ اس ویڈیو میں روبوٹ کو پیچھے ہٹتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری ویڈیو میں ژورونگ اپنے لینڈنگ پلیٹ فارم کے قریب اترا تو اس کے پہیے آہستہ آہستہ گھوم رہے تھے۔ سی این ایس اے نے پہلے بھی اس منظر کی ایک تصویر جاری کی تھی۔
تیسری اور آخری ویڈیو میں روور کے نیچے اترنے کی تفصیلات کو عکس بند کیا گیا ہے۔ اس فلم کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں اس میں اچھی طرح سے آواز بھی سننے کو ملتی ہے۔ ہم اس لینڈنگ کے مرحلے کے دوران روبوٹ کے لوکوموشن سسٹم کو سن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مریخ کے ماحول کی نوعیت کا مطلب ہے شور بالکل اس جیسا نہیں لگتا جیسے وہ زمین پر سنائی دیتا ہے۔ یہ کسی حد تک ملا جلا سا ہوتا ہے۔ سائنسدان امید کر رہے ہیں کہ زورونگ کم از کم 90 مریخی دن وہاں گزارے گا۔
یہ روبوٹ امریکی خلائی ادارے (ناسا) کی سپرٹ اور اوپرچونٹی گاڑیوں جیسا دکھائی دیتا ہے جو امریکہ نے سنہ 2000 کے عشرے میں مریخ پر بھیجی تھیں۔
اس کا وزن تقریباً 240 کلوگرام ہے۔ اس میں ایک لمبا سا کیمرا نصب ہے جو تصاویر اتارنے کے ساتھ ساتھ نیویگیشن کے کام بھی آتا ہے۔ اس میں پانچ اضافی آلات مقامی چٹانوں کی معدنیات اور موسم سمیت ماحول کی عمومی نوعیت کے بارے میں معلومات جمع کریں گے۔
موجودہ امریکی خلائی گاڑیوں (کیوراسٹی اور پریزیویرنس) کی طرح زورونگ کے پاس بھی ایک لیزر ٹول موجود ہے تاکہ وہ مریخ کی چٹانوں کو توڑ کر ان کا کیمیائی تجزیہ کر سکے۔ اس میں مریخ کی سطح کے اندر برف کی تلاش کے لیے ایک راڈار بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ پریزیویرنس کے مریخ پر اترنے کی ویڈیوز ناسا نے 18 فروری کو جاری کی تھیں۔