سروگیسی: برطانیہ میں ایک خاتون نے اپنی سہیلی کا بچہ اپنی کوکھ سے پیدا کر کے اس کی جان بچا لی

ایما اور صوفی

،تصویر کا ذریعہSophie tristram

،تصویر کا کیپشنایما گریوز (بائیں) اور سوفی ٹرسٹرام (دائیں) نے سہیلیاں ہونے کے باوجود ایک ایجینسی کی مدد لی تاکہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون جنھیں ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ حاملہ ہونے پر ان کی جان بھی جا سکتی ہے گذشتہ دنوں ماں بننے میں کامیاب ہو گئی ہیں تاہم اس کے لیے وہ اپنی سہیلی کی شکرگزار ہیں جنھوں نے اپنی کوکھ میں بچے کو نو ماہ رکھ کر جنم دیا۔

برطانیہ کے علاقے ولورہیمپٹن کی رہائشی ایما گریوز نے نومبر میں اپنی سہیلی صوفی ٹرسٹریم کے بچے کو جنم دیا۔ سوفی سسٹک فائبروسس نامی مرض سے متاثر ہیں۔

حالانکہ حاملہ ہونے کے بعد لاک ڈاون کے سبب دونوں سہیلیوں کا سفر آسان نہیں رہا لیکن صوفی نے بتایا کہ ایما نے جو کیا ہے اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ کافی نہیں ہیں۔

سسٹک فائبروسس سے متاثرہ خواتین بچے کو جنم دے سکتی ہیں لیکن صوفی نے بتایا کہ ان کے پھیپھڑوں کو ایک خاص قسم کا بیکٹیریا متاثر کر سکتا تھا جس سے ایک نمونیا جیسے مرض سے جان بھی جا سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

صوفی نے کہا ’ہر عورت سوچتی ہے کہ ایک دن وہ اپنے بچے کو جنم دے گی اور جب مجھ سے کہا گیا کہ میں ایسا نہیں کر سکوں گی تو مجھے سنبھلنے میں وقت لگا۔‘

تاہم اس کے بعد سے صوفی اور ان کے شوہر نے سروگیسی یعنی کرائے کی کوکھ کے بارے میں غور کرنا شروع کر دیا تھا۔

اسی درمیان ایما کے شوہر پال گریوز نے مشورہ دیا کہ اس بارے میں ایما سے بات کی جائے کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنا چاہیں۔

صوفی اور ایما

،تصویر کا ذریعہSophie traistram

،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس نومبر مین ہیری کا جنم ہوا

صوفی نے بتایا کہ ان کی سہیلی ایما کے شوہر نے ایما سے اس بارے میں بات کی اور وہاں سے ان دونوں کا یہ غیر معمولی سفر شروع ہو گیا۔

اس عمل کو انجام دینے کے لیے ایک سروگیسی ایجنسی کی مدد لی گئی۔ جس دن وزیر اعظم بورس جانسن نے برطانیہ میں پہلے لاک ڈاوٴن کا اعلان کیا اسی دن ایما کو پتا چلا کہ وہ حاملہ ہیں۔

لاک ڈاؤن کے سبب ایما کو اپنے تمام میڈیکل چیک اپ کرانے تنہا ہی جانا پڑا، جو ظاہر ہے ان کی سوچ سے زیادہ مشکل تھا۔

صوفی نے بتایا کہ ’ایما نے بہترین انداز میں اس کام کو سرانجام دیا۔ انھوں نے ہمیں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کے بارے میں بتایا، یہ بھی کہ بچے نے پہلی لات کب ماری۔حالانکہ ہم حمل کے ابتدائی دنوں میں اس سے مل نہیں سکے لیکن اس نے ہمیں ہر قدم ساتھ رکھنے کی کوشش کی۔‘

37 برس کی ایما گریوز نے بتایا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ انھوں نے حامی بھرنے سے پہلے اپنی 19 اور 16 برس کی دو بیٹیوں سے بات کی تھی۔

انھوں نے بتایا ’سب کچھ اچھی طرح ہو گیا۔ یہ میرے لیے ایک بہت مثبت تجربہ تھا۔ میں اس سے بہتر تجربے کی امید نہیں کر سکتی تھی۔‘

صوفی اور ایما

،تصویر کا ذریعہSophie tristram

،تصویر کا کیپشنصوفی اور ایما ایک ہی جگہ ساتھ کام کرتی ہیں

انھوں نے کہا ’مجھے پتا تھا کہ میری کوکھ میں صوفی اور بین کا جین تھا اور میرا بچے سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں تھا۔ مجھے صرف اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں محفوظ رکھنا تھا۔‘

ایما نے بتایا ’سب کچھ ویسے نہیں ہوا جیسے ہم نے سوچا تھا۔ ہم نے سوچا تھا کہ ہم ساتھ کہیں باہر جائیں گے اپنا خوب خیال رکھیں گے لیکن اسی درمیان کووڈ پھیل گیا۔‘

’لیکن ایک غیر معمولی برس کے بعد ہیری کی آمد ایک پرمسرت لمحہ تھا۔‘