آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا کے سب سے بڑے آئس برگ کی تصاویر کیا کہتی ہیں؟
برطانوی شاہی فضائیہ کے ایک طیارے نے جنوبی بحر اوقیانوس میں بہتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے آئس برگ (برف کے تودے) کی تصاویر حاصل کی ہیں۔
اے 400 ایم نامی ٹرانسپورٹر طیارہ 4200 مربع کلومیٹر کے ایک برفانی تودے کے پاس سے گزرا جسے اے 68 اے ( A68a) کہا جاتا ہے تاکہ اس کی خستہ حالت کا مشاہدہ کر سکے۔
ان تصاویر میں متعدد دراڑیں اور شگاف نظر آئے اور بے شمار برفیلے ٹکڑوں کا اس میں سے ٹوٹ کر گرنے کا پتا چلا جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ نیچے کے پانی تک سرنگیں کھل گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انٹارکٹک یعنی قطب جنوبی کا یہ برفیلا حصہ یعنی برگ فی الحال جنوبی جارجیا کے برٹش اوورسیز خطے میں آتا ہے۔
اے 68 اے اب جزیرے سے صرف 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور امکان یہ ہے کہ یہ اتھلے ساحلی پانیوں میں پھنس سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے برٹش فورسز ساؤتھ اٹلانٹک آئی لینڈ (بی ایف ایس اے آئی) کی نگرانی والی پرواز روانہ کی گئی تھی۔
بی ایف ایس اے آئی کی فیس بک پوسٹ میں 1213 فلیٹ کے کمانڈنگ افسر سکواڈرن لیڈر مائیکل ولکنسن نے بتایا کہ 'مصنوعی سیارے سے گائڈ کیا جانے والا طیارہ اے 400 ایم کسی بھی موسم میں آئس برگ کے کافی قریب سے باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ کر سکتا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'میں جانتا ہوں کہ جب میں بات کر رہا ہوں تو سارے عملے کی جانب سے بات کر رہا ہوں اور میں یہ کہوں گا کہ اس میں شامل ہونا ایک انوکھا اور ناقاقبل فراموش تجربہ تھا۔'
حالیہ ہفتوں میں سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ اے 68 اے کے کنارے تیزی کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔
بے قرار لہروں کی وجہ سے آئس برگ کے بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جنھیں 'برگی بٹس' اور 'گراؤلرز' یعنی برفانی تودے اور ٹکڑے کہا جاتا ہے مسلسل ٹوٹ کر پانی میں گر رہے ہیں۔ لیکن کچھ اتنے بڑے ٹکڑے بھی علیحدہ ہو رہے ہیں جن کی مستقل نگرانی کی ضرورت ہوگی ورنہ یہ بحر اوقیانوس میں جہازوں کی آمدورفت میں خلل کا سبب بن سکتے ہیں۔
اے 400 ایم کی نئی تصاویر جن میں سٹل اور ویڈیو دونوں شامل ہیں کا بغور تجزیہ کیا جائے گا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں برگ کس طرح برتاؤ کرسکتا ہے۔
اے 68 اے فی الحال براہ راست جنوبی جارجیا کی طرف تیزی سے چلنے والے پانیوں کے ساتھ جا رہا ہے جس سے خدشہ ہے کہ آئس برگ کا یہ بڑا حصہ (بلاک) جزیرے کے جنوبی حصے کے پاس والے لوپ میں پھنس جائے گا۔
اس بات میں کافی دلچسپی ہے کہ کیا اس کے بعد برگ اس علاقے کے براعظمی شیلف میں بیٹھ سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو اس جزیرے کے سگ ماہی اور پینگوئنوں کو کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ انھیں سمندر میں مچھلی یا کرل یعنی خول دار قشری کو پکڑنے میں دقت کا سامنا ہوگا۔
جولائی سنہ 2017 میں جب قطب جنوبی کے منجمد برف سے اے 68 اے نامی برف کا بلاک علیحدہ ہوا تھا تو اس کا رقبہ چھ ہزار مربع کلومیٹر تھا یعنی ویلز کا ایک چوتھائی لیکن اب جبکہ کہ اس کا رقبہ ٹوٹ پھوٹ کر 4200 مربع کیلومیٹر رہ گیا ہے تو یہ اب انگلش کاؤنٹی سمرسیٹ کے برابر ہے۔
ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ آئس برگ نے اپنا زیادہ تر حصہ نہیں کھویا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اسے بہت پہلے ہی کئی بڑے ٹکڑوں میں بکھر جانا چاہیے تھا۔