نیدرلینڈز: پانچ بچوں کے بعد شیر کی نس بندی کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہReuters
نیدرلینڈز میں ایک شیر کے گزشتہ سال پانچ بچوں کا باپ بننے کے بعد نسبندی کر دی گئی ہے۔
گزشتہ سال اس شیر کی مدد سے دو شیرنیوں نے پانچ بچوں کو جنم دیا تھا۔
اس 11 سالہ شیر کا نام تھور ہے۔ اس کی مدد سے پہلی شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا جبکہ دوسری شیرنی نے ایک ساتھ تین بچوں کو جنم دیا تھا۔
نیدرلینڈز کے شہر ارنہم کے رائل برگرز چڑیا گھر کے چیف ویٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ یہ خود کو افزائش کے لیے مؤثر ثابت کر چکا ہے۔‘
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں شیروں کی آبادی میں 30 سے 50 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو یہ سرجری کرنے والے بین لوٹن کا کہنا تھا کہ اس چڑیا گھر میں اب تھور کا کافی ڈی این اے آچکا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس کے کئی بچے ہیں اور اب ہم یہ نہیں چاہتے کہ اس کی آبادی ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہBURGERSZOO.NL
یہ بات انوکھی اس لیے ہے کہ شیروں کی نسبندی کم ہی سننے کو ملتی ہے۔ لوٹن کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں 35 برسوں سے ویٹنری ڈاکٹر ہوں لیکن میں نے پہلی بار یہ آپریشن کسی شیر پر کیا ہے۔‘
انھوں نے اس شیر کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے بجائے صرف تولیدی صلاحیت سے محروم کیا ہے کیونکہ جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی صورت میں تھور کے گردن کے بال جھڑ سکتے تھے۔
جنسی صلاحیت ختم ہونے کے بعد تھور میں ٹیسٹوسٹرون کی کمی واقع ہوسکتی تھی اور اس طرح وہ اپنے اردگرد کے ماحول میں طاقتورترین نر ہونے کا مقام کھو بیٹھتا۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق شیروں کی آبادی کم ہے اور انھیں معدومیت کا خطرہ درپیش ہے۔












