آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرسیویرینس: مریخ پر ناسا کے نئے روبوٹ کی پہلی ڈرائیو
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی خلائی ادارے ناسا کے پرسیویرینس روور نے اپنے پہیوں کا استعمال کرتے ہوئے مریخ کی سطح پر پہلی مرتبہ خود کو ڈرائیو کیا ہے۔
جمعے کو زمین پر پہنچنے والی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈرائیو آگے کی جانب اور پھر ایک موڑ پر مشتمل تھی۔
اس ایک ٹن وزنی روور کو سرخ سیارے پر اترے ہوئے اب دو ہفتے ہو چکے ہیں۔
انجینیئرز نے یہ وقت اس روبوٹ اور اس کے کئی سسٹمز بشمول اس کے مشینی بازو اور آلات کو رواں کرنے میں صرف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرسیویرینس کا مشن مریخ کے خطِ استوا کے قریب موجود جیزیرو نامی گڑھے کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ یہاں پر ماضی میں زندگی کی موجودگی کے شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
چنانچہ اگلے ایک مریخی سال (تقریباً دو زمینی سال) میں یہ روور تقریباً 15 کلومیٹر کا گشت کرے گا۔
سائنسدان اس گڑھے میں موجود متعدد چٹانوں تک پہنچنا چاہتے ہیں جس میں ممکنہ طور پر قدیم حیاتیاتی سرگرمیوں کے آثار موجود ہوں گے۔
اس میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جو سیٹلائٹ تصاویر سے ایک ڈیلٹا کی مانند نظر آتا ہے یعنی وہ مٹی اور معدنیات جو دریائی پانی کی وجہ سے بہہ کر آتی ہیں۔
جیزیرو کے معاملے میں یہ ہو سکتا ہے کہ یہ دریا اس پورے گڑھے پر مشتمل جھیل میں گرتا ہو گا جو اربوں سال پہلے وجود رکھتی تھی۔
مگر پرسیویرینس کو یہ کام کرنے سے پہلے ایک اور تجربہ کرنا ہے۔ اس روبوٹ کو زمین سے لایا گیا ایک چھوٹا ہیلی کاپٹر اڑانا ہے۔
یہ روور اگلے چند ہفتوں میں اپنی موجودہ لوکیشن سے ایک مخصوص میدان تک کا سفر کرے گا جہاں پر انجینیوئٹی نامی یہ ہیلی کاپٹر حفاظت سے زمین پر رکھا جا سکے گا۔
اس وقت یہ ہیلی کاپٹر پرسیویرینس کے نچلے حصے پر نصب ہے۔