کرسمس: ملکہ برطانیہ کی ’ہم شکل‘ جو اس سال برطانوی چینل فور پر کرسمس کا پیغام دیں گی

Deepfake Queen

،تصویر کا ذریعہChannel 4

،تصویر کا کیپشنچینل فور کا کہنا ہے اس اقدام کے ذریعے وہ ڈیجیٹل دور میں جعلی خبروں کے متعلق ایک 'سخت انتباہ' دینا چاہتے ہیں

رواں سال برطانوی نشریاتی ادارے چینل فور کی جانب سے کرسمس کے موقعے پر ایک متبادل پیغام برطانوی ملکہ کی ہم شکل کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

جس وقت ملکہِ برطانیہ بی بی سی اور آئی ٹی وی پر اپنا روایتی پیغام دے رہی ہوں گی، ٹھیک اسی وقت ڈیپ فیک سافٹ وئیر کے ذریعے ان کی ڈیجیٹل طور پر تیار کی گئی ہم شکل، چینل فور پر اپنے ’خیالات‘ شیئر کر رہی ہوں گی۔

بکنگھم پیلیس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

چینل فور کا کہنا ہے اس اقدام کے ذریعے وہ ڈیجیٹل دور میں جعلی خبروں کے متعلق ایک ’سخت انتباہ‘ دینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو ابھی تک کافی حد تک قابل اعتماد مگر مکمل طور پر غیر حقیقی ویڈیو مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اور اکثر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس پیغام میں، ڈِیپ فیک، ٹِک ٹوک وائرل ڈانس چیلنج کو آزمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Deepfake detector graphic

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس سال کے شروع میں، مائیکرو سافٹ نے ایک ٹول متعارف کروایا جس کے ذریعے ڈپ فیکس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے

’ملکہ کی نقل‘

پانچ منٹ کے اس پیغام میں متعدد متنازع موضوعات کا حوالہ دیا جائے گا، جس میں ڈیوک اور ڈچس آف سسیکس کا برطانیہ چھوڑنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

اس میں اس سال کے شروع میں ڈیوک آف یارک کے شاہی فرائض سے دستبرداری کے فیصلے کا بھی ذکر ہو گا۔

یاد رہے رواں برس کے آغاز میں ڈیوک آف یارک، شہزادہ اینڈریو نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بتانے کے بعد شاہی فرائض سے دستبرداری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بی بی سی کے شاہی نمائندے نیکولس وِچل اس اقدام سے متاثر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’اس میں بہت بار ملکہ کی نقل کی گئی ہیں اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘

’آواز جیسی ہے، ویسی ہی سنائی دیتی ہے۔۔ یہ ملکہ کی نقل کرنے کی ایک بہت بری کوشش ہے۔ لیکن جو چیز اسے پریشان کن بناتی ہے وہ ان کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کو ویڈیو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی والی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔‘

اگرچہ موجودہ ٹیکنالوجی آواز کے ساتھ نقل تخلیق کرنے اجازت دیتی ہے، لیکن ملکہ برطانیہ کی ڈیپ فیک یا ہم شکل کی آواز کو برطانوی اداکارہ ڈیبرا سٹیفنسن اپنی آواز دیں گی۔

اس سے پہلے سنہ 2020 میں انھوں نے ملکہ برطانیہ پر بننے والے طنزیہ خاکوں میں بھی ان کی شبیہ کو بھی اپنی آواز دی تھی۔

سٹیفنسن کا کہنا ہے کہ ’بطور اداکارہ وہ خاصی پرجوش ہیں لیکن یہ خیال کہ اس پیغام کو دوسرے کن سیاق و سباق میں استعمال کیا جاسکتا ہے، خوفناک بھی ہے۔‘

ملکہ برطانیہ کی اس ڈیپ فیک ہم شکل کو آسکر ایوارڈ یافتہ وی ایف ایکس سٹوڈیو فریم سٹور نے تیار کیا ہے۔

سٹیفینں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناگرچہ موجودہ ٹیکنالوجی آواز کے ساتھ نقل تخلیق کرنے اجازت دیتی ہے، لیکن ملکہ برطانیہ کی ڈیپ فیک یا ہم شکل کی آواز کے لیے برطانوی اداکارہ ڈیبرا سٹیفنسن اپنی آواز دیں گی

کیا ڈیپ فیک کا پتہ لگایا جا سکتا ہے؟

2018 کے اوائل میں ڈیپ فیکس نے پہلی مرتبہ شہرت حاصل کی۔

اُس وقت ایک ڈیویلپر نے سافٹ ویئر بنانے کے لیے انتہائی جدید مصنوعی ذہانت کی تیکنیک کو استعمال کیا جس نے ایک شخص کے چہرے کو دوسرے سے بدل لیا۔

تاہم اس کے بعد یہ عمل بہت زیادہ حد تک قابل رسائی ہو گیا ہے۔

اب ایسی متعدد ایپس موجود ہیں جن میں کسی بھی ہالی ووڈ اداکار کی شکل کا استعمال کرنے کے لیے صارف کو ان کی صرف ایک تصویر کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس سال کے شروع میں، مائیکرو سافٹ نے ایک ٹول متعارف کروایا جس کے ذریعے ڈپ فیکس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

فرم کو امید ہے کہ اس کے ذریعے غلط معلومات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جس تیزی سے ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے، خطرہ ہے کہ اس ٹول کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکے گا۔

ڈیپ فیکس اور انفوکلیپس کی مصنف نینا سک نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔

’اگرچہ یہ سافٹ وئیر انٹرٹینمنٹ سے لے کر مواصلات کی صنعت تک زبردست کمرشل اور تخلیقی مواقع پیش کرتا ہے، لیکن اسے کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی بھی ہے جسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘

چینل فور کے اس کرسمس پیغام کو 25 دسمبر کی دوپہر تین بج کر 25 منٹ پر نشر کیا جائے گا۔